داڑھی والوں کے ساتھ تعصب

  • بدھ 04 / مارچ / 2015
  • 5416

داڑھی رکھے  ہر شخص کو دنیا مولوی کہتی ہے۔ اور دین سے دوری کا یہ عالم ہے کہ  کلین شیو طبقہ جب  لفظ مولوی  بولتا یا کہتا ہے تو  اس کا مقصد  طنز،باریش کو کم تر کہنا،  گھٹیا   یا  کمتر ثابت کرناا ہی ہوتا ہے۔

معاشرہ میں باریش افراد کی یہ توہین کیوں؟ اس کی وجوہات واسباب کی طرف نہیں جانا چاہتا  بلکہ یہاں پر جس چیز کو بیان کرنا مقصود ہے کہ ’’ ارے داڑھی والوں کو میں جانتا ہوں‘‘  جیسے لفظ کئی بار کئی مقامات پر کئی ذرائع سے آپ نے سنے ہوں گے۔  مگر کیا آپ نے کبھی اندازہ لگایا کہ یہ لفظ اکثر کب بولا جاتا ہے؟ جب ایک باریش شخص کسی کلین شیو سیکولر سوچ کے مالک شخص کی اصلاح کی خاطرکوئی بات کرتا ہے، یا اس پر اس کی طرف سے کی جانے والی غلطی واضح کرتا ہے، اور  دین میں بتائے گئے احکامات اور ان احکامات پر عمل کرنے والے لوگوں کی مثال دیتا ہے۔ (جو کہ اکثر الحمدللہ داڑھی والے ہی ہوتے ہیں) 

بجائے اس کے کہ اپنی غلطیوں کو سدھارا جائے جواباً آواز گونجتی ہے کہ ’’ ارے داڑھی والوں کو میں جانتا ہوں‘‘ ۔ کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جو غلطی، کام میں نے کیا ہے یہ تو داڑھی والے بھی کرتے ہیں، تو پھر میں ان کی بات کیوں مانوں؟  یا مجھے ایسے لوگوں کی مثال کیوں پیش کی جارہی ہے؟  یا دوسرے الفاظ میں  مقصود اپنی اصلاح کی بجائے الفاظ کے تھپڑ مصلح کے منہ پر مار کر خاموش کرانا چاہتا ہے۔ یا اسے یہ یاد دلاتا ہےکہ   جس کی بات آپ کر رہے ہیں وہ بھی  اسی تھیلے میں رہنے والی بلی ہے۔ الامان والحفیظ

سوائے انبیاء علیہم السلام کے کوئی معصوم عن الخطاء نہیں، چاہے وہ داڑھی والا ہے یا  کلین شیو تو پھر داڑھی والوں کو ہی کیوں بدنام کیا جاتا ہے؟ یا یہ کلین شیو کے جھنڈ کیوں مولوی مولوی  کی گردانیں پڑھتے نظر آتے ہیں ؟  کسی داڑھی رکھے شخص سے غلطی ہوجائے تو اللہ کی پناہ معاشرہ میں اس کےلئے رہنا ہی عذاب بن جاتا ہے۔ مگر کلین شیو گناہوں کی دلدل میں ڈبکیاں مارتے پھریں، برسر عام اپنی خطاؤں اور سیاہ کاریوں کو بیان کرتے پھریں،  حد یہ کہ علی الاعلان جرم وظلم کرتے رہیں تو نہ معاشرہ کے کسی فرد کو تکلیف ہوتی ہے، نہ میڈیا کے بھانڈے کھڑکتے ہیں اور نہ ہی ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے  اور نہ ہی ان کی عزت میں فرق آتا ہے بلکہ ایسا شخص سب کی آنکھوں کا تارا بن  جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ داڑھی رکھا شخص چونکہ دیندار، دین کا محافظ، عالم، قاری، دین کا طالب  اور معاشرہ کی راہنمائی کرنے والا ہوتا ہے۔  جب یہ گناہ کرتا ہے تو معاشرہ اس چیز کو برداشت نہیں کرتا، (کیونکہ سفید لباس پہ لگا داغ ہر کسی کو نظر آتا ہے) مگر اس کے مقابلے میں کلین شیو  نہ تو دیندار ہوتا ہے، نہ دین کا محافظ، نہ عالم، نہ قاری اور نہ ہی اس کے ذمہ معاشرہ کی راہنمائی ہوتی ہے اس لئے گناہ سے اس کی شخصیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

