سیاست زدہ پولیس

  • منگل 24 / فروری / 2015
  • 5753

دنیا بھر میں شہریوں کے جان ومال اور انہیں ہرقسم کے ظلم اور زیادتی سے تحفظ فراہم کرنا ریاستی ذمہ داری ہوتی ہے تاکہ شہری اپنی روزمرہ سرگرمیاں بے خوف وخطر خوش اسلوبی سے انجام دے سکیں ۔ لیکن پاکستان میں اس حوالے حکومتی اقدامات صفر ہیں۔ عوام کو جرائم پیشہ عناصر سے نہ صرف خوف زدہ ہیں بلکہ انہیں پولیس سے بھی ڈر لگارہتا ہے۔

حالانکہ پولیس کے خلاف شکایات پر کارروائی کیلئے پولیس آڈر 2002 ء میں پبلک سیفٹی کمیشن بنایاگیاہے لیکن وہ تاحال غیر فعال ہے جس کی بنیادی وجہ بلدیاتی انتخابات کا نہ ہونا ہے ۔ اس کمیشن میں منتخب کونسلروں کی نمائندگی کو لازم قرار دیاگیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 240 اے کے تحت حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے کی پابندہے ۔سپریم کورٹ 5 سال سے ملک میں بلدیاتی الیکشن کیلئے ہدایات پر ہدایات دے رہی ہے لیکن اس کے احکامات پر عمل درآمد کرانے میں حکومت مسلسل پہلو تہی کررہی ہے جو اس بات کی غمازی ہے کہ حکومت کے سامنے عدالتی احکامات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ 1860سے جوپولیس سسٹم نافذالعمل ہے اس میں عوام کو پولیس سے بچانے کاکوئی طریقہ کارموجود نہیں ۔ پولیس ریکروٹ کرنا جس کا اختیار ہے اسے ٹھیک رکھنا بھی اسی کی ذمہ داری ہے لیکن ہمارے یہاں اس حوالے سے کسی قسم کا نظام موجود نہیں کہ ہر کوئی اپنے اوپر ہونے والے ظلم کیخلاف عدالت آسکے۔

لوگوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے کے خلاف قانون ویسے ہی بہت ناقص ہے جبکہ آج تک کسی بھی اہلکارکو جھوٹا مقدمہ درج کرنے پر کسی قسم کی سزابھی نہیں دی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے پولیس آڈر غیر موثر ہوچکاہے ۔ پولیس اس قدر سیاست زدہ ہوچکی ہے کہ بااثر افراد لیبارٹری رپورٹس پر اثرانداز ہوتے ہیں اور با آسانی سیاسی بنیادوں پر پولیس اہلکاروں کے تبادلے اور تعیناتیاں ہورہی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ہم آج بھی نوآبادیاتی دور میں رہ رہے ہیں۔ پولیس سیاست زدہ کیسے ہے آئیے اس کاجائزہ لیتے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ محکمہ پولیس میں اول تو بھر تیاں سیاسی اثرو سوخ کی بنیاد پر ہوتی ہیں یا پھر رشوت کے عوض لوگ بھر تی ہوتے ہیں، جن کا مطمع نظر بھر تی ہونے کے بعد قانون کی عمل داری نہیں ہوتا بلکہ پیسے بٹورنا ہوتا ہے۔ اس مقصد کیلئے وہ ہرناجائز اور غیر قانونی طریقہ استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ اپنا لگایا ہواسرمایہ وصول کرسکیں۔ ساتھ ہی اپنے لئے مراعات اور آسائشوں کا بندوبست بھی
کرسکیں ۔ سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہونے والے افسران اور اہلکار سیاسی جماعتوں کو ہرطرح کا فائدہ پہنچانے کے پابند ہوتے ہیں۔ ان بھر تیوں سے ایک طرف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو سیکیورٹی کے مسائل نہیں رہتے دوسری جانب وہ قانون کو اپنے گھر کی لونڈی بھی بنالیتے ہیں جس سے وہ اپنی ضروریات اور مفادات کا سہل ترین راستہ پالیتے ہیں ۔

ستمبر 2013ء میں سندھ حکومت نے کراچی میں بڑھتے ہوئے جرائم کی بیخ کنی کیلئے وفاق کی مدد سے ٹارگٹ آپریشن کا کا آغاز کیا، پولیس کو ہر طرح کے اختیارات دینے کا فیصلہ کیا گیا اور مکمل طورپر غیر جانبدار کردار ادا کرنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے۔ لیکن جوں ہی آپریشن شروع ہواکئی سیاسی جماعتوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جانے لگا اور اس آپریشن کو انتقامی کارروائی قرار دیدیا گیا۔ اس وجہ سے سے آپریشن متاثر ہوا اور کراچی شہر میں امن بحال ہونے کی بجائے مسائل میں مزید اضافہ ہوگیا۔ نفری کی کمی اور اسلحہ ودیگر ضروری سامان کی عدم فراہمی نے بھی اس آپریشن کو بھرپور نقصان پہنچایا ۔ آپریشن چیف ڈی آئی جی آپریشن شاہد حیات اس ذمہ داری سے ہٹادئے گئے جو سیاسی مصلحت پسندی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی پولیس ایک بار پھر سیاسی جماعتوں کے نرغے میں ہے ۔

