جتنا بڑا ادارہ اتنی بڑی کرپشن

  • منگل 10 / مارچ / 2015
  • 4342

ایوان بالا جس کو سینیٹ کہتے ہیں ۔اس کا مقام انتہائی عزت و تکریم اور آئینی مرتبہ کے لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا ہر ممبر اس امر کا سبب ہوتا ہے۔ اس کی تنخواہ قلیل لیکن مراعات کافی ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق ہر ممبر اپنے تین سالہ دور میں ایک کروڑ دس لاکھ کی رقم حاصل کرتا ہے۔ لیکن سینیٹ میں نشست حاصل کرنے کے لئے تین چار کروڑ یا پھر چھوٹے صوبوں میں پندرہ کروڑ روپے تک صرف کرنے پڑتے ہیں۔

یہ بات سمجھ نہیں آتی یہ لوگ اتنا بڑا نقصان اٹھا کر کیوں سینیٹ میں آتے ہیں۔ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک کاروباری ادارہ ہے اور اس کے انتخاب میں کاروباری لوگ ہی حصہ لے سکتے ہیں۔تبھی اس کاروبار کو ہمارے لیڈر صاحبان مختلف نام دیتے ہیں ۔جیسا کہ چوہدری شجاعت اس کو کھوتا ٹریڈنگ کہتے ہیں۔ ، امیر جماعت اسلامی بکرا منڈی اور بڑی پارٹیاں اس کو ہارس ٹریڈنگ کہتی ہیں۔اس میں دو رائے نہیں ہر الیکشن میں اس صوت حال میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ سینیٹ کے حالیہ الیکشن میں جو کچھ دیکھنے کو ملا مختصراََ سندھ میں پیپلز پارٹی نے اپنی دو اضافی سیٹیں حاصل کرنے کے لئے (۲۰) بیس کروڑ روپیہ خرچ کیا ۔ زرداری صاحب تو اسلام آباد چلے گئے اور وہ چئیر مین کے انتخابات تک وہیں قیام پذیر رہیں گے ۔ چونکہ انہیں ابھی سب سے بڑے گھوڑے کا سودا کرنا ہے جو سینیٹ کے چئیر مین کا ہے۔ مگر اپنا کام وہ سندھ کی دو اہم شخصیات کے سپرد کر گئے۔

یہ دونوں سودے بازی میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اسکی تصدیق کرتے ہوئے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شرجیل میمن نے سچ بول کر سب کو حیرت زدہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اب تک دھاندلی کرتی رہی ہے۔ منظور وسان نے کہا کہ جتنا ہو سکتا ہے سندھ حکومت کرپشن کرتی ہے بعد میں انہوں نے کہا ہماری زبان پھسل گئی تھی ۔ جب بندوق کی نالی سے گولی نکل جاتی ہے تو وہ واپس نہیں ہوتی اسی طرح اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا ں چگ گئیں کھیت۔ پیپلز پارٹی نے تو اس الیکشن میں اپنے ممبران پارلیمنٹ سے قرآن پر حلف لے کر عہد لیا ۔ جس پر پاکستان کے چند مفتی حضرات نے اس کو حرام اور کفر قرار دیا۔ہمارے ملک کے اکثر سیاستدان جھوٹ، منافقت اور کرپشن کی پیداوار ہیں ۔ یہ ان کے لئے انہونی بات نہیں۔اب تو عوام بھی اس کے عادی ہو چکے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے تیسرے اہم رکن ذوالفقار مرزا کہتے ہیں کہ آصف زرداری سندھ حکومت کو بزنس انٹر پرائز کی طرح چلا رہے ہیں۔ان کا پچھلا دور اس بات کی نشاندہی کرتاہے۔ انہوں نے پاکستان کھپے اور مفاہمت کے نام پر خوب لوٹ کھسوٹ کی اس میں اپنے اتحادیوں کو بھی خوب نوازا۔ اس ضمن میں ایک مثل مشہور ہے چاند آسمان پر چڑھا سب نے دیکھا۔ ظاہر ہے یہ بات چھپ نہیں سکتی اور سب پر عیاں ہے کہ اس الیکشن میں جو کچھ ہؤا وہ جمہوریت کے لئے اچھا نہیں تھا۔ یہ کرپشن ہمارے ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اور اب تک ہمیں یہی دیکھنے کو ملا ہے، چکنے منہ کو سب ہی چومتے ہیں، یعنی دولتمند، کاروباری ، خو ش آمدی لوگو ں کو ہی ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے لئے آگے لایا جاتا ہے۔

