سینیٹ انتخاب میں حکمران جماعت کی ہزیمت
- جمعہ 13 / مارچ / 2015
- 3913
سینیٹ الیکشن میں حکمران جماعت نے پنجاب میں کلین سویپ کیا تو پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے اتحاد نے سندھ میں صفایا کر دیا۔ بلوچستان میں بھی حکمران اتحاد نے کامیابی سمیٹی ۔ جب کہ خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ بظاہر ان انتخابات میں کسی قسم کا بڑا اپ سیٹ دیکھنے کو نہیں ملا لیکن اس کے باوجود سینیٹ انتخابات وفاق میں حکمران جماعت کے لیے کوئی اچھا پیغام لے کر نہیں آئے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کو سینیٹ میں زیادہ نشستیں مل گئی ہیں لیکن زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے باوجود حکمران جماعت اپنا چیئرمین سینیٹ لانے میں ناکام رہی اور بادل نخواستہ رضا ربانی کی حمایت کرنا پڑی کیوں کہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔
پنجاب میں کسی بڑے اپ سیٹ کی توقع نہیں تھی۔ اس کے باوجود سب کی نظریں ندیم افضل چن پر مرکوز تھیں۔ اور حیران کن طور پر وہ توقع سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ان کے مخالفین کا کہنا تھا کہ وہ 8 سے 10 ووٹ ہی حاصل کر سکیں گے لیکن وہ تقریباً 27 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اور حکمران جماعت کے لئے لمحہء فکریہ ہے کہ ان کے ایم پی ایز نے بھی ندیم افضل چن کو ووٹ دیا ۔ ان کے نام شاید سامنے نہ آئیں لیکن جنوبی پنجاب کی محرومیاں کھل کہ سامنے آ رہی ہیں۔ شاید زرداری کا مقصد ہی ندیم افضل چن کو الیکشن جتوانا نہیں تھا بلکہ وہ نواز شریف کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ وہ جب چاہیں ان کے لوگوں کو ساتھ ملا لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ زرداری صاحب کی یہی صلاحتیں اگلے عام انتخابات میں ان کے لیے مزید مسائل بھی پیدا کر سکتی ہیں۔سندھ کے لوگوں کو پنجاب سے جتوانا بھی میاں نواز شریف کے خلاف رہا ۔ افضل چن کا یہ کہنا حق بجانب ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف پنجاب میں ووٹ ڈالتی تو یقیناًحکمران جماعت کو ایک یا دو نشستوں سے ہاتھ دھونے پڑ تے۔
ہارس ٹریڈنگ ہوئی یا نہیں لیکن حکمران جماعت کو وہ نتائج نہیں مل سکے جن کی توقع سینیٹ انتخابات سے کی جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ اختلافات بھی قدرے واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جیسے ندیم افضل چن کو ن لیگ کے ووٹ پڑے ۔اسی طرح بلوچستان میں بھی حکمران جماعت کو توقع کے مطابق نشستیں نہ مل سکیں۔اور حیران کن طور پر نواز لیگ کے سردار یعقوب ناصر صرف چھ ووٹ حاصل کر پائے اور آزاد امیدوار یوسف بادینی سے شکست کھا گئے۔ جان محمد جمالی پہلے شخص ثابت ہوئے جنہوں نے پارٹی کے برعکس اپنی بیٹی کو ووٹ دیا۔ کلثوم پروین کی نامزدگی سے حکمران جماعت پہلے ہی اختلافات کا شکار ہو گئی تھی۔ اس سلسلے میں خواجہ سعد رفیق کی کوششیں بھی کوئی معجزہ نہ دکھا سکیں۔ اور نتائج سے یہ بات واضح ہو گئی کہ نواز لیگ کے ایم پی ایز نے اپنی پسند کے امیدواروں کو ووٹ دئے جس کی وجہ سے بادینی جیت گئے۔ لہذا بلوچستان میں تین نشستیں حاصل کرنے کے باوجود نواز لیگ کی شکست ہی تصور کی جا رہی ہے۔ بلوچستان میں چھوٹی جماعتوں نے بھی جس طرح نشستیں حاصل کیں اس سے نوازلیگ کو اپنی شکست پر عبرت حاصل کرنی چائیے۔
خیبر پختونخواہ میں ہنگامہ خیزی کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کامیاب ہو گئی ۔ حتیٰ کے پارٹی سے منحرف رکن صوبائی اسمبلی جاوید نسیم نے ووٹ کاسٹ نہ کر کے یہ ثابت کیا کہ ہارس ٹریڈنگ نہیں کی گئی۔ اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود پولنگ کا عمل رات آٹھ بجے تک جاری رہا۔ اور کوئی ایس بڑا اپ سیٹ نہیں ہوا جس سے یہ تاثر ملے کہ پاکستان تحریک انصاف کو نقصان ہوا ہے۔
فاٹا کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس نے ایک نیا پنڈوڑا باکس کھول دیا ہے ۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ ص بھی اس بات پر حکومت سے شکوہ کناں ہیں۔ یہ صدارتی آرڈیننس کسی ڈر کے پیش نظر آیا یا اس کی کوئی واضح وجہ بھی تھی اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا ۔ لیکن ایک بات عیاں ہے کہ فاٹا آرڈیننس لانے کی ایک وجہ چیئر مین سینٹ کے انتخاب پر اثرانداز ہونے کی خواہش بھی ہوسکتی ہے۔ تاہم رضا ربانی کی حمایت کے بعد فاٹا میں الیکشن بھی اب شاید جلد ہی ہو جائیں۔ مزید برآں فاٹا کے بارے میں کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنے کا وقت بھی شاید آن پہنچا ہے۔ وہاں کے لوگوں کو حق دیا جائے اور ایک عوامی ریفرنڈم کروایا جائے جس سے وہاں کے لوگ خود فیصلہ کریں کہ آیا وہ خیبر پختونخواہ کا حصہ رہنا چاہیں گے یا ایک الگ صوبے کی حیثیت میں اپنی ایک الگ شناخت برقرار رکھنا چاہیں گے۔
میاں صاحب کی طرف سے نئے چیئرمین سینیٹ کے لئے رضا ربانی کی حمایت کے بیان کے بعد یارانِ نکتہ چیں ایک بار پھر سے زرداری کی صلاحیتوں کے معترف ہو گئے ہیں۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ایک طرف آصف زرداری نے پنجاب میں چن کو ووٹ ڈلوا کر نواز شریف کو اپنی اہمیت کا احساس دلا دیا ہے اور دوسری طرف مولانا فضل الرحمان اور اے این پی کو ساتھ ملا کر نئے چیئرمین سینیٹ کے لیے ایسے حالات پیدا کر دئے کہ مسلم لیگ ن کے پاس رضا ربانی کی حمایت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا۔یا یوں کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ زرداری نے ایک ایسا کھلاڑی میدان میں بھیجا جس کی وجہ سے میاں صاحب نہ چاہتے ہوئے بھی گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور ہو گئے۔ ایک عام پاکستانی کے لئے یہ بات یقیناًباعث فخر ہے کہ جمہوری عمل مکمل ہوا۔