اقبال اور تصور پاکستان (1)
- بدھ 25 / فروری / 2015
- 6387
یہ عمومی طور پرتسلیم کا جاتا ہے کہ علامہ اقبال تصورپاکستان کے خالق تھے جبکہ 1930 کو مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں علامہ اقبال کے صدارتی خطاب کو اسکی بنیاد کہا جاتا ہے۔ کیاعلامہ اقبال کے اس خطاب سے قبل کسی مفکر، دانشور یا سیاستدان نے اس موضوع پر کچھ لکھا یا کہا تھا یا پھر برصغیرکی تاریخ میں اقبال ہی پہلے مفکر یا سیاستدان تھے جنہوں نے متحدہ ہندوستان میں مسلم ہندو مسلئے کا ایسا حل تجویز کیا تھا جس نے آگے چل کرتحریک پاکستان کو نظریاتی بنیاد فراہم کی۔
کیا قائد اعظم نے تحریک پاکستان کے دوران یا پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد کہیں تسلیم کیا ہو یا یہ تذکرہ کرنا مناسب سمھجا ہو کہ تحریک پاکستان کی سیاسی اور نظریاتی راہنمائی کی بنیاد علامہ اقبال کا یہ خطبہ تھا۔ قائد اعظم کی زندگی میں منعقد ہونے والے مسلم لیگ کے کسی اجلاس میں کسی تقریر، تحریر یا قرارداد سے یہ اظہارہوتا ہو جس میں علامہ اقبال کو تصور پاکستان کا خالق مانا گیا ہو اوراس سلسلہ میں انکی بے مثال خدمات پر خراج تحسین پیش کیا گیا ہو۔ اس مضمون میں ان سوالات کا تاریخی حقائق اور دستاویزات کے حوالے سے جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس مضمون میں دئے گیے حوالہ جات مستند کتابوں سے لئے گئے ہیں اور ان کو بغیر کسی ردوبدل کے پیش گیا ہے۔
اصل موضوع کی جانب بڑھنے سے قبل علامہ اقبال کی سیاسی زندگی کا مختصر جایزہ لینا بھی ضروری ہے۔
ڈاکٹر جاوید اقبال “ زندہ رود “ میں لکھتے ہیں کہ علامہ اقبال نے 1926 سے پیشتر عملی سیاست میں حصہ نہ لیا تھا۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کے مطابق 1926 کی پنجاب کونسل کے انتخاب میں کامیابی کے بعد اقبال نے سر فضل حسین کی قائم کردہ یونینسٹ پارٹی کی رکنیت اختیار کر لی تھی اور اقبال 1927 سے 1930 تک پنجاب کی قانون ساز کونسل کے رکن رہے۔ یہ تین سال انہوں نے یونینسٹ پارٹی کے اندر رہ کر اس جماعت کے طریقہ کار کو بغور دیکھا۔۔۔۔۔۔ عملی سیاست میں قدم رکھنے کے سبب وہ اسی سال پنجاب صوبائی مسلم لیگ کے سیکریٹری بن گئے۔
ہندوستان میں دستوری اصلاحات کے لئےحکومت برطانیہ نے نومبر 1927 کو سائمن کمیشن کا اعلان کیا جس کے تمام اراکین انگریز تھے۔ جناح اور دیگر سیاسی راہنماؤں نے کمیشن کی تشکیل پراعتراض کیا کیونکہ سائمن کمیشن میں کسی ہندوستانی کو شامل نہ کیا گیا تھا۔ جناح اور دیگرراہنماؤں نے بعد ازاں سائمن کمیشن کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا تھا۔
اس وقت پنجاب مسلم لیگ کے صدرسرشفیع اور سیکریڑی علامہ اقبال تھے جو سائمن کمیشن سے تعاون کرنے کے حامی تھے۔ جس بنا پر انہوں نے جناح سے راستے جدا کرکےعلیحدہ مسلم لیگ قائم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ دسمبر 1927 کو مسلم لیگ دو حصوں میں بٹ گئی۔ ایک جناح لیگ کہلائی اوردوسری شفیع لیگ۔ شفیع لیگ کے صدر سرمحمد شفیع جبکہ علامہ اقبال سیکریٹری قرار پائے۔ یاد رہے جناح انگریزحکومت کی من مانی پالیسی کی وجہ سے سائمن کمیشن سے تعاون کرنے کے شدید مخالف تھے جبکہ اقبال انگریز حکومت کی منشا کے مطابق سائمن کمیشن کی ہیئت ترکیبی اور اس سے تعاون کرنے کے حامی تھے۔
