اقبال اور تصور پاکستان (2)
- جمعرات 26 / فروری / 2015
- 9178
ڈاکٹر جاوید اقبال، زندہ رود میں لکھتے ہیں: “ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ تحریک پاکستان کے بعض لیڈرخود ہی اقبال کو مسلم ریاست کے تصور سے الگ تھلگ ر کھنا چاہتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں اس کی مثال مسلم لیگ یا تحریک پاکستان کے ایک نامور لیڈراورقائد اعظم کے دست راست ایم۔ اے۔ ایچ۔ اصفہانی کی تحریر کے حوالے سے پیش کی جاسکتی ہے۔ اصفہانی لکھتے ہیں کہ اس بات سے بلا شبہ انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ڈاکٹر اقبال کی فکر، شاعری اور خطبات بھی اس سمت اشارہ کرتے تھے لیکن یہ کہنا کہ وہ مسلم ریاست کے تصور کے خالق تھے تاریخ کو مسخ کرنا ہے “۔ صفحہ۔ 455 ۔
جاوید اقبال کہتے ہیں کہ اصفہانی دراصل شریف الدین پرزادہ، ڈاکٹراشتیاق حسین اور تحریک پاکستان کے ایک نمایاں راہنما چودھری خلیق ا لزمان کی تحریروں سے متاثر معلوم ہوتے ہیں۔ شریف ا لدین پیرزادہ کی تحقیق کے مطابق اقبال سے قبل کئی ا نگریز، مسلم اور ہندو مفکر، مسلم ہندو تنازعہ کے حل کے لئے خود مختار ریاستوں کے قیام کی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم کی بات کر چکے تھے۔ اس کے مطابق 1917 میں ڈاکٹرعبدالجبارخیری اور پروفیسرعبدالستارخیری نے اسٹاک ہوم کی سوشلسٹ انٹرنیشنل کانفرنس میں ایک تحریری بیان میں کہا تھا کہ ہندوستان کے ہرصوبے کو خودمختاری کا حق دیا جانا چاہے۔ تاکہ مسلم اورہندو اکثریتی صوبے علیحدہ علیحدہ وفاق قائم کرسکیں۔ 1924 میں مولانا حسرت موہانی نے تجویز پیش کی کہ شمال مغرب کے مسلم اکثریتی صوبوں کو مدغم کر کے ایک صوبہ بنا دیا جائے اور اسے ہندوستان کے وفاقی نظام میں ایک وحدت کی پوزیشن حاصل ہو۔ صفحہ۔ 452۔
ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اپنی تصنیف “ پاکستان کی جدوجہد “ میں لکھتے ہیں کہ اقبال سے پیشتر بر صغیر میں مسلم ریاست کا تصور پیش کرنے والوں میں جمال الدین افغانی، چوھدری رحمت علی، ڈاکٹر جبار خیری، پروفیسر ستارخیری، عبدالقادر بلگرامی، لووٹ فریزر، ساورکر، لالہ لاجپت رائے، سردار گل خان، مولانا محمد علی اور آغا خان کے نام شامل ہیں۔ زندہ رود۔ 453۔
ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، شریف الدین پیرزادہ اور چوھدری خلیق ا لذمان کی اس تحقیق کے جواب میں ڈاکٹر جاوید اقبال صرف اتنا کیہ سکے کہ اقبال نے مسلم ریاست کی تجویز پیش کرنے سے قبل اس کے لئے ایک فکری اور نظریاتی اساس فراہم کی اور پھر جب تک ان کی زندگی نے وفا کی اسے وجود میں لانے کے لیے عملی جدوجہد کرتے رہے۔ لیکن باقی شخصیات نے اس سلسلے میں کون سی ایسی خدمات انجام دیں۔ صفحہ۔45
