پاکستان اور فرد کی صورتِ حال

  • ہفتہ 07 / مارچ / 2015
  • 4241

پاکستان میں ہم مسلمانوں کا مستقبل کیا ہوگا ؟
یہ سوال اُس وقت سے مجھے پریشان کر رہا ہے جب میں نے سن اُناسی میں خاکِ وطن کو آخری بوسہ دیا تھا ۔ میں پچھلے سرسٹھ برس کی تاریخ کا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے معاشرتی ، سیاسی ، اقتصادی اور روحانی اِبتلا کا ایک سلسلہ نظر آتا ہے جو سات دہائیوں کی شاہراہ پر محیط ہے لیکن اس کے باوجود میرا ذہن ہمیشہ ایک ارضی جنّت کے خواب کی زنجیروں میں جکڑا رہتا ہے ۔

میرے اردگرد لوگ خلافتِ راشدہ کی باتیں کرتے ہیں اور عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے دیتے ہیں جو مسندِ خلافت پر بیٹھے اپنی قمیض کی جوابدہی کے لیے اُمّت کے احتسابی کٹہرے میں کھڑے ہیں ۔ اُس عہد کو بیتے پندرہ صدیاں ہو چکی ہیں اور موجودہ حالات کو دیکھ کر ایسا لگتا کہ دورِ جاہلیت پھر سے لوٹ آیا ہے ۔ فرقہ آرائی اور تعصب نے وہ کھیل رچا کھا ہے کہ مسلم تہذیب کا عالمی منظر نامہ شدید ترین خطرات کی نشان دہی کر رہا ہے ۔ ایسے میں وہی سوال بار بار عود کر آتا ہے کہ پاکستان کے عام مسلمان کا کیا ہوگا ؟ مگر  یہ سوال کیوں؟

اس لئے کہ سرحد کے دونوں طرف ایٹمی عفریت ہیں جو وقتاً فوقتاً سرنکال کر ایک دوسرے پر غُرّاتے ہیں ۔ ایک روحانی اور اخلاقی تیرگی ہے جو سرحدوں کے دونوں طرٖ ف چھائی ہوئی ہے ۔ دونوں طرف سے اجتماعی موت کی دھمکیاں سنائی دیتی ہیں جو بچوں کی ماؤں کو خوفزدہ کئے دیتی ہیں ۔ سرحدوں کے دونوں طرف بچے ایک کشیدگی کی فضا میں پل رہے ہیں  اور حکومت کی رِٹ سرے سے موجود ہی نہیں کہ وہ ان دھمکیوں کا قلع قمع کر سکے ۔

افغانستان کی جنگ کی منصوبہ بندی کے دوران اور دفاعی حکمتِ عملی کے طور پر جن بیرونی نسلی اقلیتوں کو پاکستان لا کر عسکری تربیت دی گئی تھی وہ اب پاکستان کی ریاست کے خلاف تخریبی اور باغیانہ سرگرمیوں میں مصروف ہیں ۔ یہ لوگ نہ صرف سماجی تصورِ انصاف سے نابلد ہیں بلکہ اسلام کی بنیادی قدروں سے بھی نا آشنا ہیں ۔ جہادی تنظیموں کے بدلتے ہوئے چولوں کے رنگ اور اُن کے پُشت پناہوں کے تیور یہ بتاتے ہیں کہ نہ تو وہ پاکستان کی ریاست کے خیر خواہ ہیں اور نہ ہی عام پاکستانی مسلمانوں کے ہمدرد اور دردمند ۔ اور عام مسلمان کا المیہ یہ ہے کہ اُس کے پاس وہ ذہانت ، تعقل اور باطنی استحکام نہیں ہے جو فلسفہ ء پاکستانیت اور دو قومی نظرئیے کی بنیادی شرائط ہیں ۔  اس لئے وہ اپنے داخلی دشمنوں کی چالوں کو سمجھنے سے معذور ہے ۔

دوسری طرف عالمی اسلامی منطر نامہ  بہت پر پیچ ہے ۔ مختلف مسلمان ملکوں کی اجتماعی علمی اور ملی رشتوں کی سطح ایک دوسرے سے مختلف ہے ۔ چنانچہ سعودی عرب کا مسلمان اور ایران کا مسلمان دونوں اسلام کے ضمن میں  ایک طرح سے نہیں سوچتے اور ہم بے چارے برِ صغیر کے مسکینوں کی اوقات ہی کیا ہے ۔

