بھگت سنگھ ۔۔۔ اجالے کا پیامبر

  • منگل 24 / مارچ / 2015
  • 3676

تاریخ کا ایک مزاج یہ بھی ہے کہ وہ صرف عمومی واقعات کو قلمبند کرتی ہے جبکہ تاریخ کے نیچے ایک اور تاریخ دبی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ کتابوں سے سچائی سیکھتے ہیں اور کچھ لوگ حقائق سے۔ میرے حساب سے استعمار، سامراج اور غلامی کے خلاف جدوجہد بھول کے خلاف یاد کی جدوجہد ہے۔

میں اسے پاک و ہند کی بدقسمتی ہی کہوں گا کہ یہاں 28ستمبر جیسے اہم دن جس دن بھگت سنگھ کی ولادت ہوئی اور 23 مارچ جس دن وہ کوئے دار روانہ ہؤا ۔۔۔ کو بھلا دیا گیا ہے اور شاید بہت سے لوگوں کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ یہ دن کتنا اہم ہے اور اسے باقاعدہ ایک قومی  ’’یوم شہید‘‘ کے طور پر منایا جانا چاہئے۔ شاید بہت سے پاکستانی یہ نہیں جانتے کہ پنجاب کے ہیرو اور سپوت نشان حیدر پانے والے راجہ عزیز بھٹی نے اپنے ایک مضمون میں بھگت سنگھ کو اپنا ہیرو قرار دیا ہے۔

بھگت سنگھ حقیقت میں برصغیر کی تاریخ کی ایک زندہ جاوید سچائی اور حقیقت ہے۔ وہ ایک ایسی سچائی ہے جس پر مائتھ (MYTH) کا گماں ہوتا ہے اس کے سامنے ایک آزاد ملک، جاگیردارانہ سماج کے خلاف جدوجہد، انگریزی راج کا خاتمہ، معاشرے کا مذہبی اور زمینی جمود کے خلاف عمل، سیکولر معاشرہ اور مساوات پر مبنی ایک ترقی یافتہ سماج کا خواب رہا ہے۔ اپنی تنظیم کا نام ’’سوشلسٹ ریپبلک آرمی‘‘ رکھنے والا یہ بائیں بازو کا نمائندہ خود کو مزدور و کسان جیسے پیداواری طبقوں کے ساتھ جوڑنے والا انسان ، آنے والی نسلوں کیلئے ترقی پسند تحریک کی تخلیق کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اس کی موت بھی دوسروں کو قربانی کی تحریک و ترغیب دیتی ہے۔

بھگت سنگھ کا گاؤں 66 گ ب بنگا (جڑانوالہ) ضلع لائلپور ہے۔ جہاں وہ پیدا ہؤا اور پرائمری تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے والد کشن سنگھ اور چاچا اجیت سنگھ کا تعلق غدر پارٹی سے تھا۔ بھگت سنگھ کے تین بھائی کلبیر سنگھ، کامتار سنگھ (تیسرے کا نام میں بھول رہا ہوں) تھے، بھگت سنگھ کے ایک ساتھی سحرگل خان کا گاؤں جڑانوالہ کے قریب 238 گ ب میں تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ بھگت سنگھ، سکھ دیو اور راج گرو کی نعشوں کو جب چتا میں رکھ کر آگ لگائی تو آگ نے لاش کو قبول نہ کیا، تین بار یہ عمل دہرایا گیا۔ ایک چشم دید مسلمان انسپکٹر پولیس کا بیان ہے کہ بعد ازاں رات کے اندھیرے میں ان تینوں کی نعشوں کو ٹکڑے کر کے دریائے ستلج کے کنارے حسینی والا کے مقام پر دریا میں بہا دیا گیا تھا۔ بقول انسپکٹر اس دن پنجاب میں کسی بھی گھر میں چولہا نہیں جلا تھا۔ بھگت سنگھ کی شہادت پر مہاتما گاندھی نے ایک جلسہ عام میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ’’بھگت سنگھ اپنے وطن کی حفاظت، غلامی سے نجات اور ظلم کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کیلئے عدم تشدد کی بجائے تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ اس نے موت کے خوف پر فتح پائی اور کامران ہؤا، سارا ہندوستان اس کی جرات و بہادری پر سلام پیش کرتا ہے‘‘۔

جنگ آزادی کے دوران بڑے بڑے قائدین بشمول مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو، قائداعظم محمد علی جناح کا مزاج مصالحت پسند رہا۔ صرف بھگت سنگھ نے اپنی زندگی کے آخری دن کے آخری سانس تک مصالحت سے کام نہ لیا۔ کہتے ہیں گاندھی جی پر بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کا خوف طاری تھا۔ جس کی وجہ سے مکمل آزادی کا نعرہ لگایا تھا۔ برطانوی محکمہ خفیہ پولیس کی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بھگت سنگھ مہاتما گاندھی سے زیادہ مقبولیت رکھتے تھے۔