تاریخی حقایق ڈاکڑ جاوید اقبال کے اس دعویٰ کی مکمل نفی کرتے ہیں۔ کیونکہ اقبال کی زندگی میں چوہدری رحمت علی کی پاکستان موومنٹ کے علاوہ کسی تحریک پاکستان کا وجود نہ تھا جس کے لئے اقبال جدوجہد کرتے رہے بلکہ وہ اعلانیہ چوہدری رحمت علی کی پاکستان موومنٹ کے مخالف رہے ہیں۔ اور دوسری جانب جناح کی قیادت میں مسلم لیگ متحدہ ہندوستان کے اندر رہتے ہوئے مسلمانوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہی تھی۔ جس کا دستاویزی ثبوت قائد اعظم کے چودہ نکات اور بعد ازاں 1937 کے الیکشن کے لئے مسلم لیگ کا انتخابی منشور ہے۔ جس میں میثاق لکھنو کی روشنی میں مسلم ہندو اتحاد کو اجاگر کرنے بات کی گئی تھی۔ اس سے متعلقہ بعض اہم حقائق کا ذکر بھی اس مضمون میں کیا گیا ہے۔
قائد اعظم 1934 کو انگلستان سے واپس انڈیا لوٹ آئے اور مسلم لیگ کی قیادت انہیں ایک بار پھر سونپ دی گئی۔ 1935 کے انڈیا ایکٹ کے نفاذ کے بعد 1937 میں صوبائی انتخابات ہونے قرار پائے۔ برٹش انڈیا میں 1937 کے صوبائی انتخابات اور انکے نتیجہ میں پیدا شدہ صورت حال نے آئندہ آنے والے حالات کا رخ متعین کرنا شروع کر دیا تھا۔
عاشق بٹالوی لکھتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ جب سے مسٹرجناح انگلستان سے واپس آئے تھے ان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہی تھی کہ 1916 کے میثاق لکھنو کی طرح کانگرس اورمسلم لیگ کے درمیان کوئی پائدارمفاہمت ہو جائے تاکہ ہندواورمسلمان مل کر آزادئ وطن کی تحریک میں حصہ لے سکیں۔ اس کے ثبوت میں بٹالوی قائد کی ڈھاکہ میں 8۔ جنوری 1937 کو کی گئی تقریر کا حوا لہ دیتے ہیں۔ جس میں قاید نےکہا: “ جداگانہ انتخاب کے باوجود اوران مشکلات کے باوجود جن کا آج ملک کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ہندو اورمسلمان متحد ہو کر ایک پارٹی بنا سکتے ہیں۔ بشرطیکہ ہم ایک ایسی مشترکہ پالیسی اور پروگرام وضع کر سکیں جس پر ہندواورمسلمان اسمبلیوں کے اندراور باہرعمل پیرا ہوسکیں “۔
عاشق حسین بٹالوی لکھتے ہیں: “ پنجاب مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی بورڈ نے جو مینی فیسٹو شائع کیا اس کا پروگرام بھی کم و بیش انہی خطوط پر مرتب کیا گیا تھا “۔ یاد رہے کہ اقبال اسوقت پنجاب مسلم لیگ کے صدر تھے اور پنجاب لیگ کا الیکشن مینیفسٹوعلامہ اقبال کی براہ راست نگرانی میں مرتب کیا گیا تھا۔
یہاں یہ تذکرہ کرنا اہم ہو گا کہ آل انڈیا مسلم لیگ کا الیکشن منشور لیگ کی آیندہ پالیسی اورسرگرمیوں کا سنگ بنیاد تھا۔ مسلم لیگ نے 1937 کے الیکشن کیلئے میثاق لکھنو کے تحت مسلم ہندو مفاہمت، ہندوستان میں مسلم اکثریتی اوراقلیتی صوبوں میں مسلم عوام کے سیاسی، قانونی، معاشی اور ثقافتی مسائل کو مد نظر رکھ کر اپنا لائحہ عمل مرتب کیا۔ جسکا اظہار مسلم لیگ کے الیکشن منشوراور اس دوران جناح کی تقاریرمیں نظر آتا ہے۔ مسلم لیگ اور جناح متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کا منشورلے کرمیدان میں آئے تھے۔ اس الیکشن میں پاکستان کے نام کا ذکر یا ہندوستان سےعلیحدہ ہو کر کسی الگ ملک کا تصور، مطالبہ یا اس کا کسی طرز یا سطع پراظہارنظر نہیں آتا۔