ہمیں گدھوں، گھوڑوں اور بکروں کی منڈی کی طرح سودے بازی کا تماشہ دیکھنے کو ملا۔ عجیب اتفاق ہے کہ جس دن سینیٹ کے الیکشن تھے اسی دن میلہ مویشیان منعقد ہؤا۔جسکا افتتاح صدر ممنون حسین نے کیا۔اس الیکشن میں غریب عوام کے امیر نمائندے منتخب ہوئے صوبہ کے پی کے کے چھتیس اراکین کی خریدو فروخت کی باز گشت سننے میں آئی کہ انہوں نے ایڈوانس تک لے لیا ہے۔ جب عمران خان کو پتہ چلا تو انہوں نے یہ دھمکی دے ڈالی اگرکسی ممبر پارلیمنٹ نے ایسا کیا تو میں پارلیمنٹ توڑ دوں گا اور ان ممبروں کو پارٹی سے بھی نکال دیا جائے گا۔ یہ ان کا احسن قدم تھا۔حالانکہ یہ بھی خبریں گردش میں تھیں کہ چار ممبروں کو منتخب کرنے کے لئے ساٹھ کروڑ کی بولی لگی پھر وہ کم ہوتے ہوئے پندرہ کروڑ تک جا پہنچی ۔

صورت حال کو آصف علی زرداری نے کیش کیا اور اپنا ایک ممبر منتخب کروایا اور عمران خان جس رکن کا نام نہیں بتاتے، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے رقم شوکت خانم کو ڈونیٹ کرنے کی آفر کی تھی۔ یہ لین دین آئن کی شقات کی خلاف ورزی ہے۔ بہر صورت کچھ لو اور کچھ دو کی سیاست کامیاب رہی اور بڑی جماعتوں نے اپنے نمائندے منتخب کروا لئے۔ الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد نے اس موقع پر کہا کہ یہ سینیٹ کے الیکشن پاکستا ن کی تاریخ کا بد ترین دن تھا۔ اور ایسی دھاندلی ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔

اب سینیٹ کے چئیر مین کا انتخاب عمل میں آئے گا اس دوڑ میں بھی پیپلز پارٹی کا گھوڑا جیت جائے گا۔ اس وقت پیپلز پارٹی کے پاس 27 اور ن۔لیگ کے پاس 26 ووٹ ہیں۔ زرداری کے پاس ان مضبوط اتحادی ہیں جبکہ نواز شریف کے پاس کمزور مولوی اور آزاد او ر چھوٹی جماعتوں کے ممبرز ہیں۔جیسا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ اگر جوڈیشل کمیشن قائم کر دیں تو وہ سینیٹ میں ان کا ساتھ دیں گے جو ممکن نظر نہیں آتا ۔

چئیر مین اور ڈپٹی چئیر مین کے لئے بڑی بڑی بولیاں لگ رہی ہیں اور کسی کو ڈپٹی چئیر مین کا عہدہ دئیے جانے کا بھی عندیہ دیا جا رہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ بولی بڑی لگتی ہے یا ڈپٹی چئیر مین کا عہدہ کسی پارٹی کو دیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک کی ستم ظریفی یہ کہ اس موقع پر فوج، سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن اور مولوی طبقہ بھی خاموش اور آنکھیں بند کئے بیٹھا ہے۔مزید برآں اس الیکشن کے موقع پر میڈیا کو حکومت کی طرف سے کوریج کی اجازت نہیں دی گئی۔جس سے حکومت کا اصل چہرہ بے نقاب ہؤا۔

ہمارے قومی لیڈروں کو چاہئے کہ وہ قرآن کی تعلیمات کے مطابق عمل کریں ۔ یعنی جب بھی بات کی جائے سچی کھری ہو، سیدھی صاف ستھری ہو۔اس میں کوئی بھی داؤ پیچ نہ ہو اور نہ ہی سودا بازی۔ ان باتوں سے قوم میں ایک اعتماد اور معاشرے میں زندگی آسان ہو گی۔ اسی طرح ایک کامیاب معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ اللہ کرے وہ دن ہمیں جلد دیکھنے کو ملے جب ہمارا ملک خوشحال ہو اور اسلام کا بول بالا ہو۔اس موقع پر غالب کا یہ شعر یاد آیا:۔
کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی