نظام میں اصلاحات
- منگل 17 / مارچ / 2015
- 4700
سینیٹ کے انتخابات کے بعد نئے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری اپنے عہدوں کا حلف اٹھا چکے ہیں۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ سینیٹ کے انتخابات کے ساتھ ہی جمہوریت کا عمل مکمل ہؤا اور پارلیمانی نظام کی تشکیل کی طرف اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔
اب صرف فاٹا کے بارے میں فیصلہ ہونا باقی ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ پاکستان کے پارلیمانی نظام کے دونوں اہم ستون ہیں۔ سینیٹ یعنی ایوان بالا اور قومی اسمبلی یعنی ایوان زیریں دونوں مل کر پارلیمنٹ تشکیل دیتے ہیں۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ممبران میں سے ہی کابینہ تشکیل پاتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف امور کی انجام دہی کے لیے قائم کی گئی کمیٹیوں کے ممبران کا چناؤ بھی ہوتا ہے۔
پاکستان میں جس طرح باقی معاملات میں پیچیدگیاں موجود ہیں اسی طرح پارلیمانی نظام میں بھی پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں۔ سینیٹ کے قیام کا مقصد تمام وفاقی اکائیوں کو برابر کی نمائندگی دینا ہے کیوں کہ قومی اسمبلی میں صوبوں کو نمائندگی آبادی کے تناسب سے دی گئی ہے۔ قومی اسمبلی کا طریقہ انتخاب عوام ہیں جب کہ عوامی نمائندے سینیٹ کی تشکیل کے لیے ووٹ دیتے ہیں۔ اس وقت مجبوعی طور پر 446 پارلیمانی نمائندے ہیں۔ جن میں سے 104سینیٹ اور 342 قومی اسمبلی کے ممبر ہیں۔ سینیٹ کے 104ممبران میں فاٹا کے 4ارکان بھی شامل ہیں۔
بظاہر یہ نظام بہت سادہ معلوم ہوتا ہے لیکن اصل میں انتہائی پیچیدہ ہے۔ اس نظام کو شاید مکمل اوورہالنگ کی ضرورت ہے کیوں کہ موجودہ حالت میں یہ نظام عوام کو فائدے کے بجائے نقصان دے رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کہنے کو تو پارلیمان کے ممبر عوامی نمائندے ہیں لیکن یہ عوامی نمائندے صرف عوام کو فائدہ پہنچانے کے سوا باقی ہر کام کر رہے ہیں۔
سب سے بڑی خامی اس نظام کی یہ ہے کہ اس میں پیسہ شامل ہے ۔ حیران کن حقیقت یہ ہے کہ عوامی ایوان کا رکن بننا کسی عام بندے کے بس کی بات نہیں۔ مختلف ادوار میں الیکشن کمیشن کی طرف سے اخراجات کی تفصیلات طے کی جاتی رہی ہیں۔ لیکن یہ ایک اوپن سیکرٹ ہے کہ قومی اسمبلی کا ممبر بننے کے لئے جس طرح کھلے عام پیسہ صرف کیا جاتا ہے، وہ ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ کا ممبر بن جانے کے بعد اور خاص طور پر قومی اسمبلی کا ممبر بن جانے کے بعد فنڈز کی صورت میں آمدنی کا نہ صرف ایک مستقل ذریعہ قائم ہو جاتا ہے بلکہ قومی اسمبلی میں آنے جانے کا خرچ بھی ملنا شروع ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ممبران کو وفاقی دارلحکومت جیسے علاقے میں رہائش بھی فراہم کی جاتی ہے۔ ماہانہ تنخواہ اور دیگر مراعات بھی ملتی ہیں۔ اور سب سے بڑھ کے اختیارات کا ناجائز استعمال قومی اسمبلی ممبران کی بہت بڑی خصوصیت ہے۔ اختیارات کے استعمال میں سینیٹ ممبران بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ عوام کی خدمت کرنے کے دعوے دار کروڑوں روپے خرچ کر کے ایوان کا حصہ بنتے ہیں۔ کیا وہ یہ مصارف عوام کی فلاح کے لئے برداشت کرتے ہیں؟ اس سوال کا جواب شاید اتنا مشکل نہیں ہے۔ ایوان کا رکن بننے کے بعد کلف لگے کرتے زیب تن کئے سردار، سوٹ بوٹ پہنے بابو، شیروانیاں پہنے جاگیردار عوام سے یکسر لاتعلق ہو جاتے ہیں۔
سینیٹ کی صورت حال بھی کوئی خاص تسلی بخش نہیں ہے۔ ایوان بالا میں تمام صوبوں کو متناسب نمائندگی دی گئی ہے جب کہ فاٹا کی نمائندگی بھی موجود ہے۔ لیکن سینیٹ کا کردار بھی عوام کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ جو لوگ قومی اسمبلی کے رکن نہیں بن پاتے ۔ یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ سینیٹ کی اکثریت ایسے لوگ ہوتے ہیں جو یا تو قومی اسمبلی کا الیکشن ہار جاتے ہیں یا دیگر وجوہات کی وجہ سے قومی اسمبلی کے ممبر نہیں بن پاتے ۔ یعنی ایک جگہ سے ریجیکٹ ہونے کے بعد بھی دوسری جگہ موقع مل جاتا ہے۔
