دو ملکوں میں شہریت حرام

  • اتوار 15 / مارچ / 2015
  • 4401

چند برس اُدھر کی بات ہے ، میں ٹرین پکڑنے کے لیے  درامن کے ریلوے سٹیشن کی انتظار گاہ میں بیٹھا تھا ۔ میرے ہاتھ میں وہ بستہ الف تھا جو عموماً پیشہ ور اساتذہ کے پاس ہوتا ہے ۔  میں اخبار دیکھ رہا تھا اور میرے برابر کی بنچ پر بیٹھی ایک سفید فام نارویجن خاتون مجھے مُسلسل تکے جا رہی تھی ۔ اُس کی آنکھوں سے ناپسندیدگی کا زہر ٹپک رہا تھا ۔ یہ میل اُس وقت چوکھا آتا ہے جب یا تو کسی کی موجودگی ناگوار لگے یا تیز ہوا سے گرد اُڑ کر آنکھوں میں پڑ رہی ہو ۔

میں اُس کی چبھتی ہوئی نظروں کی زد میں تھا اور بے چینی سے محسوس کر رہا تھا اچانک اُس نے مجھے مخاطب کر کے کہا :
" تم یہاں ناروے میں کیا کر رہے ہو؟ "
میں نے نگاہ اُٹھا کر بوکھلائے ہوئے لہجے میں جواب دیا ، “ میں یہی تو معلوم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ میں یہاں کیا کر رہا ہوں ۔ جب مجھے پتہ چل گیا کہ میں یہاں کیا کر رہا ہوں تو میں نہ صرف آپ کی بات کا جواب دوں گا بلکہ یہاں سے چلا بھی جاؤں گا  “ ۔

ہم میں سے بعض تارکینِ و طن کا معاملہ بھی عجیب ہے کہ ایک تو ہمیں پردیس راس نہیں آیا اور اوپر سے وطن بھی چھوٹ گیا ۔  سچ پوچھیں کہ جس طرح محاورے میں دو ملاؤں کے درمیان مُرغی حرام ہوتی ہے اسی طرح دو ملکوں کے درمیان ہماری شہریت اور قومی شناخت حرام ہو گئی ہے ۔ ہماری بدقسمتی کہ اس وقت دنیا کا کوئی کونا جہادی تنظیموں اور اُن کے جنگجوؤں سے خالی نہیں  ۔  جب سے نائن الیون کی واردات ہوئی ہے تب سے فضائی راستے بھی خطرناک ہو گئے ہیں  اور اب ان زمانوں میں جب ہوائی جہاز مسافروں سمیت لا پتہ ہونے لگے ہیں ، زندگی کی نا آسودگی میں اور بھی اضافہ ہوگیا ہے ۔ اوسلو میں مُلّا کریکر جیسوں کی وجہ سے ماحول میں آلودگی رہتی ہے  اور ارضی فرشتے ہر روز اسلام کے دروازے پر دہشت گردی کا لیبل لگا جاتے ہیں ۔

میں نہیں جانتا کہ میری مِٹّی اتنی بد نصیب کیوں ہے جو ماں باپ کی آخری آرام گاہوں سے دور قطب شمالی کے نواح میں برف پھانک رہی ہے ۔ میں تو اُن اقتصادی طالع آزماؤں میں سے نہیں ہوں جو گھر سے دولت مند بننے کے لئے نکلتے  ہیں اور پردیس پردیس کی خاک چھان کر ڈالر ، یورو اور پاؤنڈ جمع کرتے ہیں اور پھر گن گن کر رکھتے ہیں  اور پھر  وہ بھی بالآخر اُسی  خاک کا رزق بنتے ہیں جو مفلسوں ، ناداروں اور سکول کے بچوں کو یکساں بے رحمی سے کھا جاتی ہے ۔ لیکن یہ سب کیوں ہوتا ہے ؟