سر شفیع کی انگریز حکمرانوں سے وفاداری کوئی ڈھکی چھپی بات نہ تھی۔ انکے سائمن کمیشن سے تعاون کرنے کے موقعہ پر مولانا محمد علی اپنے اخبار “ ہمدرد “ میں لکھتے ہیں:
“ سرشفیع سے بھلا یہ کیونکر ممکن ہے کہ کسی وائسرائے کی رائے سے ہم رائے نہ ہوں۔ انہوں نے وفاداری کا راگ گانا شروع کر دیا ہے۔ یہ پنجاب کی بد قسمتی ہے کہ سرمحمد اقبال جیسے لیڈر بھی شفیع جیسے وفادار کو اپنی آزاد خیالی کی سطع تک نہ ابھار سکے بلکہ برخلاف اس کے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود بھی سرشفیع کی وفاداری کی پست سطح پر اتر آئے ہیں “۔ زندہ رود صفحہ 382 ۔
1927 میں مسلم لیگ سیاسی اور فکری خلفشارکا شکارہو کر دو حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ پنجاب مسلم لیگ نے سرشفیع اورعلامہ اقبال کی قیادت میں انگریزوں سے وفاداری نبھاتے ہوئے جناح کے خلاف اعلان بغاوت کر دیا تھا۔ واضع رہے کہ اس ٹوٹ پھوٹ کے بعد ایک طویل عرصہ تک مسلم لیگ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ہندوستان میں قدم نہ جما سکی۔
جناح کی قیادت کو کمزور کرنے اورمسلم لیگ کو مزید دھچکے دینے کے لئے آل پارٹیزمسلم کانفرنس وجود میں لائی گئی اوراقبال اس کے بانیوں میں سے تھے۔ جناح کی مسلم لیگ کے سوا تمام مسلم جماعتوں نے اس کانفرنس میں شرکت اختیار کی۔ جناح نے آل پارٹیزمسلم کانفرنس کی حثیت کو چیلینج کرتے ہوئے مسلم لیگ کو ہندوستان کے مسلمانوں کی واحد نمایندہ جماعت بنانے کا عزم ترک نہ کیا اور آل انڈیا مسلم کانفرس کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا تھا۔
29 دسمبر1928 کوآل پارٹیز مسلم کانفرنس کا اجلاس زیرصدارت آغا خان دہلی میں منعقد ہوا ، جس میں ہندوستان کے مسلمانوں کے مطالبات پرمبنی ایک قرارداد منظور کی گئی۔ جناح نے اس قرارداد کو قبول کرنے کی بجائے اپنا فارمولا دیا جو جناح کے 14 نکات کے نام سے مشہورہؤا اور بعد ازاں یہ 14 نکات مسلمانان ہند کے مطالبات قرارپائے۔
جناح نے موقعہ پرستانہ اورمصلحت کوش سیاست سے خود کو علیحدہ رکھا۔ بالآخر سرشفیع اورعلامہ اقبال بھی جناح کی قیادت تسلیم کرنے پرمجبورہو گئے اور 28 فروری 1930 کو مسلم لیگ دوبارہ متحد ہو گئی۔ مگر مسلم لیگ کے فکری، سیاسی اورتنظمی انتشار، خصوصا پنجاب مسلم لیگ کی انگریز نواز پالیسی کی وجہ سے جناح ذہنی پریشانی کا شکار تھے اوربلآخرانہوں نے ترک وطن کرکے انگلستان میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔
“ اقبال کے آخری دو سال “ کے مصنف عاشق حسین بٹالوی لکھتے ہیں کہ یونینسٹ پارٹی ، مسلم لیگ کی حریف پارٹی تھی ۔ جس کے دروازے ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں، اچھوتوں اور مسیحیوں پر یکساں کھلے تھے ۔
بٹالوی مزید لکھتے ہیں کہ فضل حسین کے حیرت انگیز اثرورسوخ نے جناح کو بے دست و پا بنا کر رکھ دیا۔ اور آخر اس یاس و حرماں اور شکست خوردگی کے احساس ہی نے انہیں وطن ترک کرنے اورانگلستان میں مستقل اقامت اختیار کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ بٹالوی مزید لکھتے ہیں کہ جب 1929 میں مسلم لیگ کا زور توڑنے کے لئے آل انڈیا مسلم کانفرنس وجود میں آئی ڈاکٹر اقبال اس کانفرنس کے بڑے سرگرم رکن تھے۔ پہلے اس کی مجلس عاملہ کے ممبر اور پھر اس کے صدر بن گئے تھے۔ یہاں یہ نشاندہی ضروری ہے کہ سرفضل حسین پنجاب یونینسٹ پارٹی کے لیڈر تھے اوراقبال اس پارٹی کی اہم راہنما سمجھے جاتے تھے۔
