سینٹ کے انتخابات میں لین دین

  • سوموار 02 / مارچ / 2015
  • 3999

سیاست دنیا کا واحد نظام ہے جو عوام کی فلاح و بہبود کے نام پر کیا جاتا ہے۔یورپ اور دیگر ممالک اس کی مثال ہیں۔ لیکن ہمارے ملک میں یہ کام مفت نہیں کئے جاتے ہر سیاسی نمائندہ جسکو باقاعدہ تنخواہ عوام سے ملتی ہے اور بہت ساری مراعات بھی جن میں سرکاری رہائش ، تنخواہ، گاڑی، دنیا کے مفت ممالک کے سیر سپاٹے، اجلاسوں میں شرکت کا الاؤنس، بیرونی ممالک بغرض علاج، مفت خانسامہ، ملازمین وغیرہ شامل ہیں۔

ان سے وہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ہمارے ملک میں ۹۰ فی صد سیاست دانوں کا یہی حال ہے اس کے بر عکس ہمارے عوام بے حال و پریشان ہیں۔ یہ تمام سیاست دان اپنی اور اپنے خاندانوں کی خوشحالی کے لئے ہمہ تن مصروف اور کوشاں رہتے ہیں۔آجکل ایوان بالا یعنی سینیٹ کے الیکشن کے لئے بازار گرم ہے۔ بازی گر اب مصروف عمل ہو چکے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کی ستم ظریفی اور المیہ ہے۔ ہمارے حکمران جو اپنی چالاکیوں سے تاش کے پتوں کی چالیں عوام پر ہی استعمال کرتے ہیں۔ عوام شکست حال رہتے ہیں اور یہ حکمران بادشاہ اور حکمران بن جاتے ہیں۔ اس عمل میں تمام جمہوری پارٹیاں شامل ہوتی ہیں یہ ایک دوسرے سے بڑھ کر بولیاں لگاتے ہیں ۔

پچھلی حکومتوں کا یہی خاصہ رہا ہے۔ انہوں نے کھل کر ہارس ٹریڈنگ کی۔ چاہے ن لیگ ہو یا پیپلز پارٹی ۔ پچھلی دو دہائیوں سے ہم یہی دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔ سینیٹ کے تازہ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لئے بائیسویں آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ حکمران جماعت اور تحریک انصاف کا خوش آئند قدم ہے۔ جبکہ دو جماعتیں پیپلز پارٹی اور فضل الرحمٰن گروپ اسکی مخالفت میں کئی بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خفیہ رائے شماری کی بجائے شو آف ہینڈ کا طریق کار مناسب نہیں ہے۔ اس ضمن میں وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ آئینی ترمیم اس مسئلے کا حل ہے یا نہیں ۔ یہ دو مخالف جماعتیں چونکہ ہارس ٹریڈنگ سے ہمیشہ خوش رہی ہیں اور یہ نہیں چاہتیں کہ اس آ ئینی ترمیم کو عملی جامہ پہنایا جائے۔

قارئین کرام ! اس ستم ظریفی کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ ہمارے حکمران اتنی آسانی سے غیر آئینی فیصلے کر لیتے ہیں۔ جن کو سن کر آپ کو حیرانی بھی ہو گی اور تعجب بھی۔ الیکشن کمیشن بھی اس پر آنکھیں بند کر لیتا ہے اور کبھی کسی طرف سے آواز نہیں اٹھتی۔ مثلاََ گلگت کا گورنر طاہر برجیس کو لگایا گیا یہ پنجابی ہے اور شیخوپورہ کے حلقے کا منتخب شدہ ہے ۔ دوسری ستم ظریفی یہ کہ کراچی سے نواز لیگ کے دو لیڈروں مشاہد اللہ، دوسرے نہال ہاشمی کو سینیٹ کے ٹکٹ دئیے گئے ہیں جو اپنے حلقے سے چند سو ووٹ بھی نہیں لے سکتے۔ انہیں پنجاب لا کر پنجاب اسمبلی سے سینیٹ کے ٹکٹ دئیے گئے ہیں۔ اس ناانصافی پر بالکل خاموشی ہے، کوئی اعتراض نہیں کر رہا۔ تیسری زیادتی یہ ہے کہ سرائیکی علاقوں کی آبادی چھ کروڑ ہے لیکن سینیٹ میں ان کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ حالانکہ اسمبلی میں ایک سو سے زیادہ ممبران کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے اور پچاس ایم این اے بھی اس علاقے سے ہیں۔ اس طرح کم از کم تین سیٹیں سینیٹ میں سرائیکی علاقے کو ملنی چاہئیں۔ لیکن ان کی کوئی نمائندگی میں نہیں ہے۔

پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ کی باون نشستوں کے لئے پانچ مارچ کو انتخابات منعقد ہونگے۔آئین پاکستان کے تحت صوبوں۔ اسلام آباد اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے نصف ارکان ہر تین سال بعد ریٹائر ہو جاتے ہیں ۔ ایوان بالا میں اس وقت پیپلز پارٹی کے پاس سب سے زیادہ نشستیں ہیں جن کی تعداد چالیس ہے۔ اس میں سے اکیس اراکین گیارہ مارچ کو ریٹائر ہو جائیں گے ۔حکمران جماعت ن لیگ کے پاس سولہ نشستیں ہیں۔ جن میں آٹھ خالی ہو رہی ہیں ۔ فضل الرحمٰن گروپ کے تین، مسلم لیگ ق کے پانچ میں سے ایک جوکہ چوہدری شجاعت کی سیٹ ہے، خالی ہورہی ہے۔اسی طرح نیشنل عوامی پارٹی کے بارہ میں سے چھ اراکین ریٹائر ہو رہے ہیں اور ایم کیو ایم کے سات میں سے تین عہدہ چھوڑ دیں گے۔

