لاقانونیت کا سرطان
- اتوار 22 / مارچ / 2015
- 4422
پاکستان میرا آبائی وطن ہے ۔ میرا سابقہ وطن ۔ میرا دوسرا وطن کیونکہ پچھلے تیس برس سے میں نارویجئن شہری ہوں اور اس سے میرا شہریت کا رشتہ اصولوں کی بنیاد پر ہے ۔ اس رشتے کا سبق میں نے اپنے آبائی کلچر کے مدرسے میں پڑھا تھا ۔ مجھے سکھایا گیا تھا :
“ حب الوطن من الایمان “ ۔
وطن کی محبت ایمان کا جزو ہے ۔ محبت خونی رشتہ ہے اور میں اپنے پاکستانی خون کی قسم کھا کر خاکِ وطن کو سلام کہتا ہوں اور تمام پاکستانیوں کو 23 مارچ کی مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ یہ یومِ قراردادِ پاکستان ہے ۔
خونی رشتہ خواہ ماں باپ سے ہو ، بہن بھائیوں سے ہو ، دوستوں سے ہو ، ملت سے ہو ، معاشرت سے ہو یا خالقِ کائنات سے ہو ، اس کے سلسلے زمیں سے آسمان تک ، اور چاروں براعظموں کے بّری کناروں تک پھیلے ہوئے ہیں ۔ بطور نارویجین شہری میں پاکستان اور ناروے کے باہمی رشتے کو بڑی اہمیت دیتا ہوں اور اکثر گنگناتا ہوں :
اک ساگر کے موتی دونوں پاکستان اور ناروے
اِک اگنی کی جوتی دونوں پاکستان اور ناروے
ہم تارکینِ وطن اپنے شب و روز میں دو تہذیبوں ، دو مذہبی نظریوں ، دو زبانوں اور دو برِ اعظموں کے درمیان پُل تعمیر کرتے رہتے ہیں ۔ ہم تارکینِ وطن یارانِ سرِ پُل ہیں اور اس یگانگت کے پُل پر کھڑے ناروے کی پہاڑیوں سے پاکستان کے میدانوں میں جھانکتے رہتے ہیں ۔
آج “ دنیا ٹی وی “ کے ایک پروگرام نے اچانک میرے اعصاب کو اپنے گرفت میں لے لیا جس میں کسی صاحبِ حیثیت رکنِ اسمبلی کے بد تمیز بیٹے نے غیر قانونی طور پرہوائی فائرنگ کی ، ناجائز طور پر اسلحہ استعمال کیا مگر گرفتاری کے چند گھنٹے بعد ایس ایچ او نے ملزم پر عائد سبھی الزامات نظر انداز کر کے اُسے رہا کردیا ۔ اور ملزم بڑی شان سے چلتا ہؤا اپنے قانون سے زیادہ طاقتور باپ کی پناہ میں چلا گیا ۔
پاکستان میں قانون ایسے طاقتور باپوں کے ہاتھ میں موبائل فون کی طرح ہوتا ہے جسے وہ جس طرح چاہیں استعمال کر سکتے ہیں ۔
میں نے یہ سب کچھ دیکھا ، ایک ٹھنڈی آہ بھری اور خون کا گھونٹ پی کر رہ گیا ۔
خون کے گھونٹ پینا کچھ لوگوں کا مقدر بن جاتا ہے ۔ گذشتہ دوتین روز سے ماڈل گرل ایان علی کی لاکھوں ڈالر کی منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتاری سے پیدا شدہ صورتِ حال سوہانِ روح بنی ہوئی ہے ۔ اس میں کچھ ایسے لوگوں کے نام بھی ہیں جو بے پردہ ہوتے ہوئے بھی پردہ نشیں ہیں ۔ یہ لوگ ہمارے جمہوری ماضی کے سیاسی ہیرو ہیں ۔ ایان علی نے گرفتاری کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ یہ رقم سابق وزیرِ داخلہ رحمان ملک کے بھائی کی تھی ۔ یقیناً ہو گی ۔ سوئس بنکوں میں پہلے سے ہی بہت بڑی بڑی رقمیں پڑی ہیں جو غیر قانونی طور پر وہاں جمع کی گئی ہیں ۔ لیکن کیا کریں :
