یورپ میں عورتوں کی تجارت

  • منگل 24 / فروری / 2015
  • 5148

برطانیہ کے اخبار آبزرور نے خبر دی ہے کہ برطانیہ میں اسمگل شدہ خواتین کی نیلامی کی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بیرون ملک سے خواتین کی اسمگلنگ کے خلاف وسیع پیمانے پر کئے جانے والے آپریشن میں یہ روح فرسا انکشاف ہوا ہے کہ ان میں سے بعض کو نیلامی کے ذریعے فروخت کیا گیا ہے۔ خریدنے والے نے کچھ ہی دنوں بعد انہیں قحبہ خانوں میں جبری جسم فروشی پر مجبور کر دیا۔ کیمبرج شائر میں پولیس نے 73مشتبہ جسم فروش اڈوں پر چھاپے مارے، سات خواتین کو پہلے ہی برآمد کیا جا چکا ہے۔ ان میں کچھ تو بہت زیادہ زخمی بھی تھیں۔ عورتوں کے نازک جسم پر زخموں کے یہ تحفے قحبہ خانوں سے فراریت کی ناکامی کا تحفہ تھا۔

آج کے مہذب معاشرہ میں خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والا گھناؤنا سلوک، ہیبت ناک شرمناک اور خوفناک ہے۔ اسمگل شدہ خواتین کا جبری استحصال اور جسم فروشی کا دھندا گاؤں سے بڑے شہروں تک پھیلا ہؤا ہے۔ انہیں کمرے سے باہر جھانکنے کی آزادی تک نہیں ہوتی اور ایک دن میں تقریباً 50سے 60افراد کی ہوس پوری کرتی ہیں جس سے اسمگلنگ میں ملوث افراد کو ہزاروں پاؤنڈ کی آمدنی ہوتی ہے۔

برطانیہ کے وزیر داخلہ نے پولیس فورسز اور سیریس و آرگنائزڈ کرائم برانچ (سوکا) کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس جرم کو اپنی ترجیحات میں سب سے اوپر لائیں کہ ہزاروں بچوں اور عورتوں کو ’’جدید غلامی‘‘ میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ میرے حساب سے یہ سب مشرقی یورپ سے درآمد شدہ ہے۔ مشرقی یورپ کے جرائم پیشہ افراد اسے مغربی یورپ میں لے آئے ہیں بالخصوص برطانیہ میں جہاں یہ جرم اس قدر بڑے پیمانے پر ہے کہ پولیس اور ’’سوکا‘‘ اپنے ایک چوتھائی وسائل اسٹریٹ کرائمز اور عورتوں کی اسمگلنگ سے نمٹنے پر خرچ کر رہے ہیں۔ حکومت نے جنسی تجارت کیلئے انسانی اسمگلنگ کے خلاف ایک مہم کا آغاز کیا ہؤا ہے جس کا نام ’’ پنیٹامیٹر 2 ‘‘ ہے اس کوڈ نام سے شروع کئے جانے والے اس آپریشن کا مقصد خواتین اور بچوں کو جنسی تجارت کیلئے مجبور کرنے والے گروہوں کے سرغنوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ اس گھناؤنے کاروبار کا شکار ہونے والوں کی مدد اور اس مسئلے کے حوالے سے عوامی آگاہی بڑھانا، برطانیہ میں پیدا ہونے والے بچوں کی فروخت کے مسائل اور اس سے منسلک مجرم گروہوں کی نشاندہی کرنا ہے۔

گزشتہ برس بھی اس طرزکا چار ماہ پر محیط آپریشن شروع کیا گیا تھا جس میں 135 افراد پر انسانی اسمگلنگ سمیت دیگر الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی تھی جبکہ 500 قحبہ خانوں، مساج پارلروں، گھروں اور دیگر جگہوں سے 90 کے قریب عورتوں اور لڑکیوں کو بازیاب کرایا گیا تھا۔ ان میں سے نصف کے لگ بھگ خواتین مشرقی یورپ، مشرق بعید اور جنوبی امریکہ سے آئی تھیں۔ اس آپریشن کے نتیجہ میں ایک مستقل یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جس کے تحت ’’ساکا‘‘ کے افسران اور پراسیکیوٹرز کو ایک دوسرے سے منسلک کیا گیاتھا۔

