میں ہوں چارلی سے محمد فیسٹیویل تک
- ہفتہ 28 / فروری / 2015
- 5544
کل جمعے کی شام درامن تھیٹر میں آزادئ اِظہار کے موضوع پر ایک سیمنار منعقد ہؤا اور سہ پہر دو بجے سے رات کے آٹھ بجے تک آزادئ اِظہار کے موضوع پر کارٹونوں کی نمائش منعقد ہوئی ۔ اس نمائش اور سیمینار کا اہتمام ایک ایرانی نژاد وکیل بنام محمد مُصطفائی اور اُس کی رفیقِ کار خاتون خانم فرشتہ حلیمی نے کیا تھا ۔
یہ دونوں " یونی ورسل ٹالرینس " کے نام سے ایک تنظیم چلاتے ہیں ۔ یہ سیمینار پولیس کے کڑے پہرے اور ہر تماشائی کی سخت جامہ تلاشی کے ساتھ منعقد ہؤا ۔ سٹیج سیکریٹری شبانہ رحمٰن تھیں اور منتظمین کی طرف سے کہا جا رہا تھا کہ وہ اس نمائش کے ذریعے لوگوں میں برداشت کی قوت کو نشوونما دینا چاہتے ہیں ۔ اوسلو سے آئے ہوئے ایک کارٹونسٹ نے جب یہ کہا کہ انسلٹ کرنے کی ازادی ہونی چاہیے تو اس پر حاضرین میں سے کسی نے کہا کہ اگر میاں اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے کی انسلٹ کرنے کی آزادی ہو تو شاید ازدواجی زندگی جہنم بن جائے ۔ کارٹونسٹ کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا ۔
سیمنار اور نمائش نہایت پُر امن ماحول میں منعقد ہوئی ۔ کوئی ناگوار واقع پیش نہیں آیا ۔ اس نمائش کے بعد محمد مصطفائی کا جو بیان پریس میں شائع ہؤا ہے ، اُس کے مطابق موصوف کی خواہش ہے کہ رسالتمآب ﷺ پر بنائے گئے کارٹونوں کا فیسٹیویل یعنی میلہ منعقد کریں اور ساتھ ہی پولیس کا بیان بھی تھا کہ محمد مصطفائی کے پروگرام پر پوری تفصیل سے بحث ہو گی اور دیکھا جائے گا کہ اس نمائش کو کس طرح منعقد کیا جا سکتا ہے ۔ محمد مصطفائی نے کارٹونوں کے محمد میلے کے حق میں یہ دلیل دی ہے کہ شریعت میں کہیں بھی پیغمبر ِ اسلام کے کارٹون بنانے سے منع نہیں کیا گیا ۔ کیا عمدہ دلیل ہے ۔ محمد مصطفائی کی فکری سطح پر اُتر کر بات کی جائے تو موصوف سے پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر کارٹون بنانے سے منع نہیں کیا گیا تو بنانے کا حکم بھی نہیں دیا گیا ۔
کارٹون سازی عصری صحافت کا ایک شعبہ ہے جس میں طنزیہ یا مزاحیہ خاکوں کے ذریعے عصری مسائل پر طنز یا تنقید کی جاتی ہے ۔ پاکستان میں بھی اخبارات کارٹون شائع کرتے آئے ہیں مگر پیغمبروں کا کارٹونوں کے ذریعے مضحکہ اُڑانا اس عہد کی صحافتی دہشت گردی ہے ۔ یہ بلاس فیمی ایک یونانی تصور ہے ؛
BLASPHEMEIN
جس کا مطلب ہے کسی کے بارے میں بدگوئی کرنا ۔ دوسرے کے مذہبی عقائد کی ہنسی اُرانا ۔
عہد نامہ جدید میں مرقوم ہے کہ بلاسفیمی کا اطلاق حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کیا گیا کہ وہ خود کو خُدا کا بیٹا کہہ کر خُدا کی توہین کر رہے ہیں ۔ علاوہ ازیں ٘مصحفِ موسیٰ علیہ السلام کی دوسری کتاب کے باب ۲۲ ۔ ۲۸ میں کہا گیا ہے کہ خدا کی شان میں گستاخی نہیں کی جائے گی اور پیغمبر کو بُرا بھلا نہیں کہا جائے گا ۔
تاریخ گواہ ہے کہ مختلف مذاہب میں بلاسفیمی کی سخت سزائیں رائج رہی ہیں ۔ یہودیوں کے ہاں بلاس فیمی کی سزا سنگساری ہے ۔ عیسائیت میں بلاسفیمی کے ملزم کو جلتی چتا میں پھینک دینے کی سزا بھی رائج رہی ہے۔ لیکن فی زمانہ فلاسفیمی صرف اور صرف اسلامی شریعت سے مخصوص ہے ۔ ذیل میں ہم پاکستان کے بلاس فیمی قانون پر ایک نظر ڈالتے ہیں :
Blasphemy Laws in Pakistan
Offenses relating to religion: Pakistan Penal code
259 . C : Use of derogatory remarks, etc, in respect of the holy prophet. Whoever by words, either spoken or written or by visible representation, or by any imputation, innuendo, or insinuation, directly or indirectly, defiles the sacred name of the Holy Prophet (PBUH) shall be punished with death, or imprisonment for life, and shall also be liable to fine.
