اس چمن سے دور۔۔۔۔
- اتوار 08 / مارچ / 2015
- 5155
اچھے برے کچھ دن گزار کر اب ہم وہاں سے لوٹ آئے ہیں جہاں صبح شام دودھ اور شہد کی نہروں کی منظر کشی جاری رہتی ہے۔
جہاں رنگ برنگے لبادوں میں لپٹے ،سروں پرنور کے ہالے اور آنکھوں میں ایک خاص چمک لئے ، اللہ کے برگزیدہ بندے تواتر سے ان حوروں کا ذکر کرتے رہتے ہیں جن کا مومنوں سے وعدہ کیا گیا ہے، اور جو جنتی مومنوں سے سو میل کی دوری پر ہونے کے باوجود بھی ان کی پہنچ سے باہر نہ ہوں گی۔ان خوش خبریوں کا ذکر یہ بر گزیدہ بندے یقیناًاپنے گھروں میں اطاعت و فرمانبرداری کی زندگی گزارتی اپنی پاک دامن بیبیوں سے بھی کرتے ہوں گے تاکہ کڑی تحقیق و جستجو سے حاصل ہونے والا یہ علم بلا تخصیص جنس ،زیادہ سے زیادہ مومنین و مومنات تک پہنچ جائے۔
جی ہاں !ہم اسی ملک کا ذکر کر رہے ہیں جو اسلام کا قلعہ کہلاتا ہے، اور جس میں اسلام کی آفاقیت کو محصور و نظربند کردیا گیا ہے، اور جسکی حفاظت جذبہ ایمانی سے سرشار وہ خوش خوراک سرفروش کرتے ہیں جو عقیدے کے نام پر سروں کی تجارت کرتے ہوئے اس قلعے کی دیواروں کو اور بلند کرتے رہتے ہیں، تاکہ جس کی حفاظت کا ٹھیکہ انہوں نے لے رکھا ہے ، وہ یہاں سے فرار نہ ہو نے پائے۔
اور پھر قلعہ اگر ایک ہی ہوتا تو کوئی بات بھی تھی۔ یہاں تو کسی منتشر ہوتی بڑی سلطنت کی طرح جگہ جگہ قلعے بنے نظر آتے ہیں جن کے سرکش قلعہ دا ر تاج و قت کے خلاف علم بغاوت بلند کیئے ان میں قلعہ بند ہوئے بیٹھے ہیں اور تاج میں اتنی سکت نہیں کہ وہ انکی سرکوبی کر سکے۔یہ وہابیوں کا قلعہ ہے، یہ دیو بندیوں کا ، وہ اہل تشیع کا، یہ سلفیوں کا اور ایسے ہی بے شمار دوسرے قلعے ہیں، جن کے باہر دانتوں تک مسلح رضاکار مجاہد یا سیکیوریٹی اہلکار پہرہ دیتے ہیں اور جہاں نماز بھی کلاشنکوفوں کے سائے میں ادا ہوتی ہے۔
اور تو اور اب بچوں کے سکول بھی قلعوں میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں جن کی دیواروں کے ساتھ ساتھ خندقیں اور مورچے بنا دیئے گئے ہیں، اور جہاں نہ صرف اساتذہ ، بلکہ بالغ طلباء کو بھی اسلحہ چلانے کی تربیت دی جا رہی ہے۔
اور یہاں بسنے والے مسلمانوں کو خطرہ کس سے ہے۔
جی ہاںآپ نے ٹھیک سنا۔ مسلمانوں سے۔ جنکا ایک فرقہ آج دوسرے کے خون کا پیاسا ہے، اور اس طرح پیاس بجھانے کو جنت میں جانے کا شارٹ کٹ سمجھتا ہے ، جہاں حوریں
اسکی منتظر ہیں ، جو سو سو میل کی دوری پر ہونے کے باوجود بھی اسکی دسترس میں ہوں گی۔
ہماری کوتاہ اندیشی کہ ہم نے ایک محفل میں ایک مومن سے پوچھ ہی لیا کہ قبلہ دین کی حفاظت کا ذمہ تو خود ذات باری تعالیٰ نے لے رکھا ہے، پھر اسے کسی قلعہ میں نظر بند رکھنے کا کیا جواز ہے۔ اور یہ کہ اس قلعے سے باہر بھی ایک دنیا ہے،کیا یہ وہاں غیر محفوظ ہو چکا ہے۔
