مملکتِ اسلامیہ محمدیہ کا خواب
- اتوار 29 / مارچ / 2015
- 4713
مِلّتِ اسلامیہ کے ستر برس سے مسلسل بہتے آنسو قاتلوں کی لہو بہانے کی خواہش کا سدِ با ب نہیں کر سکے ۔ مسلمان ملکوں کے مذہبی ادارے ایک مسلسل فرقہ وارانہ جنگ کو روکنے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں ۔ وہ اسلحے کی فراہمی کو یقینی بناتے رہے ہیں اور مسلمانوں کو مزید تقسیم کرنے کی مکروہ کاروائیوں میں براہِ راست شریک رہے ہیں ۔ بیشتر اسلامی ملکوں کی حکومتیں اپنے اپنے خول میں بند ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ مذہب کے پرچارک خطبوں اور تفسیروں کے ذریعے اسلام کے غلبے کی جنگ ہار چکے ہیں ۔
یہ اُس مذہب کا المیہ ہے جس کے ماننے والے خود کو دنیا کے آخری، حتمی اور مکمل ترین دین کے علمبردار خیال کرتے ہیں ۔ لیکن میرا کیا ہے ، میں ایک عام مسلمان ہوں جس کی امن ، ترقی اور خوشحالی کی آرزوئیں ہیں ۔۔۔ جن کے پورے ہونے کی دعائیں کرتا رہتا ہوں ۔ میں شعروں کے آنسو بہاتا ہوں اور اپنے بچوں کو یورپ کے مامن سکنڈے نیویا میں محفوظ خیال کرتا ہوں کہ وہ اُن وحشی جنونیوں کی دست برد سے محفوظ ہیں جو بچوں ، کم سنوں اور نوجوانوں کو ورغلا کر ، جنت کا لالچ دے کر ایک ایسی جنگ کا ایندھن بنا رہے ہیں جو انسانی تاریخ کی بدترین جنگ ہے ۔
دہشت گردی کی بھیانک ترین جنگ جو کبھی غزہ کی پٹی میں بھڑکتی ہے ، کبھی نہر سویز کے کنارے جمال عبدالناصر کی شکست کی سسکیاں سنا کر مجھے لہو رُلاتی ہے ، کبھی صدام حسین کی پھانسی اور معمر قذافی کی بدترین موت کے مناظر دکھاتی ہے اور بیوائوں اور بھوک سے بلکتے بچوں پر بھی ترس نہیں کھاتی ۔
القاعدہ ، طالبان ، شبابِ ملی ، فاٹا میں تربیت دئے گئے جیش اور جتھے ، بوکو حرام اور جماعت الدعوۃ کے بعد اب داعش اس جنگ کے لشکر ہیں مگر ان کی کمان کون کر رہا ہے ؟ یہ بات کوئی نہیں جانتا اگرچہ سب جانتے ہیں ۔
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ سعودی ملوکیت اپنی طرز کے سلفی ابنِ تیمیائی وہابی دین کو پوری اسلامی دنیا پر مسلط کرنے کے خواب دیکھ رہی ہے ۔ یہ نیا استعمار ہے جو دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ مل کر دنیا بھر کے غریب مسلمانوں کے لیے سوہانِ روح بنا ہؤا ہے ۔ یہ وہی استعماری قوت ہے جسے کبھی اقبال نے عرب امپیریلزم کا نام دیا تھا ۔
خلیج سے آنے والی اطلاعات کے مطابق عرب لیگ کا اجلاس جاری ہے جس میں مسلمان ممالک کی مشترکہ فوج بنانے کی تجویز بھی زیرِ بحث ہے ۔ یہ فوج یقیناً عالمِ اسلام کی متفقہ طور پر مشترکہ فوج نہیں ہو سکتی کیونکہ اس وقت یمن کے حوثی باغیوں کی سرپرستی اور پشت پناہی کا الزام ایران کے سر تھونپا جا رہا ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ آیا عرب لیگ اس فوج میں ایران کو شمولیت کی دعوت دے گی یا نہیں ؟
یمن کی موجودہ صورتِ حال نے ، عالمِ اسلام کو بالعموم اور پاکستان کو بالخصوص متاثر کیا ہے ۔ یمن میں مقیم پاکستانیوں کو “ بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے “ کی سبق آموز مثال بنایا جا رہا ہے ۔
