آصف زرداری اور بلاول بھٹو تنازعہ
- ہفتہ 21 / فروری / 2015
- 5594
برصغیر پاک و ہند اور اسلامی ممالک و دیگر ممالک میں یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی شخص طاقتور ، باثر اور مالدار ہو جائے تو وہ اپنی حکمرانی قائم کر لیتا ہے۔طاقت کے نشہ میں وہ مکمل اقتدار چاہتا ہے۔ مغلیہ دور یا عر ب بادشاہت یا کسی دوسرے ملک کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایسے حکمران وہ اپنی حکمرانی اور بادشاہت کو قائم کرنے کی خاطر کسی بھی حدتک جا سکتے ہیں ایسے میں رشتے ثانوی ہوجاتے ہیں۔
باپ ہو ، بیٹا ہو ، بیوی یا کوئی حقیقی رشتہ یا تو وہ اس کو جیل میں ڈلوا دیتا ہے یا پھر اس کو مروا دیتا ہے ۔ یہ سب اقتدار کا نشہ اور کاروباری تجارت جنگ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔اس میں نظریاتی اختلافات نہیں ہوتے ۔ آج کل باپ بیٹے کے درمیان اقتدار کی جنگ کا ایسا ہی تنازعہ اور اختلافات منظر عام پر آ رہے ہیں ۔آصف زرداری اور بلاول کے اختلافات کی پہل پچھلے سال کا وہ واقعہ ہے جو سندھ تھرپارکر میں قحط سالی کے باعث پیش آیا جس میں ہزاروں افراد لقمہ ء اجل بن گئے ۔ اس میں ان حکمرانوں کا ہی قصور تھا جو آج سندھ کے اقتدار پر قابض ہیں بشمول زرداری صاحب کے ۔
بلاول بھٹو نے بطور پارٹی چئیر مین کے چیف منسٹر قائم علی شاہ اور منظور وسان کو مورد الزام ٹھہرایا اور ان کو شوکاز نوٹس جاری کئے ۔ یہ بات زرداری صاحب کو پسند نہیں آئی اور معاملہ اند ہی ر اندر طول پکڑتا گیا ۔ بلاول چونکہ انگلینڈ کا تعلیم یافتہ ہے اور اس کی سوچ سوشلسٹ ہے وہ اپنے نانا اور والدہ کی طرح سوچتا ہے۔اس میں خون تو زرداری صاحب کا ہے مگر سوچ مختلف ہے۔ زرداری نے دو باتیں پہلے ہی بلاول کوسمجھا دی تھیں ایک یہ کہ وہ سندھ کی سیاست سے دور رہیں دوسرا الطاف حسین اور نواز شریف کو کچھ نہیں کہنا۔18 اکتوبر 2014 کا وہ جلسہ جو مزار قائد کراچی میں منعقد ہوا تھا بلاول کا عملی سیاست میں آنے کا پہلا قدم تھا جس میں پارٹی کے تمام سینئیر لیڈر شامل تھے۔ پھر اس جلسے میں الطاف حسین اور نواز شریف کو للکارا گیا اور لفظوں کی جنگ شرع ہو گئی۔
پیپلز پارٹی کے جیالوں سے معافی تلافی بھی کی گئی با خبر ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ بلاول نے اپنے والد سے وزیر اعلیٰ سندھ کو تبدیل کر کے خود کو وزیر اعلیٰ بننے کی خواہش ظاہر کی تھی تاکہ اگلے الیکشن میں وہ مرکزی قیادت کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ زرداری سندھ کی سیاست میں بلاول کے عمل دخل کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ زرداری تو خود سندھ کی حکومت کو چلا رہے ہیں اور اس میں ان کی بہن فریال تالپور اور منہ بولا بھائی اویس ٹپی بھی سندھ کی سیاست میں ملوث ہیں۔ وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ اور ان کی کیبنٹ برائے نام ہیں۔ سارے معاملات براہ راست زرداری اور ان کے خاندان کی نگرانی مین طے پاتے ہیں ۔