حب الوطنی کے حوالے سے بھگت سنگھ کے علیحدہ اصول تھے۔ بھگت سنگھ نے صرف 18سال کی عمر میں چھ زبانوں پر ماہرانہ دسترس حاصل کر لی تھی۔ وہ اپنے دور کے ذہین ترین سطح کے لیڈر تھے۔ انہوں نے قومی مفاد کو ہمیشہ ذاتی مفاد پر ترجیح دی اور عام آدمی کے اختیارات کی وکالت کی۔ انہوں نے انگریز کی چالبازیوں کو دیکھتے ہوئے حکومت کے جبر کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی کھل کر حمایت کی۔ بھگت سنگھ  غریبوں کے حامی اور انقلابی بھی تھے مگر وہ انسانی زندگی سے بھی انتہائی محبت کرتے تھے۔ انہیں اپنے انقلابی اقدامات پر فخر و ناز تھا۔

دہلی سینٹرل ایڈمنسٹریشن کی بلڈنگ پر بم سے حملہ کرنے کے بعد بھگت سنگھ نے ہتھیار کے ساتھ خود کو پولیس کے حوالے کر دیا اور پھر جیل میں حکام کے رویہ کے خلاف 18 دن تک بھوک ہڑتال کی۔ بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہو گا کہ بھگت سنگھ اور سکھ دیو فلمیں دیکھنے کے بہت شوقین تھے۔ نوعمری میں یہ دونوں بھوکے رہ کر بھی فلمیں ضرور دیکھتے تھے۔ پھر بھید کھلنے پر چند شیکھر آزاد سے ڈانٹ کھانا بھی ان کا شیوہ تھا۔ یہ لوگ چارلی چپلن سے بہت متاثر تھے اور اس کی خاموش فلمیں شوق سے دیکھتے تھے۔

میری معلومات کے مطابق اب تک بھارتی فلم انڈسٹری بھگت سنگھ کے انقلابی کردارو کہانی پر گیارہ فلمیں بناچکی ہے۔ جس میں راجکمار سنتوشی کی ہدایت میں بننے والی فلم کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اس فلم میں مہاتماگاندھی کے کردار کو متنازعہ رکھا گیا ہے جس پر گاندھی جی کے خاندان کے افراد نے شدید اعتراض بھی کیا تھا۔ گاندھی کے پڑپوتے توشار گاندھی نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈائریکٹر راج کمار سنتوشی نے بھگت سنگھ کے کردار کو بلند کرنے کیلئے گاندھی کی غلط تصویر پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھگت سنگھ نے حصول آزادی کیلئے ہتھیار اٹھانے کا طریقہ اختیار کیا جبکہ مہاتما گاندھی امن کے علمبردار تھے۔ دونوں کی راہیں جدا تھیں لیکن ان کا مقصد ایک تھا اور دونوں کو ایک دوسرے سے تعاون کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا۔

بھگت سنگھ کا ’’جرم‘‘ یہ تھا کہ اس نے دیس کی آزادی کیلئے تحریر و تقریر سے لے کر دامے درمے سخنے  اقدام کیا۔ انگریزوں نے بھگت سنگھ اور اس کے دو ساتھیوں سکھ دیو اور راج گرو کے خلاف سانڈرز نامی ایک پولیس افسر کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے جرم میں مقدمہ چلایا اور یہ تینوں ’’ قصوروار‘‘ ٹھہرائے گئے جس پر 23مارچ 1931ء کو لاہور سینٹرل جیل میں ان تینوں انقلابیوں کو برطانوی حکومت نے تختہ دار پر لٹکا دیا۔  سارے ہندوستان میں اس واقعہ سے سنسنی پھیل گئی اور آزادی کی منزل قریب سے قریب تر آ گئی تھی۔

اب آخر میں ایک اہم ترین بات جو میں حکومت پنجاب کے ارباب اختیار اور بالخصوص خادم پنجاب اور وزیراعلیٰ جناب میاں شہباز شریف سے کہنا چاہتا ہوں۔ بھگت سنگھ کا مکان جہاں وہ پیدا ہوئے تھے اور وہ اسکول جہاں انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی، انہیں تاریخی مقامات میں تبدیل کیا جائے کہ وہ دونوں عمارتیں (مکان اور اسکول) انتہائی خستہ حالت میں ہیں۔ یہ اسکول بھگت سنگھ کے دادا ارجن سنگھ نے قائم کیا تھا اس مکان اور اسکول کی تعمیر و مرمت اور تزئین نو کے بعد اسے عالمی ورثہ کے ایک مقام میں تبدیل کیا جانا چاہئے کہ جس طرح وقت کے ساتھ ایک برا وقت ہوتاہے ویسے ہی تاریخ کے نیچے ایک تاریخ دبی ہوتی ہے۔