حالیہ خبروں کے مطابق یمن کے شہری ہوا بازی کے ادارے نے پی آئی اے کے طیارے کو حدید آنے اور محصور پاکستانیوں کو نکال لے جانے کی اجازت دے دی ہے ۔ اس سے پہلے یہی کچھ کویت میں بھی ہوچکا ہے ، جب صدام حسین کی حمایت پر کویتیوں نے پاکستانیوں کو ملک بدر کرنے کی سزا دی تھی ۔
مسلمان ملکوں کے لئے یہ صورتِ حال بڑی تکلیف دہ اور اذیت ناک ہے۔ لیکن داعش اور دوسری شدت پسند تنظیموں کے نظریہ پرستوں کو کسی کی کوئی فکر نہیں ۔ وہ صرف جہاد اور قتال فی سبیل اللہ چاہتے ہیں اور جنگ اُن کی پہلی ترجیح ہے ۔ یہ ساری صورتِ حال مسلمان ممالک کے سیاست دانوں اور دفاعی اداروں کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے مگر وہ اس نظریاتی آگ کو بجھانے میں تا حال ناکام ہیں ۔
یمن کی اس جنگ میں پاکستان کی حکومت اور فوج کا کردار کیا ہوگا ؟ اس سلسلے میں افواہیں تو بہت ہیں مگر کوئی بات واضح نہیں ہے ۔ مختلف حوالوں اور ذریعوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ اشارات دئے جا رہے ہیں کہ حوثی باغیوں کو ٹھکانے لگانے میں پاکستانی فوج کا کردار بہت اہم اور فیصلہ کُن ہوگا ۔
دنیا بھر کے مسلمان سعودی عرب کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں اور وہ اس لئے کہ یہ ملک پیغمبرِ اسلام ﷺ کا مولد و مدفن ہے ۔ دنیا بھر میں اسلام کی روشنی ، اُس وادی ء فاراں سے نکل کر چار دانگِ عالم میں پھیلی جو اسی ملک میں واقع ہے ۔ نظریاتی اور دینی حوالے سے یہ ملک مسلمانانِ عالم کی مشترکہ وراثت ہے ۔ اس ملک میں خانہ کعبہ ہے جہاں دنیا بھر کے مسلمان حج کے لئے جاتے ہیں۔ کیونکہ حج صرف عربوں کے دین کا رُکن نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دین کا رکن ہے ۔ اُن مسلمانوں کے دین کا جو نسلاً افغان ہیں ، تاتاری ہیں ، ایرانی ہیں ، ترکی ہیں ، مصری ہیں ، انڈونیشیائی اور ملائیشیائی ہٰیں یا ہم جیسے برِ کوچک کے مسلمان ہیں ۔
یہ سب مسلمان خطبہ ء حجتہ الوداع کے عظیم بین الملی اعلامیے کے مطابق برابر کا درجہ رکھتے ہیں ۔ اسلام میں کوئی عربی ، عربی نہیں اور کوئی عجمی عجمی نہیں بلکہ سب یکساں طور پر مسلمان ہیں ۔ اقبال نے کہا تھا :
تمیزِ رنگ و خوں بر ما حرام است
کہ ما پرورہ ء یک نو بہاریم
وہ ملک جہاں سے اسلام کا سورج طلوع ہؤا تھا ، سعودی ملوکیت نہیں ہے بلکہ یہ مملکتِ اسلامیہ محمدیہ ہے ۔ اور اس ریاست کو تمام مسلمانوں کے ساتھ خواہ وہ کسی بھی فقہی سکول سے منسلک ہوں ، امتیازی سلوک کی اجازت نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ امتیاز کفر ہے ۔ اگر کسی بھی فقہی سکول سے امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے تو وہ قرآن کی رو سے جائز نہیں ہے ۔
خُدا جانے دنیا بھر کے مسلمان حکمرانوں کو یہ عقل کب آئے گی کہ وہ صدقِ دل سے اتحاد کو منزل بنا کر رسالتمآب ﷺ کے جھنڈے تلے یک جا ہو کر کھڑے ہوں اور غیر اسلامی طاقتوں کے درمیان ایک عظیم صلح کُل طاقت بن کر عالمی سیاست میں اپنا فیصلہ کُن کردار ادا کریں ۔
مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
ان مسلمان حکمرانوں کو شیعہ ، سُنّی اور وہابی کے جھگڑوں سے فرصت کہاں ؟ یہ بے چارے ہیں ہی کس کام کے ؟