ان انتخابات میں کانگرس کی غیرمتوقعہ کامیابی نے آیندہ آنے والے حالات کا پانسہ پلٹ کر رکھ دیا۔ مسلم لیگ ان انتخابات میں کوئی خاطرخواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ مگر جناح یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گے کہ صرف مسلم لیگ ہی مسلمانوں کی واحد نمایندہ جماعت ہے کیونکہ لیگ ہی مسلمانوں کی واحد جماعت تھی جس نے مسلم نششتوں پر تقریبا پورے ملک میں اپنے نمائندے کھڑے کئے تھے۔ کانگرس قیادت کی رعونت اورغیرمفاہمتی پالیسی نے ہندوستان کی سیاست کو ایک نئے رخ پہ ڈال دیا جس سے نہ صرف مسلم لیگ اورکانگرس کی قیادت میں فاصلے بڑھنےشروع ہو گئے بلکہ مسلم اورہندوعوام میں اختلافات کی خلیج وسیع ھونے لگی۔
کانگرس کےصوبوں اورملک میں بلا شرکت غیرے حکومت کرنے کے جنون اور مسلم لیگ کے بارے معاندانہ پالیسی کیوجہ سے ہندوستان کے مسلمانوں میں بے چینی، عدم تحفظ اورغصے کی لہر دوڑنے لگی اور اپنے حقوق کے تحفظ کے متعلق خد شات پیدا ہونے شروع ہو گئے۔
الیکشن کے بعد قائد اعظم مسلم لیگ کی خودمختارحثیت برقرار رکھتے ھوئے کانگرس کے ساتھ صوبائی وزارتوں میں مسلم لیگ کی شمولیت چاہتے تھے۔ مگرکانگرس کی قیادت مسلم لیگ کی آزادنہ پارلیمانی حثیت تسلیم کرنے کی بجائے اسکو ختم کرکے کانگرس میں ضم کرنے کی شرط پرحکومت میں شامل کرنے کی پالیسی پربضد تھی۔ کانگرس کے اس طرزعمل سے ہندوستان کے حالات کس قدرخطرناک رخ پر چل پڑیں گے اسکا اندازہ شائد اسوقت کانگرس اورمسلم لیگ کی قیادتوں کو بھی نہ تھا۔
انتخابات کے کچھ عرصہ بعد 21۔ اپریل 1938 کو علامہ اقبال انتقال کر گئے۔ اقبال کے انتقال کے بعد مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس دسمبر 1938 کو قائد اعظم کی صدارت میں منعقد ہؤا جسمیں ایک قرارداد کے ذریعےعلامہ اقبال کو مندرجہ ذیل الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا: “ آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس سرمحمد اقبال مرحوم کے اسلام کا ایک فلسفی صوفی و قومی شاعر ہونے کی حیثیت سے ان کی خدمات کی تحسین کرتا ہے۔ مسلمانوں کو انہوں نے یہ پیغام پہنچایا تھا کہ وہ اپنے ماضی کی روایات سے اپنے مستقبل کو بنائیں “۔ یہاں پراقبال کے کسی مسلم ریاست کے تصور کے خالق ہونے کا کوئی ذکر نیہں۔