میں اس سوال پر اکثر مراقبہ کرتا ہوں اور ہر بار اسی نتیجے پرپہنچتا ہوں کہ وہ پاکستان جسے بنانے کے لئے کل ہند مسلم لیگ ،  قائد اعظم کی قیادت میں نکلی تھی ، پاکستانی قوم سے نہ صرف  بن نہیں پایا  بلکہ اس کو باقاعدہ پروگرام کے تحت بننے ہی نہیں دیا گیا ۔  چار فوجی طالع ازماؤں نے فوجی قانون کے تحت اسے لگ بھگ چالیس برس تک تختہ ء مشق بنایا ۔ پرانے سیاست دانوں کو نا اہل قرار دے کر نئے سیاستدان متعارف کروائے لیکن اس ملک کے عوام کا بھلا نہ ہونا تھا سو نہ ہؤا  ۔

سچ تو یہ ہے کہ اس ملک کے حکمرانوں نے عوام کو ہمیشہ اپنا قیدی بنا کر رکھا ہے اور اُن کو اپنی ناقص پالیسیوں اور  اپنی ادارہ جاتی انا کی بھینٹ چڑھایا ہے ۔ کرسیوں اور عہدوں کے لالچ نے سیاست دانوں کی اس حد تک مت مار دی ہے کہ اُن میں سے کچھ جی ایچ کیو کی باقاعدہ پارٹی بن کر رہ گئے ۔ ہمارے سیاستدانوں میں ایک پیر صاحب پگاڑا ایسے بھی رہے ہیں جو خود کو بڑی انکساری سے جی ایچ کیو کا آدمی قرار دیتے تھے ۔ اُنہوں نے ایک چھوٹی سی مسلم لیگ بھی جیب میں ڈال رکھی تھی جو اب اُن کے فرزند ارجمند کے ہاتھ کی چھڑی ہے ۔

بیشتر تارکینِ وطن  اس صورت حال کو تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جن جن ملکوں میں اُنہوں نے اپنے ننھے مُنّے پاکستان آباد کر کھے ہیں ، وہاں وہاں اُن کے آبائی سیاسی کلچر کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے اور دو دو ملکوں کے درمیان ہماری شہریت یا قومی شناخت حرام نہ ہو  ۔

لیکن ہمارا آبائی سیاسی کلچر بھی حکومتی کاسہ لیسوں کی بے ضمیری کا شکار ہو گیا ہے ۔ میڈیا میں ہر جگہ وہ لوگ بیٹھے ہیں جو کالے کرتوتوں کو سفید کرنے کا دھندہ کرتے ہیں ۔ باضمیر دانشور کبھی بکاؤ نہیں ہوتا مگر حکمران اُن کی قیمت لگاتے رہتے ہیں جو تمغوں ، عہدوں اور مالی مفادات کی شکل میں دی جاتی ہے ۔ کرپٹ حکمرانوں سے تمغے اور مراعات لینا اپنے ہاتھوں کو کرپشن کی دلالی میں  آلودہ کرنے کے مترادف ہوتا ہے ۔  اس سے ضمیر داغ دار ہوتا ہے لیکن ضمیر کی فکر کسے ہے ؟

یہاں کی روایتی سیاسی جماعتوں میں یا تو لیلائے اقتدار کے عشاق ہیں یا دولت کی دیوی کے پجاری ۔ اور جہاں تک مذہبی جماعتوں کا معاملہ ہے اُن میں بہت سی صفیں جنّت کی حوروں کے شوہروں نے پُر کر رکھی ہیں ۔  عام آدمی بے چارہ نہ دین کا نہ دنیا کا ۔ وہ صبح و مسا  رو رو کر نبی ء اکرم ﷺ کی خدمت میں عرضیاں بھیجتا رہتا ہے ، جن میں لکھا ہوتا ہے :
اے بادِ صبا ! کملی والے سے جا کہیو پیغام مرا
قبضے سے اُمت بے چاری کے دیں بھی گیا دنیا بھی گئی ( اقبال)