قومی اسمبلی کو مجلس قانون ساز بھی کہا جاتا ہے یعنی قومی اسمبلی کا بنیادی کام قانون بنانا ہے ۔ تفصیلی رائے تو قانونی و آئینی ماہرین ہی دے سکتے ہیں لیکن ایک عام آدمی کی سمجھ بوجھ کے مطابق قومی اسمبلی اس کام کے سوا باقی سب کام کر رہی ہے اور قانون سازی صرف سیاسی جماعتیں بندر بانٹ کے لئے کر رہی ہیں۔ عوام کی فلاح کے لئے نہیں۔ جب کہ سینیٹ کا کام صرف برابر صوبائی نمائندگی اور قومی آہنگی کو فروغ دینا ہی رہ گیا ہے۔
عام آدمی پارلیمان کے بارے میں جو سوچتا ہے وہ شاید دیوانے کی بڑ ہو۔ لیکن بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت ہے۔ سب سے پہلی ضرورت قومی اسمبلی میں اصلاحات کی ہے۔ قومی اسمبلی کے ممبران میں فنڈز کی تقسیم روک دیں۔ ان کو مراعات بھی اتنی ہی دیں جتنی ایک عام سرکاری ملازم کو ملتی ہیں۔ اندازہ لگائیں کہ جو بندہ کروڑوں روپے خرچ کر کے ایوان کا رکن بنے گا وہ کیسے خود کو عوامی نمائندہ کہلوانے کا حقدار ہو سکتا ہے۔ یا وہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ وہ عوام کی فلاح کے لیے کام کرے گا۔
قومی اسمبلی کے ممبران کو ممبر فنڈ اور صوابدیدی فنڈ کے فریب سے آزاد کر دیا جائے۔ اور ان کی مراعات بھی سرکاری ملازم کے برابر ہی کر دی جائیں تو پھر حقیقت واضح ہو گی کہ کتنے لوگ عوامی نمائندگی کے خیال سے ایوان کا رکن بننے کو ترجیح دیں گے۔ اس کے علاوہ اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنے کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جائے تا کہ ایم این ایز کے سفارشی رقعے رک سکیں ۔ قومی اسمبلی کے اراکین کا کام صرف قانون سازی ہونا چاہیے ۔ اس کے علاوہ ان کو کوئی اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ ایسی صورت میں وہی لوگ قومی اسمبلی میں آئیں گے جو واقعی لوگوں کی خدمت کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں گے۔
سینیٹ ممبران کا انتخاب کروڑوں روپے کی بولیاں لگانے کے بجائے مختلف شعبہ جات کے ماہرین کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔ ہر صوبے سے متناسب نمائندگی کو مد نظر رکھ کر ہی مختلف شعبوں کے ماہرین کو سینیٹ کا رکن منتخب کروایا جائے۔ بے شک صوبائی ممبرز ہی ووٹ ڈالیں لیکن ہر صوبے سے ہر شعبے کا ایک ماہر ایوان کا رکن بنایا جائے۔ جیسے تعمیرات کے شعبے کا ماہر، تعلیم کے لئے کوئی ماہر تعلیم، کوئی اعلیٰ پائے کا ڈاکٹر، معروف قانون دان، صنعتکار اس کو شاید ٹیکنوکریٹس بھی کہا جا سکتا ہے لیکن ان میں صوبائی نمائندوں کا عمل دخل بہرحال رہنا چاہیے۔
سینیٹ میں منتخب ہونے والے ہر شعبے کے ماہر کو متعلقہ وزارت کا قلمدان سونپ دیا جائے تا کہ وہ اس وزارت میں اپنی قابلیت کو بروئے کار لاتے ہوئے بہتری کی راہ پہ گامزن کر سکے۔ اس کے علاوہ کسی بھی بنائے گئے قانون کی منظوری سینیٹ، متعلقہ وزارت، اور شعبے کے ماہرین کی مرضی کے بغیر نہ ہو۔ اگر وزارت خزانہ سے متعلق کوئی معاملہ ہے تو ہر صوبے سے ایک بہترین اکانومسٹ جب ایوان کا رکن ہو گا تو مشاورت میں کوتاہی ہونے کے امکانات بہت کم ہو جائیں گے ۔ ہر وزارت اس بات کو یقینی بنائے کہ ترقیاتی فنڈز براہ راست بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے خرچ ہوں اور ان فنڈز کی کڑی نگرانی کے لیے ایک مکمل نظام موجود ہو۔ تا کہ کوئی ہیر پھیر نہ ہو سکے۔
ہمیں اصلاحات کے زریعے پارلیمان کو اتنا سادہ اور عام فہم کرنا ہو گا کہ لوگ اسے سمجھ سکیں اور یہ ادارے عوامی بہبود کا حقیقی مرکز بن جائیں۔