محولہ بالا قانون کے متن میں وضاحت موجود ہے کہ ڈھکے چھپے انداز میں مذاق اُڑانا بلاس فیمی کی ذیل میں آتا ہے اور کارٹون اس کی ایک صورت ہے ۔ یونیورسل ٹالرینس نامی تنظیم کے کارپرداز ایرانی النسل مسلمان ہیں اور محمد مصطفائی کہلاتے ہیں ، اِن گستاخانہ خاکوں کی نمائش کے ذریعے عالمی تحمل و برداشت کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں ۔
حیرت ہے کہ وہ ایسا سوچتے ہیں ۔ حالانکہ اصل کام یہ ہے کہ آزادی کے ایسے اظہار کو لگام دی جائے جو لوگوں کے ٘مذہبی عقائد کو مجروح کرتا ہے ۔ اس سلسلے میں اصل ڈائیلاگ یونیورسل ٹالرینس اور مسلمان مذہبی تنظیموں کے درمیان ہونا چاہئے جس میں پاکستانی اور ایرانی سفارت خانے بھی اپنے نمائدے بھیجیں اور اس کارٹون بازی کو نارویجئن پبلک کے لیے تماشہ بنا کر اپنے نمبر بڑھانے کے بجائے آپس میں مل بیٹھ کر طے کیا جائے اور کوئی ایسا طریقہ ڈھوندا جائے میں جس میں اس مخلوط اور کثیر المذاہب معاشرے کے تمام گروپوں کا بھلا ہو اور لوگ ایک دوسرے کے ساتھ امن اور یگانگت کی فضا میں رہ کر باہمی معاشرتی ربط و ضبط بڑھا سکیں۔
لیکن مسلمان خود ہی حالات کو خراب کر رہے ہیں اور پتہ ہی نہیں چلتا کہ امن غارت کرنے کی کوئی سازش کی جا رہی ہے یا آزا دئ اظہار کی خدمت ۔ مگر ہم لوگ صرف جذبات کی رو میں بہہ کر شور مچانا جانتے ہیں اپنے مسائل حل کرنے کی سکت نہیں رکھتے ۔ اور جب تک ہم علم و حکمت اور تدبر و تفکر کو بروئے کار نہیں لائیں گے یہی ہوتا رہے گا ۔
ہم نہیں چاہتے کہ محمد مصطفائی اپنے محمد فیسٹیویل میں اپنی کج فکری سے اپنی ذات کو کارٹون میں تبدیل کردے ۔ اس کی روک تھام سب مسلمان تنظیموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے مگر وہ ذمہ دار تنظیم نظر ہی نہیں آتی، سوائے احتجاجیوں کے جو پاکستان کی طرز پر تحریک چلانا یا دھرنا دینا ہی جانتے ہیں ۔ مگر یہ ناروے ہے جہاں شاید دھرنے کی رادھا نہ ناچ سکے کیونکہ اس کے لئے نومن تیل کی ضرورت ہے جو نارویجئن حکام مہیا نہیں کریں گے ۔