مگر کس نے کہا کہ ہر داڑھی والا دیندار ہوتا ہے؟  اور یہ کس نے کہا کہ بس داڑھی والوں کے ہی ذمہ دین کی حفاظت کا ٹھیکہ ہے؟ کیا کلین شیو  دین کی حفاظت سے بری ہیں؟ اگر حفاظت کے ذمہ دار نہیں تو پھر بے دینی کے ٹھیکیدار کیوں بن جاتے ہیں؟ اگر معاشرہ میں اصلاح ان کا فرض نہیں تو پھر معاشرہ میں گندگی پھیلانے کا سرٹیفکیٹ کس سے لیا ہؤا ہے؟

ہوسکتا ہے بہت سوں کو ہماری بات سے اختلاف ہو، مگراظہار رائے کی آزادی   کا پورا  حق  لیتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں اور کہنا چاہتے ہیں کہ  دین سے دوری کی وجہ سےابلیس نے ہمارے دل ودماغ میں عجیب وغریب طرح کے  رنگ چڑھا دیئے ہیں۔ جن میں ایک رنگ ’’ داڑھی والا گناہ کرے تو جینا مشکل ہوجائے، اور کلین شیو گناہ کرے تو ہیرو بن جائے  ‘‘ بھی ہے۔

انسان ہونے کے ناطے داڑھی والا اور کلین شیو برابر ہیں۔  اور  انسان لفظ نسیان سے ہے، مطلب بھولنے والا۔  جب داڑھی رکھا شخص اور داڑھی منڈا شخص  دونوں نسیان کے مریض ہیں، تو پھر بھول ہوجانے پر  سلوک میں فرق کیوں؟

ہمیں یہ بات بالکل سمجھ نہیں آتی کہ ایک بندہ دو گناہوں میں ملوث،  ایک گناہ جو اس نے کیا،  دوسرا  جاری گناہ اس کا داڑھی کٹا ہونا  اور اس کے مقابلے میں ایک شخص جس نے  ایک گناہ تو کیا، مگر  جاری  گناہ یعنی داڑھی کٹا نہیں،  مگر دو گناہوں میں ملوث شخص یوں مؤقف اختیار کرتا ہے کہ  الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کی مثال بن جاتا ہے۔ 

بصارت وبصیرت کو استعمال کرتے ہوئے ذرا دل ودماغ کو سوچنے سمجھنے کی بھی تکلیف دو، کہ آپ میں غلطیاں زیادہ ہیں، تو معاشرہ میں بدنام بھی آپ کو ہونا چاہیے، آپ کا ہی منہ بند ہونا چاہیے، آپ کو ہی شرم آنی چاہیے، نہ کہ   آپ بھی  داڑھی رکھے شخص  کی طرف اپنی توپ کا منہ کرلیں، جو آپ سے گناہوں میں پیچھے ہے۔ اور کہنا شروع کردیں کہ
’’ ارے داڑھی والوں کو میں جانتا ہوں ‘‘

ہاں آپ جانتے ہیں، کیونکہ آپ پر حکمرانی انسانی ازلی دشمن کر رہا ہے۔اس لئے نہ تو وہ آپ کو معاشرہ میں بدنام ہونے دے گا، نہ وہ آپ پر دہشت گردی کا لیبل لگنے دے گا، نہ وہ آپ کو داڑھی رکھوا کر معاشرہ میں پائی جانے والی نکمی نسل کا حصہ بننے دے گا اور نہ ہی وہ یہ چاہے گہ کہ آپ کو بھی لوگ مولوی کہیں۔

الفاظ کی سختی پر معذرت مگر گزارش ہے کہ خدارا غور کریں، اپنے آپ کو بدلیں، اسلام پسند، باریش افراد کی عزت کریں، اور باطنی نہ صحیح کم سے کم ظاہری حلیہ اسلام کے مطابق اپنا لیں۔ اور ’’ ارے داڑھی والوں کو میں جانتا ہوں ‘‘ کے الفاظ  کے حوالے سے جس چیز کو اس مضمون میں واضح کیا گیا ہے ان سے دور رہیں۔ اللہ سمجھنے کی توفیق دے۔