باعث عبرت
- بدھ 25 / مارچ / 2015
- 4239
صولت مرزا اس وقت پاکستانی میڈیا کا ہاٹ کیک بنا ہوا ہے۔ اس کے تازہ ترین بیانات کے بعد جس میں متحدہ قیادت پر سنگین الزامات لگائے گئے ہیں ۔ اس وجہ سے نہ صرف پاکستانی سیاست کا رخ بدلتا نظر آ رہا ہے بلکہ صنعتی شہر کراچی کے انتظامی ڈھانچے میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے۔ ایک لمبے عرصے سے ایم کیو ایم کو پاکستانی سیاست میں بہت زیادہ اہمیت حاصل رہی ہے ۔ خاص طور پہ کراچی اور حیدر آباد کے سیاسی معاملات میں ایم کیو ایم کی مرضی کے بغیر کسی بھی قسم کا فیصلہ قریباً نا ممکن ہی تصور کیا جاتا ہے۔ یہی غلطی ایم کیو ایم سے ہو گئی کہ انہوں نے خود کو صوبائی جماعت کا روپ دے ڈالا اور قومی سطح کی جماعت نہ بن پائی۔
صولت مرزا کے بیانات نے ملکی سیاست میں ایک بھونچال تو برپا کیا ہی ہے ساتھ ہی ایک نیا پنڈوڑا باکس بھی کھول دیا ہے ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ صولت مرزا کے الزامات کے بعد ایم کیو ایم کسی نہ کسی حد تک بیک فٹ پر چلی گئی ہے ۔ اس کا اندازہ اس بات سے ہی لگا لیجیے کہ جیسے ہی صولت مرزا کا بیان میڈیا کی زینت بنا ، ایم کیو ایم کا کوئی بھی راہنما جارحانہ انداز میں میڈیا پر نمودار نہیں ہوا۔ حالانکہ یہ رویہ ہمیشہ سے متحدہ راہنماؤں کا خاصہ رہا ہے۔ اور حیران کن طور پر کسی مقامی راہنما کے بجائے خود الطاف حسین کو میڈیا پرآنا پڑا۔ اور وہ بھی پہلے پہل جب میڈیا پرآئے تو قدرے غصے میں دکھائی دیے ۔ شاید انہیں میڈیا سے یہ امید نہیں تھی کہ اس طرح صولت مرزا کے بیان کو وقت دیا جائے گا۔اور شاید ایم کیو ایم کی قیادت یہ توقع بھی نہیں کر رہی تھی کہ صولت مرزا اس طرح بلند و بانگ ویڈیو پیغام کا سہارا لے گا۔ نقاد کہتے ہیں کہ جب الطاف حسین نے صولت مرزا سے قطع تعلقی کی اور پھانسی دینے کی بات کی تو اس وقت شاید صولت مرزا نے بھی کوئی فیصلہ کر لیا۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ صولت مرزا کو ویڈیو پیغام کی سہولت ملنا نہ تو قانون میں موجود ہے نہ ہی جیل مینوئل میں اس کی کوئی گنجائش ہو گی ۔ لیکن نہ تو ایم کیو ایم کوئی عام جماعت ہے نہ ہی صولت مرزا کوئی عام قاتل ۔ اسی لئے شاید ارباب اختیار نے صولت مرزا کو یہ سہولت دینے کے فیصلہ کیا۔
صولت مرزا کے بیانات سے پہلے کسی بھی معاملے پر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی میڈیا میں مضبوط دفاع کے حوالے سے جانی جاتی تھی۔ لیکن اس ویڈیو پیغام کے بعد رابطہ کمیٹی کے اراکین منظر سے غا ئب ہی رہے ۔ حیدر عباس رضوی اور بابر غوری صاحب جو ہمیشہ سے ایم کیو ایم کی زبان رہے ہیں اس معاملے میں اس لئے بھی کھل کر میڈیا پہ نہیں آ سکے کیوں کہ صولت مرزا کے بیانات کے بعد وہ ایک فریق بن گئے ہیں۔ رینجرز کے 90 پر آپریشن کے بعد سے ایم کیو ایم پہلے ہی دباؤ کا شکار تھی اب اس نئی افتاد سے اس دباؤ میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اضافہ اس صورت میں نہیں کہ ایم کیو ایم پر تمام الزامات اس ویڈیو پیغام کے بعد سے ہی ثابت تصور کئے جائیں گے۔ بلکہ اس دباؤ میں اضافے کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ اس دفعہ ایم کیو ایم کو جارحانہ رویہ اپنانے کے بجائے ہوش مندی کے ساتھ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع کرنا ہے۔
ایم کیو ایم کے دفاع میں اس وقت سب سے آگے بیرسٹر فروغ نسیم اور بیرسٹر سیف ہیں۔ بیرسٹر سیف مشرف دور سے منظر پر ابھرے ہیں ۔جب کہ بیرسٹر فروغ نسیم ایک قابل اور ذہین قانون دان کی حیثیت سے اپنا ایک الگ مقام رکھتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے کرتا دھرتا راہنماؤں نے ان دونوں چہروں کا انتخاب یقیناًمستقبل کی صورت حال کو بھانپ کہ ہی کیا ہے۔ خاص طور سے بیرسٹر فروغ نسیم نہ صرف ایک معزز سینیٹر ہیں بلکہ ایک ایسے وکیل کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں جو معاملات کو سنبھالنے میں ملکہ رکھتے ہیں۔ لیکن ان دونوں حضرات کی پہلی پریس کانفرنس کوئی اتنی حوصلہ افزاء نہیں رہی۔ اس پریس کانفرنس کی سب سے خاص بات یہی تھی کہ وہ یہ معاملہ اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جس کے بارے میں ان کی منطق یہ ہے کہ صولت مرزا پر دباؤ ڈال کر بیان دلوایا گیا ہے۔