پنجاب پولیس کی حالت یہ ہے کہ وہ آج تک سیاسی یرغمال بنی ہوئی ہے اور لگتا ہے کہ وہ آئندہ بھی کبھی سیاستدانوں کے چنگل سے آزادنہیں ہوسکے گی۔ بلوچستان اور خیبر پختوانخوا میں پولیس سے زیادہ دیگر قانون نافذ کرنے والوں کی اجاراداری قائم ہے۔ جس کی وجہ سے پولیس اہلکار صرف وردیوں میں ملبوس جی حضوری کرتے ہوئے حکومتی اراکین کے درپر پہریداربن کر رہ گئے ہیں۔ اگر ہم یہ کہیں کہ ملک بھر میں پولیس کا کردار ایک غیر موثر ہوچکا ہے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا ۔ ہمیں آج تک نہیں معلوم ہوسکا کہ سابق گورنرسندھ حکیم محمد سعید، میرمرتضیٰ بھٹو، مفتی نظام الدین شامزئی، مفتی محمد جمیل ، بے نظیر بھٹو سمیت کئی سیاسی ومذہبی رہنماؤں ، علماء کرام، ڈاکٹرز اور دیگر اہم شخصیات کا قاتل کون ہے ۔

المیہ یہ ہے کہ پولیس اول تو تحقیقات کرنے سے ہی قاصر ہے کیونکہ اس کے کام میں اس قدر رخنہ اندازی کی جاتی ہے کہ وہ سرا ڈھونڈنے میں طویل عرصہ گزار دیتی ہے اور اگر بالفرض محال تحقیقاتی رپورٹ منظر عام آ بھی جاتی ہے تو اسے سیاسی دباؤ کا شکار ہوناپڑتا ہے جس کے سبب اس تحقیق کی اصل روح ختم ہو جاتی ہے۔ جس طرح بلدیہ ٹاؤن کی آتشزدگی پر جے آئی ٹی رپورٹ کا حال ہوا ہے ۔ مل سرکاری اطلاعات کے مطابق گذشتہ چند برسوں کے دوران ہزاروں مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار گیا جن میں سے اکثریت کو عدالت کے روبرو پیش نہ کیا جاسکا۔ اس کی بنیادی وجہ پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ٹھوس ثبوت کا نہ ہونا تھا ۔ اب یہ توطے ہے کہ جب استغاثہ کمزور شہادتوں کے ساتھ عدالت جائے گا تو عدالت کے پاس اور کوئی چارہ نہیں کہ وہ ملزم کو بے گناہ قرار دیدے ، چاہے اس نے کوئی جرم کیا ہے یانہیں ۔

حال ہی میں پولیس کی ایذا رسانیوں اور ایف آئی آر نہ درج کرنے کی شکایت پر مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی آبزویشن میں کہا گیا ہے کہ ظلم کا شکار افراد کی شکائیتوں کا ازالہ نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کا ریاست کے نظام سے اعتماد اٹھ رہاہے اور ان میں ناامیدی بڑھ رہی ہے جس کا نتیجہ معاشرے میں تشددکی شکل میں نظر آر ہاہے۔ کئی دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کی حفاظت سیاستدان کرتے ہیں اور پولیس ان کا تحفظ پولیس کرتی ہے۔ یہ رویہ معاشرے کے توازن کو خراب کرنے کا سبب ہے۔ ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری ، اغواء برائے تاوان سمیت کئی واداتوں کی بنیادی وجہ پولیس کا جانبدارانہ کردار ہے۔ لوگوں کی داردسی کرنے والے دادا گیری ہراتر آئے ہیں۔ شریف شہری راہ چلتے ہوئے پولیس کو دیکھ کر خوف زدہ اور جرائم پیشہ افراد بے خوف وخطر گذرجاتے ہیں ۔

مک میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پولیس کو خاص قسم کی تربیت دینے کے اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن کورکمانڈ سندھ لیفٹینٹ جنرل نوید مختار نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی تربیت اسی وقت سودمند ثابت ہوسکتی ہے کہ جب پولیس کو ہر قسم کے دباؤ سے آزاد ہوکر کام کرنے دیا جائے۔ یعنی پولیس کا قبلہ درست کرنے سے قبل ملک میں قیام امن کا سوچنا سراسر دھوکہ ہے۔ اس لئے وزیراعظم پاکستان سمیت صوبائی وزرائے اعلیٰ، وفاقی وصوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی پولیس کو اپنے پروٹوکول سے آزاد کردیں اور اپنی شان و شوکت اور اپنی پسند و ناپسند سے پولیس کو متاثر کرنا بند کریں۔ تب ہی صورتحال میں بہتری ممکن ہے ورنہ جتنا بھی زور لگا لیا جائے دہشت گردی کا پہاڑ اپنی جگہ کھڑارہے گا اور اس کی لعنت سے قوم کا مستقبل تابناک ہونے کی بجائے مزید تاریکی میں دھنستا چلا جائے گا۔