وسیع جنگ کے خطرات
- سوموار 30 / مارچ / 2015
- 4268
آج عالم اسلام میں بہت سی بلائیں نازل ہو رہی ہیں اور اسلام مختلف قسم کے مصائب کا شکار ہو گیا ہے۔ دیکھا جائے تو مسلمانانِ عالم خود ایک دوسرے کیلئے مصیبتوں کے ذمہ دار ہیں۔ یہ دو حصوں میں بٹ چکے ہیں اور ایک دوسرے کے لئے مصیبتیں اور مشکلات پیدا کررہے ہیں۔ اہل تشعیع اور سنی قوتیں چاہے وہ ایران و عراق اور شام سے تعلق رکھتی ہوں یا سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین یا مصر کے ممالک ہوں آپس میں یکجا نہیں رہ سکتیں۔ ان کو آپس میں ایک دوسرے سے خطرہ صدیوں سے چلا آرہا ہے۔
اسی وجہ سے بیرونی مغربی اور صیہونی طاقتیں ان کو کھلونا بنا رہی ہیں اور مسلمان حکمران اور بادشاہ ان کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔ تیل کی دولت نے جہاں ان ممالک کو فوائد پہنچائے ہیں وہاں نقصانات بھی ہوئے ہیں۔ سب سے بڑا نقصان تو ان میں انصاف و تقویٰ کی کمی ہے دنیا کی دولت نے ان کے رویہ اور سوچ کو دنیاوی بنا دیا ہے۔ یہ بات اس زمانے کے کئی ماہرین اپنی کتابوں میں لکھ چکے ہیں۔ دولت کے حصول سے پہلےعالم اسلام میں انصاف اور تقویٰ موجود تھا۔ تیل کی دولت میسر آنے کے بعد یہ یکسر تبدیل ہو گئے۔
قرآن کریم کی تعلیم عالمگیرہے بلکہ ہر قسم کے امکانی مسئلے کو بھی قرآن کریم بیان کرتا ہے۔ چنانچہ اس امکان کو قرآن کریم نے زیر نظر رکھاکہ ہو سکتا ہے کہ مختلف مسلمان ممالک کے درمیان اختلافات پیدا ہو جائیں اور ان اختلاف کی شکل ایسی بھیانک نہ ہو جائے کہ ان میں بعض دوسروں پر حملہ کریں اور مسلمان حکومتیں باہم ایک دوسرے کیساتھ قتل و غارتگری میں ملوث ہو جائیں۔ چنانچہ ان کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے: “ ہو سکتا ہے کہ بعض مسلمان طاقتیں بعض دوسری مسلمان طاقتوں کیساتھ نبرد آزما ہو جائیں اور ایک دوسرے پر حملہ کریں۔ایسی صورت میں تمام عالم اسلام کا مشترکہ فرض ہے کہ ان کے درمیان صلح کروا دیں “۔
اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ مومن بھائی بھائی ہیں اور تم اپنے بھائیوں کے درمیان صلح قائم کرو، اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔ ہمارا بڑا المیہ یہ ہے کہ صلح اور جنگ سے انہیں کون روکے گا یہ تو آپس میں تقسیم ہو گئے ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوششوں میں ہیں۔ جن مغربی طاقتوں اور امریکہ کو یہ دوست سمجھتے ہیں آج وہی ان کی اصل دولت تیل پر قبضہ کرنے کے در پر ہیں۔ کل شام میں جو کچھ ہؤا اور آج یمن میں جو ہو رہا ہے یہ اسکی زندہ مثال ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ اسلام دشمن طاقتیں اسلام کوکمزور کر دینا چاہتے ہیں تاکہ مسلمان کبھی سر نہ اٹھا سکیں۔ عالمی امن کا ادارہ اقوام متحدہ کی تنظیم کو بھی یہ اپنے استعماری مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ تمام صیہونیت اور اسرائیل کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ اس خطہ میں اسرائیلی مقاصد کو تحفظ دینا چاہتے ہیں۔ 1948میں فلسطین میں یہودیوں کو کن لوگوں نے آباد کیا تھا اور رفتہ رفتہ 65 سالوں میں یہ قوت ایٹمی طاقت بن چکی ہے اور مسلم امہ کے لئے خطرہ بھی ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ سعودی حکمران بھی اس کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ سعودی عرب اسرائل کو تیل فراہم کرتا ہے۔ 2013 میں اس نے مصر کے خراب حالات میں فوجی حکومت کا بھرپور ساتھ دیاتھا۔ اسکے عوض 12ہزار میلین ڈالر کی امداد بھی دی گئی۔
