کھانے کا لطف لیجئیے

  • منگل 17 / مارچ / 2015
  • 6250

میرے حساب سے انسان ایک مکمل مخلوق ہے، غذائیت کی مشین نہیں کہ اسے وہی کھلایا جائے جو اس مشین کو ٹھیک ٹھاک انداز میں چالو رکھ سکے۔ انسان کے اپنے حواس خمسہ بھی ہوتے ہیں اور ان کی اہمیت بھی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ صحت مند جسم کیلئے زندگی سے پوری طرح لطف اندوز ہونا اور مثبت انداز فکر اختیار کرنا کتنا ضروری ہے۔

میں نے یہ بات بڑی شدت سے محسوس کی ہے کہ فاسٹ فوڈ بچوں کیلئے ایک کشش اور جادوئی اپیل رکھتی ہے جبکہ جس نسل سے میرا تعلق ہے اس کیلئے کھانے کی نوعیت قطعی مختلف ہے۔ میرے والد متوسط طبقے سے تھے اور ان کی اتنی استطاعت بھی نہیں تھی کہ وہ باہر جا کر کسی اچھے سے ریسٹورنٹ (جسے ہم ان دنوں ہوٹل کہتے تھے) میں ڈنر کریں یا ہمارے دور میں اتنی مصروفیات بھی نہیں تھی کہ بھرے پرے گھر میں جلدی جلدی سینڈوچ یا برگر قسم کی کوئی چیز کھا کر اپنے کام میں مصروف ہو جائیں۔ یہی بات مجھے ورثہ میں ملی ہے اور اگر اس کو دائمی تاثر کہا جائے تو غلط ہو گا کہ آج میں جو کچھ کھاتا ہوں (پینے کی بات یکسر الگ ہے) اس کی کوئی طبی وجہ میرے والد کی عادات میں سے ہی ایک عادت ہے۔

عام طور پر گھرانوں میں ناشتے کے اوقات مقرر ہوتے ہیں اور ان اوقات میں اگر آپ کو بھوک نہیں بھی ہے تب بھی آپ کو اپنے خاندان کے ساتھ کھانے پر بیٹھنا ہوتا ہے اور آپ کو ان کا ساتھ دیتے ہوئے زبردستی کھانا پیٹ میں ٹھونسنا پڑتا ہے۔ لیکن آج کھانے کیلئے میرا کوئی وقت مقرر نہیں جب بھوک لگتی ہے تب کھانا کھاتا ہوں اس طرح مجھے کھانے میں بڑا لطف آتا ہے۔ کہتے ہیں کسی نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ ’’کھانے کے بہترین اوقات کون سے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر نے جواب دیا کہ ’’امیر آدمی کو جب بھوک لگے اور غریب آدمی کو جب بھی مل جائے‘‘۔

اکثر ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہم بھوکے ہیں، میری طرح شاید آپ کی زندگی کیلئے بھی کھانا اولین اہمیت کا حامل ہے۔ میرے لئے اب یہ پیٹ کے بجائے ذہن کا معاملہ بن چکا ہے۔

آج کے دور میں ہم نے خوراک یا غذا کے معیار کا جو مطلب سمجھ لیا ہے وہ یہ ہے کہ ہماری خوراک میں کولیسٹرول کی سطح کتنی ہے یا ہمیں مختلف بیماریوں میں مبتلا کرنے والی چربی یا روغنیات کی کتنی مقدار ہے یا پھر وہ کیمیائی اجزا جو کینسر کا سبب بنتے ہیں کتنے ہیں۔ ہم نے اپنی زندگی کا محور متعدد چارٹس کو بنا لیا ہے۔ کیلوریز کا چارٹ، وٹامن کے چارٹس، معدنی اجزا کے چارٹس یا پھر صحت بخش اجزا کے چارٹس۔ یہ سب کچھ ہم اس لئے کرتے ہیں کہ ہمیں یہ غلط فہمی یا خوش فہمی ہے کہ غذا کا مطلب ڈائٹنگ ہے اور اس کی وجہ غالباً یہ ہو سکتی ہے کہ ہمارے مطالعہ میں اکثر یہ رہتا ہے کہ غذائی صفت قدرتی غذا کو کس طرح مسلسل برباد کئے جا رہی ہے یا پھر یہ کہ ہمارے کسان اور کاشتکار اپنے فارموں اور کھیتوں میں جراثیم کش دوائیں اسپرے کر کے (باقی کے غلط حربوں کا میں دانستہ ذکر نہیں کر رہا) سبزیوں اور فصلوں کا کس طرح ستیاناس کر رہے ہیں۔

