انتہا پسندی اور انٹرنیٹ
- منگل 10 / مارچ / 2015
- 4947
ٹیلی ویژن کے بعد انٹرنیٹ بھی ایک عجیب و غریب چیز کا نام ہے۔ ٹی وی کے مختلف چینلوں کی طرح جب ہم آپ گھر بیٹھے دنیا بھر کے مناظر دیکھتے ہیں، بالکل اسی طرح انٹرنیٹ بھی آپ کی دنیا کے گوشے گوشے کی معلومات فراہم کرتا ہے اور وہ بھی سیکنڈز میں۔ ادھر آپ نے متعلقہ ویب سائٹ کا ایڈریس ٹائپ کیا اور اُدھر وہ سائٹ آپ کی نظروں کے سامنے ہوتی ہے، اس میں بعض خبروں کی سائٹس ہیں تو بعض کمپنیوں، اداروں اور تنظیموں کی۔ انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے تعلق سے مختلف قسم کی معلومات بہم پہنچانا اب کوئی نئی بات نہیں رہی اور یہ اب بہت محفوظ بھی ہے۔
اگر کوئی ادارہ اپنے تعلق سے کوئی معلومات اخبار یا ٹیلی ویژن کے ذریعے عوام تک پہنچانا چاہتا ہے تو اس میں اس کا عمل دخل معلومات کی فراہمی تک ہوتا ہے اور بس۔ اس کے بعد اخبار یا ٹی وی کے ارباب اختیار و اقتدار یا عملے کی صوابدید پر ہوتا ہے وہ چاہیں تو من و عن عوام تک پہنچائیں یا اسے سرے سے غائب ہی کر دیں۔ یہی وجہ ہے کہ انٹرنیٹ کو انتہائی محفوظ تصور کیا جاتا ہے کہ اس کے ذریعے فراہم کی جانے والی معلومات میں کوئی بھی شخص حارج نہیں ہوتا ، معلومات فراہم کرنے والے سے متعلق حاصل کرنے والے کا براہ راست رشتہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی دہشت گرد اور انتہا پسند تنظیمیں بھی بے دریغ اس میڈیم کو استعمال کرر ہی ہیں۔
پاکستان کی لشکر طیبہ، بھارت کی سیمی، مشرق وسطیٰ کی حزب اللہ اور حماس، پیرو کی ماﺅ نواز تنظیم، داعش، بوکوحرام اور القاعدہ کے انتہا پسند عناصر۔ یہ سب انٹرنیٹ سائٹس کے ذریعے اپنا پرچار کرنے میں کسی قسم کی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ انٹرنیٹ پر ان کی اپنی سائٹس موجود ہیں جو ان کیلئے اس اعتبار سے مؤثر ہیں کہ اس میں کسی کا عمل دخل نہیں ہے۔ نہ تو فراہم کی جانے والی معلومات میں کسی قسم کا ردوبدل ہو سکتا ہے نہ اس کا زاویہ بدلا جا سکتا ہے۔ حماس کی ویب سائٹس پر سیاسی کارٹون، وڈیو کلپ اور تصاویر موجود ہیں جن میں دکھایا جاتا ہے کہ اسرائیل اور اسرائیلی فوج فلسطینی عوام پر کتنا ظلم و ستم توڑر ہے ہیں۔ وہ چاہے القاعدہ ہو یا الجیریا کے انتہا پسند، پاکستان کے لشکر طیبہ ہو یا سری لنکا کے تامل ٹائیگرز، انٹرنیٹ سب کیلئے ایک اہم ذریعہ تشہیر بن گیا ہے۔
جیسا کہ سب جانتے ہیں دنیا کے مختلف علاقوں میں جو تنظیمیں کام کر رہی ہیں وہ سب کی سب دہشت گردی یا انتہاپسندی پر مبنی نہیں ہیں بلکہ ان میں کچھ ایسی بھی ہیں جو حق و انصاف کیلئے لڑ رہی ہیں۔ جیسا کہ فلسطین کی بازیابی کیلئے ہتھیار اٹھانے والی حماس اور لبنان کی حزب اللہ، تاہم یہ اپنے اپنے نظریات کے فروغ کیلئے انٹرنیٹ کا استعمال کر رہی ہیں۔ یہ الگ بات کہ مبصرین ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ انٹرنیٹ ان تنظیموں کے نظریات کے فروغ میں کتنا مؤثر رول ادا کر رہا ہے۔ تاہم ایک بات پر وہ متفق ہیں کہ انٹرنیٹ ہولڈرز کو اپنے بارے میں بتا کر انہیں اپنے حق میں ہموار کرنے یا سرمایہ اکٹھا کرنے میں انٹرنیٹ ان کی پوری مدد کر رہا ہے۔ بعض تنظیمیں خود چندہ، ڈونیشن، زکوٰة یا وغیرہ کی اپیل نہیں کرتیں بلکہ اپنے حامیوں کے ذریعے یہ درخواست انٹرنیٹ ہولڈرز تک پہنچاتی ہیں۔
