علماء کا کامن پلیٹ فارم

  • سوموار 30 / مارچ / 2015
  • 4668

یہ حقیقت ہے کہ اللہ جس سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اْسے دین میں سمجھ عطا کرتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جن لوگوں پر دنیا میں ہی اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل کرنے کا فیصلہ کرتا ہے وہ ایسے لوگ ہیں جنہیں اللہ دین کا علم عطا کرتا ہے۔ان میں سب سے اوّل انبیا و رسل ہیں اوراس کے بعد دین کاحقیقی علم حاصل کرنے والے دیگر افراد شامل ہوتے ہیں۔

چونکہ علماء دین کا حقیقی علم حاصل کرتے ہیں اور ایک بڑی ذمہ داری پر فائز ہوتے ہیں، اسی لئے علماء کو انبیا کا وارث بھی کہا گیا ہے۔ پھر اسی علم پر مبنی اہم ترین ذمہ داریوں کی ادائیگی میں اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں ترقی ، کامیابی اور سرخ روئی بھی عطا کرتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اعمال صالحہ و حسنہ کی ادائیگی پر خوشخبری دیتے ہیں اور برے اعمال کے نتائج سے ڈراتے ہیں۔  علماء کو  معاشرہ میں وہ عزت و مقام بھی حاصل ہے جو دیگر افراد کو نہیں ہے۔ اس کے برعکس جب اہل علم اپنے مقام ، رتبہ اور حیثیت کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں نیزاپنی ذمہ داریاں انجام نہیں دیتے، تب وہی خدا گرفت بھی کرتا ہے ، جس نے عزت وقار عطا کیا ہے۔

اہل کتاب کے علماء کی مثال دیتے ہوئے قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “ اہلِ کتاب کے اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں“ (التوبہ :۳۴)۔  یعنی ظالم صرف یہی ستم نہیں کرتے کہ فتوے بیچتے ہیں، رشوتیں کھاتے ہیں، نذرانے لوٹتے ہیں ، ایسے ایسے مذہبی ضابطے اور مراسم ایجاد کرتے ہیں جن سے لوگ اپنی نجات اِن سے خریدیں اور اْن کا مرنا جینا اور شادی و غم کچھ بھی اِن کو کھلائے بغیر نہ ہو سکے اور وہ اپنی قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کا ٹھیکہ دار اِن کو سمجھ لیں۔ بلکہ  اِنہی اغراض کی خاطر یہ حضرات خلقِ خدا کو گمراہیوں کے چکر میں پھنسا ئے رکھتے ہیں اور جب کبھی کوئی دعوتِ حق اصلا ح کے لئے اْٹھتی ہے تو سب سے پہلے یہی اپنی عالمانہ فریب کاریوں اور مکاریوں کے حربوں سے اس کا راستہ روکنے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک سزا ہے۔

اس ایک آیت سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ اہل ایمان علماء کو اپنی حیثیت کے پیش نظر کس قدر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جس خدا نے انہیں دنیا میں صرف علمِ دین کی بنا پر عزت و سربلندی عطا کی ہے ، اگر وہ اپنی ذمہ داریاں بحسن و خوبی انجام نہیں دیں گے تو وہ خدا گرفت کرنے سے بھی نہیں چوکے گا۔

اس پس منظر میں یہ واضح ہے  کہ عالم دین اسے کہا جائے گا جو دین کا حقیقی علم رکھتا ہو۔اوریہاں دین سے مراد قرآن وحدیث کا علم ہے۔ لہذا ایک سچا اور مخلص عالم وہی کہلائے گا جو دین کا علم بھی رکھتا ہو اورساتھ ہی محمد رسول اللہ ؐکے مشن کو انجام دینے کے لیے سرگر م بھی ہو۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے وقت کا تقاضہ ہے کہ علماء کرام ایک طرف دین کا مکمل علم حاصل کریں وہیں دیگر باطل عقیدہ ہائے علم سے بھی واقف ہوں۔ ناواقفیت کے نتیجہ میں باطل حق اور حق باطل بن جاتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ دین میں ایک جانب تقفہہ پیدا کیا جائے۔ اور دور جدید کی صورتحال سے  واقفیت حاصل کی جائے۔