شرم ہم کو کبھی نہیں آتی
میں ایم کیو ایم کے کراچی میں نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کی بات نہیں کروں گا کیونکہ سابق صدر زارداری اس چھاپے کی مذ مت کر چکے ہیں ۔ میں بے چارہ کون ہوں کہ قلم کی نوک سے اس بارود کو کریدوں ۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے کو تباہ کرنے میں جس رویے نے بنیادی کردار ادا کیا ہے ، وہ لاقانونیت ہے ۔ قانون شکنی ہے ، قانون کی بے حُرمتی ہے ۔ قانون کو ہاتھ میں لینے کی لعنت ہے ۔ جی ہاں ، قانون کو ہاتھ میں لینے والے لعنتی ہی ہوتے ہیں ، بالکل ابلیس کی طرح جس نے خُدا کی اطاعت کا قانون توڑ کر آدم کو اپنی تعظیم پیش کرنے سے ہی انکار کیا تھا ۔
ایک روایتی مذہبی معاشرے میں قوانین کی تین مختلف سطحیں اور پرتیں ہوتی ہیں ۔
1۔ خُدائی قانون کی عملداری جسے اللہ کی اطاعت کہتے ہیں ۔
2 ۔ ادارہ ء رسالت سے جاری ہونے والے قوانین کی عملداری جو اطاعتِ رسول ﷺ کہلاتی ہے ۔
3 ۔ حاکم وقت کی اطاعت جو اُلی الامر کی اطاعت ہے ، جو ملک کے مروجہ قوانین اور آئین کی اطاعت ہے ۔
یہ تینوں اطاعتیں مل کر قانونی وحدت بناتی ہیں ۔ یہ قانون کی مثلث کے وہ تین اضلاع ہیں جن میں سے کسی ایک ضلعے کی عدم موجودگی یا کمزوری سے یہ مثلث ٹوٹ جاتی ہے ۔
لیکن ہماری بد قسمتی کہ ہمارے وہاں قانون کی مثلث اُن ان پڑھوں نے اغوا کر رکھی ہے جو قانون و آئین کی ریاضی سے واقف ہی نہیں ہیں ۔ البتہ ایک چھوٹا سا حکمران گروہ ایسا ہے جو زندگی کی ریاضی کے علم کا دعویٰ رکھتا ہے مگر وہ بھی قانون شکنی ، لاقانونیت اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی لت میں مبتلا ہے ۔ لاقانونیت ایک نشہ ہے جو تاثیر میں تمام نشوں سے بدترین ہے ۔ یہ کافر نشہ جب لگ جاتا ہے تو تمام نشوں سے زیادہ مہلک اور تباہ کُن ثابت ہوتا ہے ۔
لاقانونیت کے اس نشے کی شدّت سے پورے معاشرتی نظام کے حواس مُختل ہو چکے ہیں ۔ اُن تمام اداروں نے جو کسی قوم کے اساسی ستون ہوتے ہیں ، قانون کو ہاتھ میں لے رکھا ہے ۔
سرسٹھ برس کی تاریخ گواہ ہے کہ فوج نے چار بار آئین کو ہاتھ میں لیا ، اور عدلیہ نے اس آئین شکنی کی توثیق کر کے اسے جائز قرار دیا ۔ نظریہ ء ضروت ایجاد کر کے نظریہ ء پاکستان کی جگہ نافذ کردیا گیا ۔ علماء نے اسلام کو فتوے کی شکل میں ہمیشہ اپنے ہاتھ کی چھڑی بنا کر رکھا اور سیاستدانوں نے تو قانون شکنی کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں تمام حدیں ہی پار کر دیں ۔
لیکن دل چسپ مگر مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ یہ قانون شکن مسخرے قانون کی بالادستی کے نعرے لگا لگا کر بے ہوش ہوئے جاتے ہیں مگر اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے ۔