1930 میں جناح ہندوستان سے ہجرت کرکے انگلستان سکونت اختیار کر چکے تھے اوراقبال ابھی تک یونینسٹ پارٹی سے مستعفی نیہں ہوئے تھے۔ یہ حالات تھے جب دسمبر 1930 کو مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس علامہ اقبال کی صدارت میں آلہ آباد میں منعقد ہوا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ قائد اعظم سمیت مسلم لیگ کے کئی سرکردہ راہنما اس اجلاس میں شریک نہ ہوئے تھے۔ بلکہ جب علامہ اقبال نے اپنا تاریخی خطبہ دیا تو اجلاس کا کورم بھی پورا نہ تھا۔ پیرزادہ۔ صفحہ۔ 85۔
مسلم لیگ کے اس اجلاس میں علامہ اقبال کے صدارتی خطاب کو تصورپاکستان سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کو بنیاد بنا کراقبال کو تصورپاکستان کا خالق کہا جاتا ہے۔ اقبال نے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: “ مسلمانوں کا یہ مطالبہ قطعاٌ منصفانہ ہو گا کہ ہندوستان کے اندر ایک مسلم انڈیا قائم کیا جائے۔ میں یہ دیکھنا پسند کروں گا کہ پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ایک مملکت میں مدغم کر دیا جائے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ سیلف گورنمنٹ ، خواہ یہ سلطنت برطانیہ کے اندرہو یا سلطنت برطانیہ کے باہر ہو، اور ایک مربوط شمال مغربی ہندی مسلم ریاست کی تشکیل بالآخر مسلمانوں کی ۔۔۔ کم از کم شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کی تقدیر ٹھرے گی۔۔۔۔۔۔ اس سے مسلمانوں کا احساس ذمہ داری مضبوط ہو گا اور جذبہ حب الوطنی فروغ پائے گا۔ اگر شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ بھر پورموقعہ دیا جائے کہ وہ ہندوستان کے نظام سیاست میں رہ کر نشونما کرسکیں تو وہ ہندوستان کے خلاف تمام حملوں کی صورت میں، چاہے یہ حملہ بزور قوت ہو یا بزور خیالات، ہندوستان کے بہترین محافظ ثابت ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔ خود اختیار یعنی سیلف گورننگ، ریاستوں کے سپرد ہونے چاہیں۔ مرکزی وفاقی ریاست کے سپرد صرف ایسے اختیارات ہونے چاہیں جو تمام وفاقی ریاستیں واضع طور پر بخوشی اس کے سپرد کریں “۔
اقبال کے اس خطاب میں ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے کسی آزاد یعنی سوونر اسلامی مملکت کا تصور پیش نیہں کیا گیا۔ اس میں آسام اوربنگال اکثریتی مسلم علاقوں اور ریاست جموں اور کشمیر کا کوئی ذکر نیہں۔ اقبال اپنی تقریر میں شمال مغربی ہندوستان میں مسلم اکثریتی علاقوں کو ایک ریاست میں ضم کرکے وفاق ہندوستان کے دائرے میں ایک خود مختاریونٹ تشکیل دینے کی تجویز پیش کر رہے ہیں۔