علامہ اقبال کی رحلت کے تقریبا دو سال بعد مسلم لیگ کا تاریخی اور یاد گاراجلاس مارچ 1940 کو لاہورمیں مزار اقبال سے چند قدموں کے فاصلے پرمنعقد ہؤا۔ جسمیں تاریخی قرارداد لاہور منظور کی گئی۔ جسے بعد ازاں قرارداد پاکستان کا نام دیا گیا۔ اس قرارداد میں بھی آزاد پاکستان کا مطالبہ پیش نہیں کیا گیا تھا مگر یہ قرارداد آگے چل کر تحریک پاکستان کا سنگ بنیاد ثابت ہوئی۔ حیران کن بات ہے کہ اس قرارداد میں، قائد اعظم یا کسی اور لیگی لیڈر نے کسی تقریریا تحریرمیں اقبال یا انکے اس خطبے کا اشارتاٌ بھی ذکر نہیں کیا۔ نہ ہی اس اجلاس میں اقبال کے تصورپاکستان کا خالق ہونے کا اعتراف کیا گیا۔ یہ حقیقت بھی توجہ طلب ہے کہ قائد اعظم اور مسلم لیگ کی قیادت نے چند قوموں کے فاصلہ پرموجود مزاراقبال پرحاضرہوکرتصورپاکستان پیش کرنے پراقبال کا شکریہ ادا کرنے اور خراج عقیدت پیش کرنے کی بھی زحمت گوارا نہ کی۔
ایک اوراہم تاریخی حقیقت جو قابل غور ہے کہ علامہ اقبال کے 1930 کے خطاب کے بعد اور قیام پاکستان تک آل انڈیا مسلم لیگ کے کسی اجلاس یا قائد اعظم کی کسی تنظیمی یا پبلک تقریر یا تحریر میں اقبال کے اس خطبے کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا اورنہ ہی اس خطبے کو تصور پاکستان کی بنیاد قرار دیا گیا۔ قائد اعظم کی حیات میں ایسا کوئی دستاویزی ثبوت یا شہادت نیہں ملتی جس سے یہ اخذ کیا جاسکے کہ مسلم لیگ یا قائد اعظم نےعلامہ اقبال کے تصور پاکستان کا خالق ہونے کا اعتراف کیا ہو۔
علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب کب دیکھا اور یہ کہ وہ تصور پاکستان کے خالق تھے تاریخ کے صفحات اس کی شہادت پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ تصورپاکستان یا پاکستان کے حوالے سے جو باتیں بغیر تاریخی ثبوت کے علامہ اقبال سے منسوب کی جاتی ہیں وہ علامہ اقبال کے ساتھ سراسر ناانصافی تو ہے ہی مگر تاریخ مسخ کرنے کی ایسی بھونڈی مثال شاید کیہں اور نظر نہ آئے۔ بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ پاکستانی ریاست نے کچھ دانشوروں کی ملی بھگت سے یہ سب کچھ قائد اعظم کے انتقال کے بعد تخلیق کیا اورمتعارف کرایا گیا۔ اس وقت پاکستانی ریاست کے کرتا دھرتا افراد کو یہ نظریہ کیوں اپنانا پڑا اور انہیں اسکی ضرورت کیوں محسوس ہوئی، یہ ایک الگ موضوع ہے۔
آخر میں یہ واضع کرنا بہت ضروری ہے کہ اردو اورفارسی شاعری میں علامہ اقبال کو وہ مقام حاصل ہے جو صدیوں میں بھی شاید کسی کو نصیب نہ ہوتا ہو۔ گذشتہ صدی اورعصرحاضرمیں انکے پائے کے شاعر اور مفکر پوری مسلم دنیا میں بہت کم پیدا ہوئے ہیں۔ علامہ اقبال کی ایک طویل عرصہ عملی سیاست سے کوئی خاص دلچسپی نہ رہی اور ان کا برصغیرکی عملی سیاست میں سرگرم دورانیہ تقریبا 10 سال تک محیط رہا ہے۔ اس لئے تاریخ میں انکے منفرد اوراعلی مقام کو انکے مختصر سیاسی کردار کے حوالے سے معین کرنا مناسب نیہں ہے۔
حوالاجات۔
1 ۔ “ زندہ رود “ مصنف ڈاکٹر جاوید اقبال۔ 2 ۔ “ پاکستان کیسے بنا “ مصنف، زاھد چوھدری۔ 3۔ “ اقبال کے آخری دو سال “ مصنف، عاشق حسین بٹالوی۔ 4۔ “ تاریخ آل انڈیا مسلم لیگ “ مصنف، ڈاکٹرسرفراز حسین اورحنیف شاہد۔ ناشر نظریہ پاکستان ٹرسٹ۔ 5 ۔ “ مسلم لیگ کا قیام “ مصنف، شریف ا لدین پرزادہ۔