تفقہہ فی الدین کا معاملہ کسی طرزِ فکر، نقطہ نظر اور مسلک کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ بلکہ یہ دین کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ تفقہہ چند کلامی ، فقہی مسائل اور تفسیری موشگافیوں سے بھی متعلق نہیں ہے۔ اس سے مراد دین کی وہ گہرائی ہے جو ایک عالم کو عصرِ حاضر کے چیلنجز کے لیے تیار کرتی ہے۔ یونانی فلسفہ کا دور ہو یا مغربی سائنس کا زمانہ، نوآبادیاتی نظام کا وقت ہو یا مابعد نوآبادیاتی نظام، سرمایہ دارانہ نظام ہو یا جاگیردارانہ نظام، سوشلزم ہو یا کمیونزم، مغربی فلسفہ الہاد ہو یا لادینیت، جدیدیت ہو یا مابعد جدیدیت الغرض کوئی گمراہی و ضلالت کی شکل ہو، وہ اپنے زمانے کے چیلنجز کا شعور بھی رکھتا ہے اور تفقہہ فی الدین کی قوت سے ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

سورۃ النحل میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے دعوت کے تین اصول بیان کیے ہیں:1۔ حکمت 2۔  موعظت حسنہ 3۔ مجادلہ حسنہ ۔

حکمت کے بے شمار معنی مراد لیے جا سکتے ہیں۔ لیکن دعوت دین کے معاملے میں حکمت سے مراد دلیل و برھان ہے جو عقل و فطرت کے تقاضے کے مطابق ہو۔ جسے سمجھنے میں عقل و فطرت کو اجنبیت نہ ہو۔ لہذا ضروری ہے کہ جب علمائے کرام عوام الناس کو دین کی طرف بلائیں تو حکمت کے تمام پہلوؤں کو ہمیشہ مدنظر رکھیں۔ پھر یہ کام جو دین کی بقا، قیام اور استحکام کے لیے انجام دیا جارہا ہو۔اس کے لئے پہلی اور لازمی شرط ہے کہ کوششیں منظم و منصوبہ بند انجام دی جائیں۔ بکھری ہوئی کوششیں کسی بھی سطح پر رنگ نہیں لاتیں۔ تو علماء کرام کی جانب سے غیر منظم کوششیں کس طرح رنگ لائیں گی۔

مقاصد کے حصول کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم موجود ہو یا تیار کیا جائے جہاں علماء کرام کو اپنے تمام اختلافات سے اوپر اٹھ کر ذمہ داریاں ادا کرنے کا موقع میسر ہو۔ جہاں مسالک و مدارس کی بنیاد پر شناخت نہ قائم کی جائے بلکہ صرف اور صرف ایک اللہ، ایک رسول اور ایک دین کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر مل بیٹھنے اور ذمہ داریاں انجام دینے کا موقع حاصل ہو۔اور یہی بات ہمیں اسلامی احکامت کی روشنی میں بھی ملتی ہے۔ کہا کہ دین اسلام ہمیشہ جماعت کی طرف پکارتا ہے، بکھرنے سے نفرت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ جو دائرہ جماعت سے نکلا وہ آگ میں جا کودا، بھیڑیا بھی ریوڑ سے الگ رہنے والی بھیڑ ہی کو کھاتا ہے۔