جواب سن کر آپ کیا کریں گے۔ جانے دیجئے۔
اور پھر اسی پر ہی بس نہیں۔ ایک ہنستے بڑھتے ملک کو ڈالروں کے عوض پرائی آگ میں جھونک دینے والے کوتاہ اندیش جرنیلوں میں سے ایک بونا پارٹ، جو خود کو فاتح فلاں فلاں تصور کرتا ہے، ریٹائر منٹ کے برسوں بعد ابھی تک اپنی بونا پاٹیوں سے باز نہیں آیا ، اور بھوک ، غربت، تنگدستی، عدم تحفظ سے جاں بلب لوگوں کو اس قلعے سے نکل کرفاتح عالم بن جانے کی نوید سناتا رہتا ہے۔ اور سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے، کہ خوابوں کے سحر میں مبتلا یہ لاچار لوگ اسکی بات سنتے بھی ہیں۔
اب ہم ہیں کہ اس وسیع و عریض دنیا میں جہاں کہیں بھی ہوں، اپنی مٹی کے عشق میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس امید پر کہ ایک دن اس پر اگا جہالت اور تنگ نظری کا جنگل صاف ہو جائے گا ، اور اسکی وہ شادابی لوٹ آئے گی جسے ایک مجہول ڈکٹیٹر نے اپنی متعصب سوچ کی آگ میں جلا کر راکھ کر دیا تھا۔
وائے حسرت کی ایسا ہوتا دکھائی دیتانہیں۔
تعصب، تنگ نظری اور جہالت کا زہر اب رائے عامہ بنانے والے ان حلقوں میں بھی سرایت کر چکا ہے جو صحافی کہلاتے ہیں۔آپ دنیا کے کسی بھی موضوع پر بات کر لیں، تان عقیدے پر ہی آ کر ٹوٹے گی اور آپ سے بار بار یہ اعتراف کروانے کی کوشش کی جائے گی کہ آپ واقعی مسلمان ہیں اور قتال فی سبیل اللہ کے اگر حامی نہیں تو مخالف بھی نہیں ہیں۔ جب یہ مرحلہ طے پا جائے گا تو پھر آپ کو مغرب کی ان مکروہ سازشوں سے آگاہ کیا جائے گا جو اسلام اور خاص طور سے مملکت خداداد کو زک پہنچانے کے لئے کی جا رہی ہیں۔اس موقع پر آپ کو خود پر غصہ آنے لگے گا کہ مغرب میں اتنا عرصہ رہنے کے باوجود آپ ایسی سازشوں سے اب تک بے خبر کیوں ہیں۔ایسے میں اگر چائے اور اسکے ساتھ کچھ لوازمات سامنے آ جائیں، تو سازشوں کا سلسلہ یکلخت تھم جائے گا اورہمارے یہ دانشور لذت کام و دہن کی آزمائش سے گزرتے ہوئے ماکولات سے جہاد کرنے لگیں گے۔
اور جو لوگ نہیں جانتے ، وہ جان لیں کہ پرائی جنگوں میں کودنے اور ڈالروں سے بھرے سوٹ کیس لے کر جہاد کرنے کی وبا سے پہلے یہاں ایسا نہیں ہوتا تھا۔یہاں کے ادبی و فکری حلقوں میں کبھی ویسی ہی گفتگو اور تعمیری بحثیں ہوتی تھیں جیسی دنیا کے باقی ملکوں میں ہوتی تھیں۔ عقیدہ آزاد تھا اور بندگان خدا بھانت بھانت کے جیشوں، لشکروں اور سپاہوں کے خوں آشام شکنجوں میں جکڑے ہوئے نہ تھے۔یونیورسٹیاں، کالج اور دیگر تعلیمی ادارے تبلیغ کی بجائے، تعلیم کے مراکز تھے جہاں زیر تعلیم طلباء وطالبات ستاروں پر کمندیں ڈالنے اور ان سے آگے کے جہان تلاش کرنے کے خواب دیکھتے تھے، نہ کہ غلمان و حوران خلد کے۔