“ پاکستان کی سیاسی تحریک “ کے مصنف زاہد چوہدری لکھتے ہیں: “ علامہ اقبال کے خطبہ سے ظاہر ہے کہ انہوں نے دسمبر 1930 میں پنجاب، سندھ، سرحد اور بلوچستان کو ضم کر کے وفاق ہندوستان کے دائرے میں ایک خود مختار یعنی آٹونومس ریاست قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ اس کی بنیاد دراصل کسی نئے تصور پر نہ تھی۔ علامہ کے اپنے بیان کے مطابق “ 1927 میں آل پارٹیزکانفرنس منعقدہ دہلی کی قراردادوں سے اسی بلند نصب العین کا اظہار ہوتا تھا “ اور پھر 1928 میں نہرو کمیٹی کے رو برو بھی یہ تجویز پیش کی گئی مگر اس نے اسے مسترد کر دیا۔ اسی سال یعنی 1928 میں ہی پنجاب میں سر فضل حسین کی یونینسٹ پارٹی کے ترجمان اخبار انقلاب میں مرتضے خاں میکش کے نام سے ایک سلسلہ مضامین شائع ہؤا جن میں یہی مطالبہ کیا گیا تھا۔ علامہ اقبال ان دنوں پنجاب کونسل میں یونینسٹ پارٹی کے رکن تھے اور جب 1930 میں انہوں نے یہ خطبہ پڑھا اس وقت تک انہوں نے یونینسٹ پارٹی سے استعفی نہیں دیا تھا “۔
ایڈورڈ ٹامسن کے نام 4۔ مارچ 1934 کے ایک خط میں اقبال اپنے 1930 کے خطبے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “ پاکستان میری سکیم نیہں ہے۔ جو تجویز میں نے اپنے خطبے میں پیش کی تھی وہ ایک مسلم صوبے کے قیام کی تجویز تھی۔ یعنی شمال مغربی ہند میں ایک ایسے صوبے کی تشکیل جہاں مسلمانوں کی واضع اکثریت ہو۔ میری سکیم کے مطابق یہ نیا صوبہ آئیندہ کی انڈین فیڈریشن کا حصہ ہو گا۔ لیکن “ پاکستان “ سکیم مسلم صوبوں کی ایک علیحدہ فیڈریشن کے قیام کی سفارش کرتی ہے۔ جس کا براہ راست تعلق انگلستان سے ایک علیحدہ ڈومینین کی صورت میں ہوگا۔ یہ سکیم کیمبرج میں بنائی گی ہے “۔ زندہ رود صفحہ 482۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ پاکستان کا لفظ اوراس نام کے ایک آزاد ملک کا منصوبہ پہلی بار چوہدری رحمت علی نے 1933 میں پیش کیا۔ یاد رہے کہ چوہدری رحمت علی نے کیمبرج میں پاکستان کے حصول کے لئے پاکستان نیشنلسٹ موومنٹ قائم کر رکھی تھی اوراقبال اس منصوبہ کے کھلے مخالف تھے۔
1936 اور 1937 کے دوران علامہ اقبال کے جناح کو لکھے گئے مراسلات کو بعض دانشوروں کے نزدیک تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ اقبال نے اس دوران جناح کو مسلم لیگ کی پنجاب میں تنظیم نو، لیگ کے سیاسی اور نظریاتی لائحہ عمل، دستور اور پروگرام میں تبدیلی کےلئے متعدد مشورے دئے۔ کیا یہ مشورے یک طرفہ ہی رہے یا قائد نے ان خطوط کے جوابات بھی لکھےاور اقبال کے مشوروں پر کس قدرعمل کیا یا کہ ان مشوروں کو قائد نے درخوراعتنا ہی نہ سمجھا۔ یہ ایک الگ بحث کا موضوع ہے۔
30۔ اکتوبر 1937 کو قائد کو لکھے گئے ایک خط میں اقبال لکھتے ہیں: “ ہمیں مسلمانوں کی تنظیم کے لئے اپنی تمام ترقوتیں ہمیشہ سے زیادہ گرم جوشی کے ساتھ وقف کر دینی چاہیں اور اس وقت تک چین نہ لینا چاہے جب تک پانچ صوبوں میں مسلمانوں کی حکومت قائم نہیں ہو جاتی اور بلوچستان کواصلاحات نہیں ملتیں “ ۔ 297۔ تحریک آل انڈیا مسلم لیگ
تاریخی دستاویزات کی ورق گردانی کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کی اقبال وہ پہلے یا واحد مفکر نہ تھے جنہوں نے برٹش انڈیا میں مسلم ہندو مسلئے کے حل کے لئے خودمختار صوبوں کے قیام کی تجویز پیش کی ہو۔ اقبال کے سیاست میں سر گرم ہونے سے قبل مسلم لیگ کے معروف لیڈر نواب ذوالفقار علی، مولانا حسرت موہانی اور آریہ سماجی ہندو نیشنلسٹ لیڈر لالہ لاجپت رائے انڈیا میں خود مختار مسلم ریاستوں کی تجویز پیش چکے تھے۔ بقول ڈاکٹرجاوید اقبال، بھائی پرمانند، پروفیسر جی۔ آر۔ ابھیا نکر اور نواب ذوالفقار علی ایسی ہی تجاویز اقبال سے پہلے پیش کر چکے تھے۔ زندہ رود۔ صفحہ 491۔