یہ حقیقت بھی ہے اور اس سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ یہی وہ اثرات ہیں جن کے باعث ہمارے کھانے کا عمل لذت کے حصول کا سبب نہیں بن پاتا۔ ماضی میں ہم غذا سے جس طرح لطف اندوز ہؤا کرتے تھے وہ دور تو کب کا ختم ہو چکا اور اب کھانا کھانے کا عمل محض ایک ’’بوجھ‘‘ کی شکل اختیار کر گیا ہے (میں یہاں کشور حسین شادباد کی بات نہیں کر رہا) جس کو اتارنے کیلئے ہم جلد بازی سے کام لیتے ہیں۔ ڈائٹنگ کے نام پر ہونے والا یہ شوروغل اور ہنگامہ اپنی جگہ لیکن آپ کو اس سے متاثر یا پریشان ہونے کی فرصت نہیں۔ آپ اپنے کھانے سے پوری طرح لطف اندوز ہوتے رہئے اور صرف اپنے جسم کی پکار سنئے کہ آپ کو صحت مند رکھنے کیلئے اسے کیا کیا غذائیں درکار ہیں۔

آج بھی بہت سے لوگ اس فکر میں دبلے ہوئے جا رہے ہیں کہ ان کیلئے کون سی غذا اچھی ہے اور کون سی بری لیکن ان کا یہ رجحان یا کریز عرصہ گزر جانے کے بعد اس وقت غلط ثابت ہو گا یا ہؤا جب سائنس اور طبی تحقیق کے ذریعے بہت سی ان اشیاء کو جو مدتوں سے ’’بلیک لسٹ‘‘ تھیں اچانک ان کو کلیئرنس مل گئی اور ان کی افادیت بحال ہو گئی۔ انڈا چاکلیٹ یا کافی کی مخالف تحریک نے جو شدت اختیار کر رکھی تھی اس کا اچانک خاتمہ ہو گیا۔ انڈے اب ’’کولیسٹرول بم‘‘ نہیں رہے۔ یہی حال کافی کا ہے جسے اب Antioxidant کی طاقت سے بھرپور سمجھا جانے لگا ہے اور چاکلیٹ کو تو کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف جنگ میں اہم ’’اتحادی‘‘ کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔

طویل عرصہ تک صحت مند غذا کے بارے میں عام تاثر یہ تھا کہ اس کیلئے آپ کو بہت سی قربانیاں دینی پڑیں گی اور اگر کوئی ’’ہلکا پھلکا‘‘ بننا چاہتا ہے تو اس کا مطلب یہ لیا جاتا تھا کہ وہ اپنی پسندیدہ غذاؤں کو خیرباد کہہ دے اور اس کی جگہ پھیکی، بدمزہ اور بدذائقہ غذا کھانا شروع کر دے۔ یہاں عام طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کھانوں سے کس طرح لذت حاصل کی جائے جن سے وہ ’’ڈرتا‘‘ ہے یا جو چیز خوش ذائقہ یا مزیدار لگے وہ کس طرح صحت بخش بھی ہو سکتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ غیر متوازن خوراک یا غذا کو ہم اپنے کھانوں کا ہرگز جز نہ بننے دیں اپنے کھانے کے ساتھ قدرتی انداز میں انصاف کریں۔

ہم اکثر یہ سنتے رہتے ہیں کہ وائٹ بریڈ، مکھن، انڈے، گوشت، کافی اور دودھ وغیرہ کا اس کے علاوہ کوئی مقصد نہیں کہ وہ ہمارے جسم پر حملہ کر کے ہمیں زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچائیں۔ اس سلسلے میں آپ سے یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ ’’آ پ اپنے دشمنوں سے نمٹنے کیلئے کیا رویہ اختیار کریں گے؟ اسے نظرانداز کریں گے، اس سے جنگ کریں گے یا پھر اسے بہلا پھسلا کر رام کریں گے؟ ‘‘اس کے علاوہ مجھے تو کوئی اور راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ آپ کو نظر آتا ہو تو دوسری بات ہے۔