تحریک انصاف پہلی بار اس سینیٹ کے الیکشن مین حصہ لے رہی ہے۔ چئیر مین عمران خان کی صدارت میں ان کے پارلیمانی بورڈ نے دس امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا ہے۔ ان کی پارٹی نے جن کو ٹکٹ جاری کئے ہیں ان کی شہرت اچھی ہے۔اس پارٹی نے ان دو اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹکٹ دئیے ہیں۔ پہلے اصول کے مطابق یہ کہ ان کا تعلق اپنے ہی صوبے سے ہے۔ دوسرا اصول یہ کہ کوئی امید وار تحریک انصاف کی قانون ساز مجلس یا کسی وزیر کا قریبی رشتہ دار نہیں ہے۔ اس کے برعکس حکمران جماعت اور پیپلز پارٹی اور کئی جماعتوں نے ایسا اصول نہیں اپنایا۔ سینیٹ کے الیکشن میں تجربہ کار ماہر لوگوں کی بجائے امیرامراء ، بااثر کاروباری لوگوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔اسی وجہ سے اونچی اونچی بولیاں لگ رہی ہیں۔

پچھلا جمہوری دور ہمیں یہی بتاتا ہے کہ ان الیکشن میں کروڑوں میں ایک ایک سیٹ خریدی جاتی رہی ہے۔اب بھی ہارس ٹریڈنگ کا بازار بام عروج پر ہے۔ پچھلے دنوں کی بات ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم اس معاملے میں یکجا ہو گئی ہیں۔ حالانکہ ان کے درمیان کئی مہینوں سے سرد جنگ چھڑی ہوئی تھی ۔ ایک دوسرے پر نازیبا الفاظ کی بوچھاڑ، مارنے مرنے پر تلے ہوئے تھے ۔اور اس میں کئی معصوم زندگیوں کے چراغ بھی گل ہو گئے۔مگر اس الیکشن کی وجہ سے انہوں نے اپنے تمام اختلافات بھلا دئیے اور وہ بھی صرف ایک سیٹ کی ایڈجسٹمنٹ کے لئے ۔چار سیٹیں تو ایم کیو ایم کو ویسے بھی مل جانی تھیں البتہ صرف ایک سیٹ کی خاطر ان کو ایسا کرنا پڑا اور یہی پیپلز پارٹی کا حال ہے۔ پی ٹی آئی کے چئر مین عمران خان نے پہلے کہا تھا کہ دو کروڑ میں ایک سیٹ کی بولی لگ چکی ہے۔جبکہ آج اس کا ریٹ بارہ کروڑ تک پہنچ چکا ہے۔ امیر جماعت اسلامی کہتے ہیں کہ یہ بکرا منڈی ہے۔ چھوٹے صوبوں میں تو بازار بہت گرم ہوتا ہے جہاں حکمران پارٹی کی سیٹیں کم ہوتی ہیں وہاں اراکین اسمبلی کو بھاری رقوم سے خریدا جاتا ہے۔ مثلاََ بلوچستان کی ایک سیٹ کا سودا بیس کروڑ کا ہوتا ہے۔یہ سودے بازی دیکھ کر افسوس اور غم سے آنکھوں میں آنسو اورشرم سے گردنیں جھک جاتی ہیں۔ یہ ایوان بالا عزت و تکریم، تقدس کا پیکر تصور ہوتاہے جس کی عمارت پر کلمہ طیبہ لکھا ہے اور اس کے اندر قرآن پاک کی سورتیں اور بانی پاکستان کی تصویریں آ ویزاں ہیں۔ اس کے باوجود بعض لوگ اپنے ضمیر کے سودے کر کے نشست حاصل کرتے ہیں اور حلف لیتے ہیں کہ ہم اسلام اور ملک کا دفاع اور عوام کی بہتر خوش حالی کے لئے جدوجہد کریں گے ۔ وہ قرآن کی تلاوت سن کر وعدہ کرتے ہیں کہ ہمارا کردار اس کے عین مطابق ہو گا۔دیکھا جائے تو ان تمام اصولوں کو وہ بالائے طاق رکھتے ہوئے اسلام اور قانون کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں۔ اور صرف اپنے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہیں۔

یہ سادہ لوگوں کا اور عوام کا کام نہیں ہے۔ یہ بادشاہوں کی باتیں ہیں، بادشاہ ہی جانے اور ’’ بانس پر چڑھے گڑ کھائے‘‘ یعنی جو شخص بے حیائی کرے گا وہی مزے میں رہے گا۔ ’’دوسرا بٹورے میں اوپلے ہی نکلیں گے‘‘ یعنی بروں کے برے ہی لچھن ہونگے۔ان سے خیر کی توقع نہیں۔ بالآخر وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ برے کا انجام برا اور نیکوں کا؟ مشہور شاعر ثاقب زیروی کا یہ شعر برموقع ہے:
دل خوف خدا سے خالی ہیں ہوتی ہے تجارت مذہب کی
مذہب کے اجارہ داروں کا آئینہ ذرا دکھلانے دو