پچھلے سات سالہ دور میں ہزاروں، اربوں رو پوں کے ترقیاتی فنڈ کے غبن ہوئے ہیں۔ پچھلے سال کی پانچ سو ارب کی جو گرانٹ وفاق نے انہیں ترقیاتی کاموں کے لئے دی تھی اس کو بھی وہ ہڑپ کر لیا گیا ہے۔ لاڑکانہ کی ترقیاتی اسکیم کے لئے مختص بارہ ارب روپے میں خرد برد کا الزام فریال تالپور پر بھی عائد ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں ان پر کیس ابھی زیر التوا ہے۔ آصف زرداری کے ایک قریبی اور پرانے دوست انور مجید کی گیارہ شوگر ملیں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان میں زرداری کی شراکت داری ہے۔ یہ تمام دولت قومی خزانے اور عوام کے ٹیکس سے حاصل شدہ تھی جو ترقیاتی اسکیموں پر خرچ نہیں کی گئی۔ سابق وفاقی وزیر فیصل صالح حیات نے اس ضمن میں سپریم کورٹ میں مقدمہ بھی دائر کیا تھا۔ رینٹل پاور کیس کا معاملہ اس کے علاوہ ہے۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں زرداری کے خلاف ایسے بہت سے کیسز سپریم کورٹ اور احتساب بیورو کمیشن میں زیر التورا ہیں۔
آصف زرداری کا نعرہ کہ پاکستان کھپے اور مفاہمت کی سیاست کو انہوں نے اپنے اقتدار کے لئے میں خوب استعمال کیا۔ مفاہمت کی سیاست میں اپوزیشن پارٹیوں کے بھی وارے نیارے ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں عوام کی بھوک اور احتیاج میں اضافہ ہوا۔ اس مفاہمت کی سیاست سے نواز شریف نے بھی خوب فائدہ اٹھایا اور اب وہ بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔سندھ کے تمام محکمے مافیا بن چکے ہیں ۔ نیچے سے لیکر اوپر تک تمام لوگ کرپٹ بھرتی کئے گئے ہیں ۔ہر چھوٹی بڑی نوکری نیلام کی جاتی ہے۔ انہیں وجوہات کی بناء آئندہ آنے والے چند مہینے سندھ کی سیاست میں بھونچال پیدا کر سکتے ہیں۔ایک تو باپ بیٹے کی جنگ جس میں حقیقی پیپلز پارٹی کا نیا گروپ بنتا نظر آ رہا ہے۔ جس میں ذوالفقار مرزا اور مخدوم امین فہیم کا کردار اہم ہے۔ یہ دونوں اسی ایجنڈے پر عمل کرنے کے لئے بلاول کو ملنے لندن آئے ہوئے ہیں۔دوسری طرف بلاول بھٹو بھی اپنے کزن مرتضیٰ بھٹو کے بچوں جونئیر بھٹو اور فاطمہ بھٹو سے مسلسل رابطے میں ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینئیر لیڈر بھی بلاول کو واپس سیاست میں لانا چاہتے ہیں۔ چونکہ انہیں پتہ چل چکا ہے کہ زرداری کی مفاہمت کی سیاست نے اصل جیالوں اور پنجاب کو نقصان پہنچایا ہے ۔
یہ لیڈربلاول کو یہ نیا نعرہ دینا چاہتے ہیں کہ بھٹو زندہ ہے ۔۔۔ آج بھی اور کل بھی ۔۔۔ تاکہ اصل پیپلز پارٹی دو بارہ زندہ ہو جائے۔دوسری طرف آصف زرداری بلاول کی بجائے آصفہ کو میدان میں لانا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں ان دونوں بچوں کا قبل ازوقت سیاست میں آنا ناپختگی کی علامت ہوگا۔ عملی سیاست کے لئے ان کو اپنی والدہ محترمہ بے نظیر کی طرح انتظار کرنا ہو گا علاوہ ازیں سابق صدر پرویز مشرف بھی سندھ کی سیاست میں متحرک ہو چکے ہیں ۔تبھی زرداری کہتے ہیں کہ بلا سندھ کی سیاست میں مداخلت کر رہا ہے۔ پرویز مشرف پیپلز پارٹی کو توڑنے اور تمام مسلم لیگیوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کے لئے سر گرم عمل ہو گئے ہیں۔ آنے والے حالات سندھ کی سیاست میں بڑی تبدیلی لائیں گے۔اور بلاول بھٹو کا بھی کردار واضح ہو جائے گا۔