جرائم کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ’’ وہ منظم جرائم کو اب اسلحہ اور منشیات سے جسم فروشی میں تبدیل ہوتا دیکھ رہے ہیں اور ان گروہوں کے چنگل میں پھنسی خواتین کا اس دلدل سے نکلنا بہت مشکل ہوتاہے‘‘۔ نیلام ہونے والی عورتوں کے ساتھ ایک نگران ہوتا ہے مختلف گروہوں کے لوگ جانوروں کی طرح اس کا جائزہ لیتے ہیں پھر ’’بولی‘‘ شروع ہوتی ہے اور بعض اوقات تو یہ بولی کی رقم بے حد معمولی یعنی ایک ہزار یورو ہوتی ہے (یاد رہے کہ ہالینڈ میں کم سے کم گزارہ الاؤنس ایک ہزار یورو کے لگ بھگ ہے) مغربی یورپ اور برطانیہ لائی جانے والی زیادہ تر خواتین مشرقی یورپ، افریقہ اور مشرق بعید سے تعلق رکھتی ہیں۔ جنہیں سوشلزم کی چھتر چھاؤں سے نکالنے کے بعد بہتر زندگی اور روزگار کا جھانسا دیا جاتا ہے۔ لیکن مغربی یورپ پہنچنے کے بعد ان سے پاسپورٹ اور دوسری تمام دستاویزات لے لی جاتی ہیں اور پھر اکثر ان کو نہایت غلیظ مکانوں میں رکھا جاتا ہے۔ بعد میں ان کو نیلام گھروں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق مشرقی یورپ افریقہ اور مشرق بعید سے حالیہ اسمگل شدہ دس ہزار عورتوں کو برطانیہ میں فی کس ڈھائی ہزار پونڈ کے عوض منظم گروہوں کو فروخت کیا گیا ہے اور اس وقت وہ جنسی غلامی میں بندھی ہوئی ہیں۔ جرائم پیشہ سنڈیکیٹ نے نامعلوم تعداد میں عورتوں اور بچوں کو پانچ سے دس ہزار پونڈ کے عوض بانڈ لیبر میں فروخت کر دیا ہے۔

ادھر ایک رپورٹ کے مطابق پولینڈ اور رومانیہ سے تارکین وطن کے ایک سیلاب کی وجہ سے یورپ اور بالخصوص برطانیہ میں جرائم میں خوفناک اضافہ ہو گیا ہے اس سے برطانیہ کے ہوم آفس اور پولیس کے یہ خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں کہ جرائم پیشہ افراد پولینڈ اور رومانیہ سے لندن منتقل ہو رہے ہیں۔ پولیس کو تشویش ہے کہ جرائم پیشہ افراد دس سال سے کم عمر کے بچوں کو استعمال کر رہے ہیں جن کے خلاف مقدمہ قائم نہیں کیا جاسکتا۔ جرائم کی یہ کمائی واپس رومانیہ بھیجی جا رہی ہے۔

ادھر رومانیہ کی پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ رومانیہ کے جرائم پیشہ لوگ برطانیہ بھاگ گئے ہیں (جیسے کچھ عرصہ قبل کیوبا سے جرائم پیشہ افراد امریکہ بھاگ گئے تھے) اور یہ لوگ جرائم سے جو کمائی کرتے ہیں، رقم رومانیہ کے بینکوں میں جاتی ہے۔ ان سے لگژری کاریں اور بنگلے خریدے جاتے ہیں۔ رومانیہ کی پولیس انہیں ضبط کرنا چاہتی ہے لیکن شواہد کی عدم موجودگی میں ایسا نہیں کر سکتی۔ رومانیہ اور بلغراد سے 75ہزار سے زیادہ جرائم پیشہ برطانیہ منتقل ہو چکے ہیں۔ حکام کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ سب جاننے کے باوجود انہیں ملک سے باہر رکھا جائے۔

لندن کے اخبار گارڈین کے مطابق حکومت جسم فروشی کے قوانین میں تبدیلی کے حوالے سے تبادلہ خیالات کر رہی ہے تاکہ جسم فروشی کیلئے معاوضہ دینے والے مردوں پر بھی مقدمات قائم کئے جا سکیں اور جسم فروشی کیلئے لائی جانے والی عورتوں کی اسمگلنگ کی بڑھتی ہوئی لہر کو روکا جا سکے۔ ایسوسی ایشن آف چیف پولیس آفیسرز کے پریزیڈنٹ نے مسئلے کو گھمبیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کاروبار میں بھاری رقم حاصل ہوتی ہے انہوں نے اس کو اخلاقی اور قانونی غلامی قرار دیا۔

میرے حساب سے جنسی تجارت کا یہ مسئلہ مغرب کا اپنا پیدا کیا ہؤاہے۔ مشرقی یورپ میں سوشلزم کے ہوتے ہوئے وہاں ایک بھی ایسا جرم پیدا نہیں ہؤا تھا۔ سرمایہ دارانہ نظام کی خوبیوں میں سے ایک خوبی جنسی تجارت بھی ہے ۔ سو اب مغرب کو تلخ سچائیوں کا سامنا کرنے، انہیں پہچان کر قبول کرنے اور پھر اسے نقصان دہ ہونے کا اعلان کرنے کا حوصلہ ہونا چاہئے۔

ہم نہ کہتے تھے نہ عاشق ہو اب اتنا تو بتا
جا کے ہم روتے ہیں پہروں پس دیوار کہ تو