جماعت میں صف سے نکل کر پیچھے اکیلے جا کھڑے ہونے سے نماز نہیں ہوتی اور نہ صفوں کو چیر کر جماعت سے آگے جا نے سے ہی نماز ہوتی ہے۔ مومن تو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنتا ہے، نیکی اور تقوے کے کاموں میں باہمی تعاون کا فریضہ ادا کرتا ہے۔ واضح تعلیمات کی روشنی میں نہ عام مسلمانوں سے جو ذرا سا بھی دینی شعور رکھتے ہوں یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ بکھری ہوئی سعی و جہد کریں گے اور نہ ہی دین کا پختہ علم رکھنے علما ء کرام سے یہ امید کی جانی چاہیے کہ وہ الگ الگ اور منتشر ہوکر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔

اس پوری گفتگو کے پس منظر میں خوشی کی بات یہ ہے کہ گزشتہ دنوں دہلی میں ایک ایسی تقریب میں شرکت کا موقع ملا جہاں مختلف مسالک و مدارس کے علماء کرام ایک ساتھ ایک مقام پر جمع تھے۔ اور غورو خوض اس بات پر ہو رہا تھا کہ علماء کرام کی ایک ایسی تنظیم عمل میں آئے جو بلالحاظ مسلک و مدرسہ ودیگر تقسیم کرنے والی بنیادوں سے پاک ہو۔ تقریب میں علماء کی تنظیم کے مقاصد کچھ اس طرح بیان کئے جا رہے تھے کہ ہم سب ملک کر بندگان خدا کو خالص بندگی رب کی دعوت دیں گے۔امت میں داعی گروہ ہونے کا شعور بیدار کریں گے۔ دینی امور میں عوام کی رہنمائی کریں گے۔ وقت کے فتنوں کے سد باب کے لیے جدو جہد کریں گے۔ نظام زندگی کو خدا کے روبرو جوابدہی کے احساس پر قائم کریں گے۔ برائیوں کو مٹانے اور بھلائیوں کے فروغ کے لئے اجتماعی فضا ہموار کریں گے۔ امت کے اندر اتحاد و اتفاق پیدا کریں گے۔ منظم، منصوبہ بند اور طے شدہ اہداف کے تحت مقاصد کے حصول کے لئے سرگرمیاں انجام دیں گے۔

پھر سوال اٹھا کہ وابستگی کا معیار کیا ہو؟ تو کہا کہ ہر وہ شخص جو انڈین یونین کا شہری ہو اور جو دینی مدرسہ سے سند یافتہ ہو یا بحیثیت امام و دینی معلم خدمات انجام دے رہا ہو، اس تنظیم کا رکن بن سکتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ تنظیم اپنی تمام سرگرمیوں میں شرعی حدود کا پاس ولحاظ رکھتے ہوئے، پر امن ، دستوری اور اخلاقی حدود کی پابند رہے گی۔ تنظیم مخصوص مسلک و مدرسہ کی شناخت کے بغیر، علماء کرام کو بحیثیت عالم دین، مقصد و نصب العین اور سرگرمیوں کے لیے آمادہ کرے گی۔ اپنے تمام اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے تنظیم علمی ، ترغیبی ، تبلیغی،اور اشاعتی جیسے پر امن ،تعمیری اور قانونی طریق کار اختیار کرے گی ۔

نیز ایسے تمام افعال سے احتراز کرے گی جو سچائی اور دیانت داری کے خلاف ہوں یا جن کے نتیجہ میں فرقہ وارانہ منافرت، ذات برادری کی کشمکش یا فساد فی الارض رونما ہو سکتا ہو۔ خواہش تو یہ ہو رہی تھی کہ کاش  ہم بھی عالم دین ہوتے تو اس تنظیم میں ضرور شریک ہوتے۔ لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ معزز علماء کرام جو غور و خوض کے بعد  فیصلے کر رہے ہیں،اس میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔ اور کیا یہ ممکن ہے کہ مختلف مدارس و مسالک کے علماء کرام کسی ایک کامن پلیٹ فارم سے وابستہ ہو جائیں؟ اور امت کو اکٹھا کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