کرکٹ ٹیم کی شکست کے بعد
- اتوار 22 / فروری / 2015
- 5593
جب حکمران ماں اپنے عوام بچوں کو حسبِ ضرورت و استحقاق مامتا ، روٹی اور تربیت نہیں دے پاتی تو بچّے بگڑ جاتے ہیں اور وہ گھر کی انارکی سے اُکتا کر اپنی خوشی گھر سے باہر کھیل کے میدان میں ڈھونڈتے ہیں۔ لیکن جب وہاں بھی حکمران ماں کے بگڑے ہوئے بچّے ہی کھیل رہے ہوں تو وہ تماشائی بچوں کو جیت کی خوشی نہیں دے سکتے ۔ جس پر تماشائی بچّے کھلاڑی بچوں کے خلاف اپنے غم و غُصے کا اظہار کرنے لگتے ہیں ۔ لیکن اصل میں غم و غُصّے کا یہ اظہار کھلاڑیوں کے خلاف نہیں بلکہ حکمران ماں کے خلاف ہوتا ہے ۔
پاکستان کی سر زمین مسجد کے ایک ایسے صحن کا منظر نامہ پیش کرتی ہے جو بھان متی کے کسی کُنبے کی ملکیت ہے ، جن کے بچّے عبادات و مُناجات کے شغل کے بجائے ایک دوسرے پر چیختے چلاتے ، ایک دوسرے سے ہاتھا پائی کرتے اور ایک دوسرے سے مسلسل زور آزمائی میں مصروف رہتے ہیں ۔ بھان متی کُنبوں کا کلچر نوعیت کے اعتبار سے ردِ ثقافت ہوتا ہے ۔ چنانچہ جس قوم کی قومی کرکٹ ٹیم مسلسل ہارتی چلی جاتی ہے ، وہ اُس قوم کی غلط انتظامی پالیسیوں کی گواہی رقم کر رہی ہوتی ہے ۔
ٹیموں کی ہار جیت کھیل کے میدان میں معمول کی بات ہوتی ہے ۔ میچوں کے فیصلے اسی طرح ہوتے ہیں کہ کسی ٹیم کو ہارنا ہوتا ہے اور کسی کو جیتنا اور اگر برابر کی چوٹ ہو تو مچ برابر رہتا ہے ۔ یہ معمول کی بات ہے لیکن ۔ ۔ ۔
پاکستان کا نوعمر الیکٹرانک میڈیا اور اُس کے نا تجربہ کار اور جلد باز مبصر کھیل میں ہار کو قوم کے لئے ایک نفسیاتی صدمہ بنا کر پیش کرتے ہیں اور اپنی ناقص جذباتی آراء کو پورے ملک کے لوگوں کے اعصاب پر طاری کر کے اُن کو شدید ڈیپریشن کا مریض بنا دیتے ہیں ۔
پاکستان میں الیکٹرانک ٹیلی کاسٹنگ کی تاریں زیادہ پرانی نہیں ۔ زیادہ لمبے عرصے کی بات نہیں جب ملک میں صرف پی ٹی وی ہؤا کرتا تھا ۔ میں برسہا برس تک پی ٹی وی کے لاہور سنٹر سے بطور میڈیا رائٹر منسلک رہا ۔ متعدد بروگرام ، بیسیوں گانے اور بہت سی دستاویزی فلموں کے سکرپٹ مرتب کرنے کے علاوہ بطور کامپیئر ، جسے آج اینکر کہا جاتا ہے ، پنجابی ادبی پروگرام " نویں رُت " کا میزبان رہا ۔ اُس زمانے میں بھی بحث مباحثے ہؤا کرتے تھے مگر تب میڈیا کوئی پرائمری سکول نہیں تھا ، جہاں غلط زبان بولنے والے بچّے اور ایسے ڈاکٹر جنہیں کَش اور کُش کا فرق بھی معلوم نہیں ، سیاست کے گیسو سلجھاتے ہوں ۔ تب ریٹنگ کے چکر میں چیونٹی کو ہاتھی بنا کر پیش نہیں کیا جاتا تھا اور نہ بچوں کی طرح " پہلے میں نے خبر سنائی " کی گردان سنائی دیتی تھی ۔
ابلاغ کا شعبہ اگر غلط زبان بولنے اور غلط خیالات پھیلانے والوں کا یرغمال بن جائے تو قوم کی فکری صحت خراب ہو جاتی ہے ۔ اور پھر میڈیا کے یہ بیمار بچّے اس خرابی ء صحت کو مزید بگاڑتےچلے جاتے ہیں ۔ مگر ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ہر شخص خواہ وہ سیاست دان ہو ، تجزیہ نگاری کا تمغہ سینے پر سجائے پھرتا ہو یا پیشہ ور صحافی اینکر ہو ، شر کے اسی چکر میں گرفتار ہے ۔ شر کے اس چکر کو اینگلو پاکستانی کلچر میں ویشس سرکل کہتے ہیں ۔
یہ سرکل وہ زنجیر ہے جس نے ایک قوم کو پچھلی چھ دہائیوں سے اپنی آہنی گرفت میں لے رکھا ہے مگر قوم کے دانشور اسے بھی اعزاز سمجھ کر اس کے صدقے واری جا رہے ہیں اور ایک دوسرے کو گواہ بنا کر قوم کو یقین دلا رہے ہیں کہ ان زنجیروں کی جھنکار جنّت کے رنگ منچ سے آنے والی اُلوہی موسیقی ہے جو موجودہ فکری حکمرانوں اور سیاستدانوں کے لیے نیک فال ہے اور وہ دن دور نہیں جب پاکستانی کرکٹ ٹیم تاحیات جیت کی ٹرافی لے کر پاکستان کو کرکٹ کا بے تاج بادشاہ بنادے گی ۔ اِلا ماشا اللہ ۔
شکر ہے کہ ابھی علماء کے طبقے نے پاکستانی ٹیم کی شکست کو یہود و ہنود کی ساش قرار نہیں دیا ورنہ ایک اور جہاد شروع ہوجاتا ۔ سب جانتے ہیں کہ قوم کی دعاؤں سے قومی ٹیمیں فاتح نہیں بنتیں ۔ فتح کا میڈل جیتنے کے لیے کھیل کی اعلیٰ صلاحیتیں اور مسلسل مشق شرط ہے کیونکہ اللہ کا کسی نالائق سے کوئی وعدہ نہیں کہ وہ اسے بغیر مکمل تیاری کے جیت کا حق دار بنا ئے ۔ اللہ کے ہاں صرف اعمال کی جزا کا قانون ہے کہ جو اچھا کھیلے گا وہی جیتے گا ، خواہ وہ جرمنی ہو ، سری لنکا ہویا پاکستان ۔
تو بچو ! قائد اعظم کی بات یاد رکھو : کام ، کام اور کام ۔
اور کرکٹ میں کام کا مطلب ہے ایمانداری سے پریکٹس اور پریکٹس اور پریکٹس جس کا حاصل اعلیٰ مہارت ہے ، اور میں اینکر یا ٹی وی مبصر نہ ہوتے ہوئے بھی بشارت دیتا ہوں کہ ذمہ داری اور دیانتداری سے کی گئی پریکٹس کا ثمر پاکستانی ٹیم کی جیت ہو گا اور وہی میری اور آپ سب کی خوشی ہے ۔
اہلِ پاکستان کی خدمت میں ناروے سے آداب ، تسلیمات اور بے پناہ محبت !