ریفرنڈم
- سوموار 30 / مارچ / 2015
- 4592
کیا اسلام کے قلعہ دار ایک مرتبہ پھر کسی پرائی جنگ میں کودنے کے لئے پر تول رہے ہیں۔
ہم نہیں سمجھتے کہ ایسا ہوگا۔
کیوں !
اس لئے کہ ایک بہت عرصے بعد پاکستانی فوج کی قیادت اب ایسے ہاتھوں میں ہے، جو کچھ کر گزرنے سے پہلے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اور وہ بھی ملک اور عوام کے مفاد میں۔
یقیناٌ وہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت جبکہ آپریشن ضرب عضب جاری ہے، اور دہشت گردوں کے بعد اب بدعنوانیوں اور نااہلی میں گردن گردن ڈوبے ہوئے سیاستدانوں تک بھی اسکی حدت پہنچنے لگی ہے ، تو ان لٹیروں کی کوشش ہوگی کہ فوج کی توجہ بانٹنے کے لئے اسے کہیں اور مصروف کر دیا جائے۔ تاکہ یہ پیشہ ور چوروں کی طرح ایک مرتبہ پھر احتساب کی گرفت سے پھسل کر نکال جائیں۔
یہ ’’ ہائے برادر۔۔ وائے برادر ‘‘ کرنے والوں میں پیش پیش ہے کون !
وہی ناں جنکے محلات اور کاروباری مفادات بھائی جان کی سر زمین پر ہیں۔ جنہیں لوٹ مار کے بعد جب بھی بدہضمی کی شکایت ہوتی ہے، تو یہ کھجوریں کھانے انہی بھائی صاحب کے درِ دولت پر حاضری دیتے ہیں، اور پھر زم زم میں دھلے گھر لوٹ آتے ہیں ۔
اور پھر ایک ہی بھائی صاحب کیوں!
تا حد نظر پھیلی ریت میں جہاں جہاں بھی میٹھی کھجوروں کے باغات ہیں، ان سب کے مالکین بھی تو ان برادران خورد کے بھائی صاحبان ہی تو ہیں، جن کے سایہ عاطفت میں انہوں نے کروڑوں ڈالر کے اپنے چھوٹے چھوٹے گھروندے بنا رکھے ہیں۔
یہ بڑے بھائی صاحبان جب بھی اپنے برادران خورد کے غریب خانے پر نزول فرماتے ہیں تو بیس کروڑ بھیڑ بکریوں کی قسمتوں کے مالک یہ مہمان نواز مسخرے کیسے کیسے ان کے قدموں میں لوٹنیاں لگاتے ہیں۔ کیسے کیسے انکے ناز نخرے اور “ کچھ اور‘‘ اٹھاتے ہیں ، جسکا ذکر یہاں مناسب نہیں۔ یہ چاہیں تو ملک کا قانون توڑیں، چاہیں تو نایاب پرندے ماریں، سب سہولتیں انہیں فراہم کی جائیں گی۔ مہمان جو ہوئے۔
اور مہمان بھی ایسے کہ انکے جاہ و حشمت سے آنکھیں خیرہ ہوتی ہیں۔ قارون کی دولت جنکی نظر میں رائی ہے۔ ایک ہی رات میں کروڑوں ڈالر جوئے میں ہار جانے والے۔ پابند صوم وصلوٰۃ۔ اللہ اللہ۔
اور پھر بدلے میں بھیڑ بکریوں کو بھی تو بہت کچھ ملتا ہے۔
مثلاٌ کمسن بچوں کو اونٹوں سے باندھ کر انکی دوڑ یں کروانا۔ گھٹیا اجرت پر انتہائی نامساعد حالات میں ان سے مزدوری کروانا۔ اپنے محلات کے لئے زن و مرد خدمتگاروں کی فوج جمع کرنا وغیرہ وغیرہ۔
اور اس دوران اگر کوئی کمسن بچہ اونٹ سے گر کر مر جاتا ہے، یا آئے دن چوراہے میں کسی مزدور کی گردن اڑا دی جاتی ہے تو کیا ہؤا۔ اس بات سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ایک کثیر زرمبادلہ تو ہمیں ملتا ہے نا۔ یہ الگ بات ہے کہ روایتی لٹیرے ، جو عام طور سے بر سر اقتدار سیاستدان یا انکے عزیزو اقارب ہوتے ہیں، یہ سارا پیسہ بٹور کر پھر کھجوروں کے باغ کو لے جاتے ہیں۔
اور اب جب کہ خادمین اسلام یہ کہہ رہے ہیں کہ اسلام ایک مرتبہ پھر خطرے میں گھر گیا ہے ، تو جانثاروں کو کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔
ہاں ایک بات ہماری سمجھ میں ابھی تک نہیں آئی کہ خطرہ ہے کس سے۔ ادھر والوں سے یا ادھر والوں سے۔ بتایا تو یہی جا رہا ہے کہ دونوں جانب مسلمان ہی ہیں۔
ہو سکتا ہے اچھے مسلمان۔۔ برے مسلمان کا فرق ہو۔
ہم نہ تو ٹی وی چینلوں پر جوش خطابت دکھانے والے تجزیہ کار ہیں ، اور نہ ہی ماہر امور خارجہ۔ لیکن ہماری ناقص رائے میں اب پرائی جنگوں میں اچھل کود کی پالیسی ترک کر دی جانی چاہیئے۔ اسکا جونقصان اب تک اٹھایا جا چکا ہے، اسکا اذالہ ابھی آنے والی نسلیں بھی ادا کرتی رہیں گی۔ یہ عالمی سیاست اور بین الاقوامی امور ہیں، جسے ’’ ساس بہو‘‘ کا جھگڑا نہیں سمجھنا چاہیئے۔ دوستی دشمنی افراد میں ہوتی ہے، ریاستوں میں نہیں، اور ان کی دوستیاں اور دشمنیاں بھی مفادات کے تابع ہوتی ہیں جو کبھی مستقل نہیں رہتے۔
یہ سادہ سی بات سمجھنا شاید وزیر دفاع کے بس کی بات نہیں۔ شکر ادا کرنا چاہیئے کہ یمن میں گھرے پاکستانی گھروں کو لوٹ آئے، ورنہ انہوں نے تو اپنے انتہائی ناوقت اور احمقانہ بیان سے انکی زندگیاں خطرے میں ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
سعودی ۔ یمن معاملے پر اب حکومت کا لائحہ عمل کیا ہو گا، ہم نہیں جانتے۔
لیکن اگر اسکا فیصلہ حکومت، پارلیمنٹ یا سیاستدانوں پر چھوڑ دیا گیا ، تو وہی ہو گا ، جو ملک کی بجائے انکے اپنے مفاد میں ہوگا۔ اگر سب اس کھلے راز سے واقف ہیں کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں، ان میں سے کم وبیش سب کے اثاثے موجود ہیں، جو ملکی دولت لوٹ کر بنائے گئے ہیں، تو پھر خاطر جمع رکھیئے۔ فیصلہ معلوم۔
مہذب دنیا میں جب ایسا کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے ، جس پر قوم بٹ سکتی ہے تو اسکے فیصلے کے لئے ریفرنڈم کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔
صاف ستھرا ریفرنڈم کروالیجئے۔
عوام کا فیصلہ سامنے آ جائے گا۔