بیشک ایم کیو ایم کی قیادت معاملہ کسی بھی فورم پر اٹھانے کا حق رکھتی ہے۔ لیکن فرض کریں یہ معاملہ عالمی عدالت انصاف میں بھی چلا جائے اور وہاں بھی صولت مرزا یہی بیان دے دیں کہ انہوں نے سب بناء کسی دباؤ کے کہا ہے تو پھر معاملہ کس سمت جائے گا؟ صولت مرزا کے ویڈیو پیغام پر قانونی طور پر جتنی بھی تنقید کی جائے وہ بجا ہے۔ لیکن اس معاملے میں جس بھی فورم پرجائیں یہ نقطہ سب سے اہم رہے گا کہ صولت مرزا جیسے مجرم ملکی سیاست کار خ پلٹنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اور شاید صولت مرزا نے پہلے یہ باتیں اس لیئے بھی نہیں کیں کیوں کہ اسے یقین تھا کہ اسے بچا لیا جائے گا۔ اور جب اسے لگا کہ اب کوئی چارہ نہیں پھانسی کے پھندے سے بچنے کا ، تو اس نے فیصلہ کر لیا کہ خود تو ڈوبے ہیں صنم ، تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔
صولت مرزا اس وقت پاکستانی سیاست میں ایک زلزلے کی مانند ثابت ہو رہا ہے۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ملکی سیاست کا رخ تبدیلی کا لبادہ اوڑھ رہا ہے۔ اب اس تبدیل شدہ رخ میں ایم کیو ایم کا کیا کردار ہے اس کا فیصلہ شاید سب سے بہتر ایم کیو ایم ہی کر سکتی ہے۔ کیوں کہ اب شاید ایم کیو ایم کو بطور ایک سیاسی جماعت خود کو مضبوط کرنا ہوگا ۔ کیوں کہ صولت مرزا کے بیانات و الزامات کے بعد جس طرح ایم کیو ایم کی تمام قیادت پس منظر میں چلی گئی ہے یہ یقیناًاس جماعت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اس جماعت کے قائدین کو نہ صرف خود پر لگے الزامات کو دھونا ہے بلکہ اگر انہوں نے پاکستانی سیاست میں اپنی جگہ برقرار رکھنی ہے تو ایم کیو ایم پربطور جماعت لسانی اور صوبائی جماعت کا جو لیبل لگا ہے اسے اتارنا ہو گا۔ ایسا جذبات سے ہرگز نہیں ہو گا۔ الزامات اس ملک کے سابق صدر پر بھی لگے ہیں۔ ایک منتخب وزیر اعظم پھانسی کے پھندے پر جھول چکے ہیں۔ لہذا الزامات کی وجہ سے میڈیا یا اداروں پر غصہ کرنے کے بجائے اپنے آپ میں موجود خامیوں کو دور کیجیے۔
صولت مرزا ایک سیاسی کارکن کے طور پر تمام سیاسی کارکنوں کے لیے ایک مثال ہیں۔ اس نے خود کہا ہے کہ اس سے عبرت حاصل کی جائے۔ یہ پیغام اس کا تمام سیاسی کارکنوں کے لئے ہے جو اپنے قائدین کا ہر جائز ناجائز کام بلا چوں چراں کرنے کو سب سے بڑی خدمت سمجھتے ہیں۔ سیاسی قائدین نہ تو دودھ کے دھلے ہوتے ہیں نہ ہی فرشتے کہ ان سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہو سکتی ۔ بطور سیاسی کارکن جب ہمارے لوگ عقل و شعور کی منازل طے کر لیں گے تو وطن عزیز میں سیاست کا ایک نیا رنگ دکھائی دے گا۔ صولت مرزا جیسے کئی کارکن کو اس وقت گمنام قبروں میں پڑے ہوں گے۔ فرق صرف یہ ہے کہ صولت مرزا تھوڑی سی مقبولیت حاصل کر گیا اور اس کو مختلف ادوار میں جیل کے اندر بھی سہولیات حاصل رہیں۔ جن کی وجہ سے میڈیا میں اس کا نام باقی رہ گیا۔ ورنہ وہ بھی کسی گمنام قبر کا مکیں بن چکا ہوتا۔
صولت مرزا آج جس حال میں ہے وہ نہ صرف سیاسی کارکنوں کے لئے باعث عبرت ہے بلکہ ایسے نوجوانوں کے لئے بھی ایک سبق ہے جو مستقبل قریب میں پاکستانی سیاست میں کوئی کردار ادار کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی سیاست کا حصہ بننے سے پہلے ہر سیاسی کارکن کو یہ سوچنا ہو گا کہ سیاست کو اس ملک کی بہتری کے لئے استعمال کیا جائے ۔ ورنہ صولت مرزا کو تو ویڈیو پیغام کی سہولت مل گئی انہیں شاید یہ کہنے کی مہلت بھی نہ دی جائے کہ میں باعث عبرت ہوں۔