ہم اگر انتخابات کو لوگوں کی معاملہ فہمی کی کسوٹی شمار کریں تو صاف نظر آتا ہے کہ ہمارے قومی افق پر ناخواندگی کی گہری دھند چھائی ہوئی ہے ۔ جس ملک کے پچھتر سے اسّی فی صد عوام خواندکی کی زیریں سطح سے نیچے ہوں وہاں قانون کی حکمرانی ناممکن کا سودا ہے ۔ قانون ، زادہ ء حکمت ہے جو اپنی ارفع سطح پر تصوف اور زیریں سطح پر تعقل کہلاتا ہے ۔ تعقل تنقیدی شعور اور استدلال کی قوت سے مشروط ہے ۔ اور اگر یہ خصوصیات اور صلاحیتیں عوام میں موجود بھی ہوں  تو وہ اُن کی سیاسی وابستگیوں کی بنا پر گہنا جاتی ہیں ۔ یا پھر جلا پاتی ہیں ۔

عقلی استدلال بالعموم اس صورت میں کامیاب رہتا ہے جب سطحی جذباتیت اسے مفلوج کرنے کی کوشش نہ کرے ۔  لیکن جب جنّت کی حوروں کے حسن و جمال اور اور ازدواجی تلذذ کی کہانیاں زباں زدِ خاص و عام ہوں تو حکمت کے سرچشمے کے آگے دیوار کھڑی ہو جاتی ہے ۔ تب کتاب الحکمت کی نکتہ آرائیاں خوش بیان واعظوں کی تاویلوں کا شکار ہو کر رخصت ہو جاتی ہیں ۔

“ جنّت کا منظر مع مرنے کے بعد کیا ہوگا “ جیسی کتابیں ایک ایسی نفسیاتی وبا کا باعث بنتی ہیں جو مذہبی اداروں کی صحت خراب کر دیتی ہے اور گناہ مقبول عام ہو کر رواج پاتا ہے ۔ میں یہاں واضح کردوں کہ ہمارے ہاں جس مفہوم میں گناہ کا تصور رائج ہے ، وہ عمومی معاشرتی حقیقتوں سے ماورا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ گناہ کے بجائے مذہبی جرائم کی لفظی ترکیب کو رواج دیا جائے جس کے تحت تمام اخلاقی اور روحانی جرائم قابلِ مواخذہ ہوں ۔

معاشرتی جرائم میں جھوٹ ، غیبت ، بہتان ، چغلی ، اور بد گوئی (گالی) جیسے سنگین نوعیت کے جرائم سرِ فہرست ہیں مگر عام لوگ اسے چائے کا کپ ، داتا دربار کا بھنڈارہ اور فالودے کا پیالہ قرار دے کر اس سے حظ اٹھاتے ہیں ۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ فلسفہ ء پاکستانیت سے نا بلد ہیں ۔

فلسفہ ء پاکستانیت دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وہ فلسفہ ہے جو اتحاد ، تنظیم اور یقین محکم کی مثلث پر مشتمل ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستانیت کو ایک باقاعدہ مضمون کے طور پر ابتدائی تعلیم سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک اس طرح متعارف کروایا جاتا کہ لوگ اس کی علمی نوعیت ، حیثیت اور افادیت میں عملی طور پر شریک ہو کر ایک ایسے معاشرے کی بنیاد اٹھا کر اسے پروان چڑھاتے کہ وہ عالمی نقشے پر ایک مثالی معاشرے کے طور پر ابھرتا  ۔ اس مضمون کو سول سروس سے لے کر بلدیاتی اداروں تک اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اپنے تربیتی اداروں کے  علاوہ ہر سیاسی جماعت کے سکول میں پڑھایا جاتا اور سیاستدانوں کو پاکستانیت کے عواقب و جوانب سے روشناس کرایا جاتا ۔

ممکن ہے کہ قارئینِ “ کاروان “ کو میری بات مجذوب کی بڑ لگے مگر میں اپنی اس بڑ پر قائم ہوں اور آئندہ کالموں میں اپنے منصوبے کی تفصیل پیش کروں گا ۔