بچوں میں ٹراما کا علاج
- ہفتہ 28 / فروری / 2015
- 5762
سانحہ پشاور ملکی واقعات میں ایک بدترین واقعہ ہے جس میں دہشت گردوں نے پورے اسکول کو یرغمال بناکر سفاکی سے اساتذہ بچے اور غیر تدریسی عملہ کو موت کے گھاٹ اتارا ۔ بچوں کی آنکھوں کے سامنے بے رحمی سے قتل و غارت ایک گھناؤنا کام ہے۔ اس واقعے کے بعد والدین کا جوحال ہوا وہ سب کے سامنے تھا جبکہ اس سانحہ کی آڑ میں تقریباً تمام سیاسی تنظیموں نے ایک بار پھر اپنی سیاست میں رنگ بھرنا شروع کردیئے ۔ ہر سطح پر شدید مذمت کے بیانات آنے شروع ہوگئے۔
میڈیا کی بھی توجہ تھر کے مثاثربچوں سے فوری طور پر ہٹ کرمکمل طور پر یہاں مبذول ہوگئی جبکہ اسی صوبے کے ضلع باجوڑ کے بچے بھی یہاں بلکل نظر انداز ہوگے جو کچھ عرصے پہلے ہی ایک ڈرون حملے میں غلطی سے ہلاک ہوگئے تھے۔ آرمی پبلک اسکول کے حملے میں ہلاک بچوں کے ساتھیوں اور والدین میں میڈیاپر چلتی تصاویر دیکھ کر غم وغصہ پایاگیا۔ البتہ اس غصہ کا توڑ کرنے کے بجائے موم بتیاں جلاکر معاملہ ختم کردیا گیا ۔ اگر ہم بات کریں کہ ان بچوں کی غصہ وتکلیف کی، جنہوں نے اپنے اساتذہ واپنے ساتھیوں کو مرتے ہوئے دیکھا جبکہ انہیں خود بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور ساتھ ہی انکے والدین کا، جنہوں نے اپنے لخت جگر کی لاشیں اپنے ہاتھوں سے اٹھائی ہوں ان کاکیا حال ہواہوگا ۔
سانحہ پشاور جیسے حادثات عموماً نفسیاتی طور پر psychologically ایک خاص قسم کا disorder ہے اور اسکی کچھ علامات بہت عام ہوتی ہیں جسے post traumatic stress disorder کہا جاتا ہے ۔ یہ disorder عموماًقدرتی آفات،ریپ threatened with weapon اور جانی حادثاتی واقعات کے بعد عمل میں آتا ہے ۔ mantal disorder ایک ماہ کے دوران anxity, disociatveاور دیگر علامات کے ساتھ ظاہرہوا کرتاہے۔شروع میں یہ acute stress disorder کے نام سے تشخیص ہوتاہے اس میں ٹراما کے بعد فرد بے چینی محسوس کرتا ہے ۔ وہ کسی بھی ایسے واقعے کو لے کر flashbacks اور nightmares (خواب) میں ذہنی طورپر تنگ ہوتاہے ۔
جذباتی responces میں اس فرد کواس ٹراماوالی جگہ سے disasociateکرنے لگتاہے جبکہ حادثے والی جگہ سے اسکاڈرنابھی ایک علامت ہے۔ اس کے علاوہ social gathering میں نہیں جا پا تا جس کی وجہ سے وہ socially isolateہوجاتاہے۔ اس مرض میں ایک علامت بہت عام ہوتی ہے جو hightened autonomic arousalrg کہلاتی ہے۔ اس میںirritability sleep distrubance،poor control ، over aggressive impulse اور hyper vigilance جیسے عوامل شامل ہیں ۔
یہ ذہنی مرض کسی بھی خطرناک حادثے کے بعد مردوں میں6.7 فیصد جبکہ عورتوں میں 8.8 فیصد پایا جاتاہے ۔ ریپ کے کیسزمیں یہ شرح مردوں میں 65 فیصداور عورتوں میں 45.9 فیصد تک ہوجاتی ہے اور اسکا prevalence rate lifetime مردوں میں 25 فیصد اور عورتوں میں 13.8 فیصد پایاجاتاہے ، عموماً اس طرح کے واقعات کے بعد لوگ anxiety اور depresion کابہت جلدی شکار ہوجاتے ہیں جس کی وجہ risicfactr کے ptsd میں اضافہ ہوجاتا ہے ، جولوگ prone anxiety اور painprone یعنی neulatic ہوتے ہیں وہ اسکا جلدی شکار ہوتے ہیں عموماًجوبچے late iso socially ہوتے ہیں انہیں بھی ptsd کاخدشہ زیادہ رہتاہے۔
ان تمام معاملات کو اگر وقت پر حل نہ کیا جائے اور انکا بروقت علاج نہ ہو توآگے جاکر یہ بڑے بڑے ذہنی امراض میں مبتلا ہوسکتے ہیں ۔ اسکے عمومی علاج اور اسکے حل کیلئے چند مشورے مندجہ ذیل ہیں سب سے پہلے مثاترہ فرد کو بدترین خوف سے آگاہ کیا جائے اسکے بعد اس خوف کی علامتوں سے پیچھا چھڑانے کیلئے جو کم درجے low seveity کی ہوں اور پھر رفتہ رفتہ بہت بڑے خو ف high seveity کی جانب اس سے پوچھ گچھ کی جائے۔ اس عمل کا مقصد اس خوف کاردعمل جاناجائے اور اس ردعمل کے بارے میں مزید اسکی جڑ معلوم کی جائے۔ اسکی سب سے بڑی یہ ہوتی ہے کہ فرد کوئی بھی غصہ anxiety کے ساتھ cope کیاجائے اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی غم وغصے کی صورت میں فرد نے معاملات کو کیسے deal کرنا ہے۔ آیاکہ وہ کسی بھی ایسی صورت حال کر دیکھ کر جذباتی ہوجاتا ہے اسکے معاملات کو حل کرنے کی طرف سوچتا ہے اور اپنے آپ کو سمجھنے اور معاملات کو حل کرنے کی جانب پیش رفت ہورہی ہے۔
اگر فرد کسی بھی چیز پر جذباتی علامات ظاہر کرے تو اسکومزید کاؤن کگ کی ضرورت پڑتی ہے عموماً ایسی کاؤن کگ انفرادی طور پر بھی ہوتی ہے اور افراد کے زیادہ ہونے پر اسے گروپ کی شکل میں بھی کیاجاتا ہے ۔ کاؤنکگ کا فوکس فردکی یاداشت پر ہوتا ہے اور اسکو رفتہ رفتہ آسان راہ کیجانب لے جایا جاتا ہے تاکہ اسکی ان یادوں کی شدت کم کی جائے جو اس عموماًپریشان کررہی ہوتی ہیں ۔ نفسیات کے اصولوں کے مطابق ہر فرد ایک دودسرے فردسے مختلف ہوتا ہے اور اسکے علاج کے لئے مختلف تکنیک استعمال کی جاتی ہیں۔
یہاں بات پشاور اسکول کے حملے کی ہو رہی ہے، تو تمام علاج کیلئے ضروری ہے کہ بچوں کی تمام سائیکو تھراپی اسی اسکول میں کی جائےتاکہ وہ ا سکے عادی ہوجائیں اورا سکی شدت کم ہوسکے ۔ جبکہ ضرورت اور شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے انفرادی کائنکگ کی ضرورت بھی پڑے گی۔ ان بچوں کو اسی طرح نارمل زندگی کی طرف واپس لایا جا سکتا ہے۔