آج تاریخ پھر دہرائی جا رہی ہے۔ اس بار پاکستان کو سعودی عرب نے ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد دی اور بحرین کی حکومت سے بھی بھاری امداد دلوائی۔ یہ بلا وجہ امداد دینے کا مقصد اب واضح ہؤا جو اب وہ پاکستان سے فوجی امداد چاہ رہا ہے۔ میں نے اس وقت بھی ایک آرٹیکل میں لکھا تھا اس امداد کے پیچھے سعودی عرب کے اپنے مقاصد ہیں جو وقت آنے پر ظاہر ہوں گے اور آج یہ وقت نے ثابت کیا کہ یہ امداد اسی مقصد کے لئے تھی۔
پاکستان مشرق وسطیٰ میں پہلے بھی فوج بھیج چکا ہے ۔ اب حالات بہت پیچیدہ ہیں اور متعدد ممالک کے مفادات اس میں کار فرما ہیں۔ ایک طرف امریکہ نے ایران کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے تو دوسری طرف روس اور چین نے سعودی عرب کا۔ اگلے ماہ چین کے وزیر اعظم پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں اس کے بعد وہ سعودی عرب بھی جائیں گے۔ اس دورہ میں انہی معاملات کو پیش نظر رکھا جائے گا۔
دوسری طرف برطانیہ اور فرانس امریکہ کا ہی ساتھ دیں گے۔ اس کے پس منظر میں دیکھا جائے تو آپ کو اصل حقائق کا اندازہ ہو جائے گا۔ پہلے شام پر جنگ کے بادل منڈلاتے رہے پھر اس کو خانہ جنگی میں دھکیل دیا گیا۔ اب اسی خطے میں یمن کو ٹارگٹ بنا کر یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اس بحران سے یہ خطرہ ہے کہ حالات بے قابو نہ ہو جائیں اور یہ تنازعہ وسیع تر جنگ کا سبب نہ بن جائے۔
پاکستان کو چاہئے کہ وہ اس پراکسی وار میں شریک نہ ہو۔ اسے صرف ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہئے ۔ او آئی سی اسلامی تنظیم اور عرب لیگ کوئی کردار ادا نہیں کر رہیں۔ چونکہ اسلامی ممالک مختلف گروپس میں بٹے ہوئے ہیں۔ پاکستان او آئی سی کا ممبر بھی ہے اس کو چاہئے کہ وہ اس کا اجلاس بلائے اور اس مسئلے کو اس میں حل کرنے کی کوشش کرے۔اگر ایران کی حکومت یمن میں ملوث ہے تو اس پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے اور مذاکرات سے ہی یہ گمبھیر مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے ۔ وزیر اعظم نواز شریف کو چاہئے کہ سعودی حکام کے ساتھ ذاتی تعلقات کی وجہ سے ملکی مفاد پر قربان نہ کریں۔ ہمیں اپنی پچھلی غلطیوں سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ جنکی وجہ سے ہم آج تک حالت جنگ میں ہیں۔
پاکستانی افواج ضرب عضب، کراچی آپریشن اور دیگر مسائل کو درست کرنے میں مصروف ہیں۔ اس کو مزید تقسیم نہ کیا جائے شاید ہمارا دشمن یہی چاہتا ہے کہ فوج کو مختلف محاذ پر پھیلا کر کمزور کر دیا جائے۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے جب بھی کوئی مسلم ملک مضبوط اور ترقی پر گامزن ہوتا ہے تو اسلام دشمن طاقتیں اس کو کمزور کر دیتی ہے۔ جسطرح سلطنت عثمانیہ ترکی کو ختم کیا پھر عراق، افغانستان، لیبیا، کویت اور شام۔ اب سعودی عرب اور ایران اور یمن کو آپس میں لڑوا نا چاہتے ہیں۔ جن سے اسلام کے دو بڑے فرقے شیعہ اور سنی کے اتحاد کو کمزور کیا جانا ہے۔
ہمارے پاس کوئی ایک امام یا لیڈر نہیں ہے۔ جس فائدہ اٹھاتے ہوئے بیرونی قوتیں مختلف تنازعات کو ہوا دیتی ہیں۔ اس طرح اسلام اور مسلمانوں کے کاز کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ عالم اسلام کے خلاف ان سازشوِں کو ملیا میٹ کر دے اور مسلمان حکمرانوں کو باہمی اتفاق اورعدل و انصاف سے کام لینے کی توفیق دے۔ آمین