ایک ایسا ہی ”دوست ادارہ“ لندن میں واقع عظام پبلی کیشنز ہے جس نے اپنی ویب سائٹ جہادی تنظیموں کیلئے وقف کی ہوئی ہے۔ اس ویب سائٹ سے افغانستان کے طالبان، القاعدہ کے مجاہدین، چیچنیا کے جنگجو اور لشکر طیبہ جیسی جہادی تنظیموں کیلئے مالی امداد کی اپیل کی جاتی رہی ہے۔ فرانس کے ایک اخبار نے اپنے ادارئیے میں لکھا ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے فنڈ کی اپیل کرنے اور فنڈز حاصل کرنے والی انتہا پسند تنظیموں میں سب سے آگے لشکر طیبہ ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر انگریزی کے علاوہ اردو، عربی اور فرانسیسی تحریریں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
لشکر طیبہ کو کتنی امداد حاصل ہوتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل یہ تنظیم اپنا ذاتی بینک کھولنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ ابھی کچھ عرصہ قبل تک آئرلینڈ آئی این سی نے جو کہ اٹلانٹا میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی ایک درمیانے درجے والی کمپنی ہے حزب اللہ کیلئے کئی ویب سائٹس کا انتظام کیا لیکن پھر یہ خدمات واپس لے لیں۔ اس کمپنی کا کہنا ہے کہ حزب اللہ سے وابستہ افراد نے ویب سائٹس کے استعمال کی متعدد شرائط کی پاسداری نہیں کی۔ اس لئے ہم نے اس سے ناطہ توڑ لیا۔
اب حزب اللہ کے لوگ ایک لبنانی کمپنی کی خدمات حاصل کئے ہوئے ہیں۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی ویب سائٹ پر ہر مہینے 60ہزار سے زائد افراد وزٹ کرتے ہیں اس مقبولیت کی وجہ سے حزب اللہ کو کتنا فائدہ پہنچتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک موقع پر حزب اللہ نے اسرائیلی فوج کو اپنی رپورٹ بدلنے پر مجبور کر دیا کہ حزب اللہ نے جو حقائق پیش کئے تھے ان کے سامنے اسرائیلی فوج کی خبر جھوٹی ثابت ہو سکتی تھی۔ اسی طرح یہودیوں کی انتہاپسند تنظیم جو اسرائیل سے تمام عربوں کے انخلا کیلئے کام کر رہی ہے اس نے KAHANE.ORG کے نام سے اپنی ویب سائٹ بنا رکھی ہے اس تنظیم کے حامیوں نے 1994 میں مغربی کنارے کی ایک مسجد میں 48 فلسطینی نمازیوں کو سجدے کی حالت میں شہید کر دیا تھا۔
عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ انتہاپسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد جدید ٹیکنالوجی یا کمپیوٹر کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے۔ یہ تاثرغلط ہے۔ وہ کمپیوٹر کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں اور انٹرنیٹ کی سہولت سے فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔ انٹرنیٹ ان کیلئے سپورٹ حاصل کرنے کا خاصا مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ جب کوئی پیغام آپس کے لوگوں کو پہنچانا ہوتا ہے تو وہ انٹرنیٹ کو محفوظ نہیں کہتے بلکہ اپنے پیغام کو Emcryfred انداز میں روانہ کرتے ہیں، تاکہ کوئی اور ان کو سمجھ نہ پائے۔ کیونکہ امریکہ کی ایف بی آئی ایک ایسا حربہ استعمال کرتی ہے جس کے ذریعے ای میل کو روک کر اسے پڑھا جا سکتا ہے۔
ایم آئی فائیو اور اسکاٹ لینڈ یارڈ نے بھی اسی قسم کے پروگرام تیار کئے ہوئے ہیں جن کو وہ بروئے کار لاتی رہتی ہیں۔ ورجینیا کی ایک کمپیوٹر کمپنی کا کہنا ہے کہ جب انتہا پسند تنظیموں اور متعلقہ حکومتوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو سائبر اسپیس میں سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں۔ میرے حساب سے یہ ”سرگرمیاں“ کمپیوٹر کی اسکرین تک ہی رہنی چاہئیں اس سے آگے نہیں۔