30 دسمبر 1929 کو خلافت کانفرنس کے اجلاس منعقدہ لاہور میں نواب زولفقار علی خاں نے تقریر کرتے ہوئے کہا: “ ہندوستان کی آزادی اور ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ مسلمانوں کو شمالی ہند میں ایسا علاقہ دے دیا جائے جو دو یا تین صوبوں پرمشتمل ہو یا انہیں مدغم کر کے ایک صوبہ بنا دیا جائے۔ اسی طرح مشرقی ہند میں بنگال کی ایسی ہی تقسیم کر دی جائے “ ۔ زندہ رود صفحہ 402۔
نواب ذوالفقار علی کے اس بیان سے تقریبا 5 سال قبل ہندوستان کی مذہبی بنیادوں پرتقسیم کا نظریہ لالہ لاجپت رائے نے 1924 میں پیش کیا۔ گانگریسی اورآریہ سماجی لیڈر لالہ لاجپت رائے نے لاہور کے ایک اخبار ٹریبون میں 1924 کوایک آرٹیکل
“The Hindu-Muslim problem (part II – Some suggestions for political improvements)”
میں لکھا ۔
“Maulana Hasrat Mohani has recently said that the Muslims will never agree to Indias having Dominion status under the separate Muslim states in India, united with Hindu states under a National Federal Government. He is also in favour of smaller states containing compact Hindu and Muslim population. If communal representation with separate electorate is to be rule, then Maulana Hasrats scheme as to smaller provinces seems to be the only workable proposition. Under my scheme the Muslims will have four Muslim states: 1. The Pathan province or NWF, 2. Western Punjab, 3. Sindh and Eastern Bengal. If there are compact Muslim communities in any other part of India, sufficiently large to form a province, they should be similarly constituted. But it should be distinctly understood that this is not a united India. It means a clear partition of India into a Muslim India and a non-Muslim India.”
“ پاکستان کی سیاسی تحریک “ کے مصنف زاہد چوہدری لکھتے ہیں کہ یہ حقیقت دلچسپی سے خالی نیہں کہ جو پاکستان 1947 میں وجود میں آیا وہ لالہ لاجپت کی سکیم کے عین مطابق تھا۔ چنانچہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تصورپاکستان کا ابتدائی خالق کوئی مسلمان مفکر نہ تھا۔ بلکہ پنجاب کا ایک آریہ سماجی لیڈر تھا۔ جس کہ سینے میں اسلام اورمسلمانوں کے خلاف نفرت اورعداوت کا بے پناہ جذبہ موجزن تھا “۔ صفحہ 143۔
زاہد چوہدری مزید لکھتے ہیں: “ اقبال نے ہندوستانی وفاق کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک خود مختار وفاقی مسلم ریاست یا ریاستوں کا تصور پیش کیا تھا اس کا اس تصور سے کوئی تعلق نیہں جس کی بنیاد پر 14۔اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آیا تھا۔۔۔۔۔ علامہ اقبال کے خطبہ کے کسی حصہ سے بھی یہ ثابت نیہں کیا جاسکتا کہ ان کے ذہن میں کلی طور پر ایک آزاد اور خود مختار یعنی سوونراور انڈی پنڈنٹ، اسلامی مملکت کے قیام کا تصور تھا “۔ صفحہ۔181۔
زاہد چوہدری لکھتے ہیں کہ یہ کہنا کہ اسلامی مملکت پاکستان کا تصور دراصل پہلی مرتبہ علامہ کے اس تاریخی خطبہ میں پیش کیا گیا تھا ، تاریخ کو مسخ کرنے کی اس سے بد ترمثال شاید ہی کہیں اور ملے۔ صفحہ۔ 174۔
(جاری ہے)