یہ وہ وقت تھا جب اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود عالمی برادری میں اس ملک کو مناسب توقیر حاصل تھی اور اسکے شہریوں سے غیر ملکی ہوائی اڈوں پرطاعون زدہ چوہوں کا سا سلوک نہ کیا جاتا تھا۔یہاں تب بھی اگرچہ حکومتیں ٹوٹتی بنتی رہتی تھیں، تاہم ایسا کبھی نہ ہوا تھا کہ حکومت تو موجود ہو لیکن اسکی رٹ نام کی کوئی چیز تلاش کرنے پر بھی نہ مل سکے۔کرپٹ اور موقع پرست سیاستدان تب بھی تھے ، لیکن ایسا بھی نہ تھا کہ بے خوف لوٹ مار اور چھینا جھپٹی اس سطح پر کبھی ہوئی ہو جیسی کہ آج دیکھنے میں آتی ہے اور جسے اب قومی سطح پر قبول کر لیا گیا ہے۔ کچھ خوف خدا، کچھ قانون کی پکڑ کا ڈر، کچھ ضمیر کی خلش بہرحال موجود تھی ۔
آج ایک نظر اگر اپنے لیڈروں پر ڈالیں، تو ساری حقیقت واضح ہو جائے گی۔انکی تعلیم دیکھ لیں، انکا مطالعہ دیکھ لیں، انکی فہم دنیا دیکھ لیں، انکے اٹھنے بیٹھنے کے انداز دیکھ لیں، انکی خوراکیں دیکھ لیں، انکے انسانی رویے دیکھ لیں،انکے شدید احساس کمتری کے پس منظر میں انکا تکبراور رعونت دیکھ لیں۔ اور سب سے بڑھ کر انکی صورتیں اور چال چلن دیکھ لیں۔ دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ یہ کہیں سے بھی آپ کو اس دنیا کے انسان دکھائی دیتے ہیں؟
یہ رویہ اگر صرف سیاستدانوں اور اہل اقتدار تک ہی محدود ہوتا تو شاید کبھی نہ کبھی کسی بہتری کی امید کی جا سکتی تھی۔ لیکن اب تو ہر کس وناکس اسی مرض میں مبتلا نظر آتا ہے۔
اور کیوں نہ ہو۔ شاید بقا کا اب یہی راستہ باقی بچا ہے۔
آج کی حقیقت یہ ہے کہ مملکت خداداد میں جمہوریت اب اقتدار میں رہنے اورزیادہ سے زیادہ لوٹ مار کرنے کی مچان بن چکی ہے۔ حکومت اپنی رٹ اور لوگوں کے جان و مال کے تحفظ سے دستبردار ہو چکی ہے ، اور ملک کے بیشتر حصے پر اب انکی رٹ چلتی ہے جنہوں نے اپنے اپنے قلعے بنا رکھے ہیں اور جن کے کھاتے مقدس زمینوں پر کھلے ہوئے ہیں۔
سبھی جانتے ہیں کہ خدا نخواستہ اگر اس ملک پر کبھی کوئی افتاد پڑی ، تو خدمت عوام کے نام پر لوٹ مار کرتے یہ بے ضمیر لٹیرے سیاست کی کینچلیاں بدلتے ان ہری ہری چراگاہوں کو سدھار جائیں گے، جہاں انکا مال غنیمت محفوط پڑا ہے ، جسکی حفاطت انکی اولادیں کرتی ہیں۔
اورجن کے ہاتھ میں اصل طاقت اور ڈنڈ ا ہے ، وہ اس ساری صورتحال سے یقیناٌ واقف ہیں، اور جانتے ہیں کہ جن کے دلوں میں چور ہو وہ انکے سامنے کبھی کھڑے نہ ہو سکیں گے۔ سو کھل کر سامنے آنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہاں کبھی کبھی طاقت کا کوڑا لہرا کر اسکی آواز انہیں سنا دی جاتی ہے، جو انکا پتہ پانی کرنے کیلئے کافی ہے۔
افسوس کہ جس زمین کی آرزو لے کر کبھی لوگ چلے تھے، یہ زمین ویسی نہیں رہی۔
لیکن آرزو تو ابھی باقی ہے۔