خلیفہ اوّل سیدنا صدیق اکبرؓ

  • منگل 31 / مارچ / 2015
  • 9378

سیدنا حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا میری زندگی میں جس کسی نے مجھ پر کوئی بھی احسان کیا تھا میں نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے ۔ مگر ابو بکر صدیق کے احسانات کا بدلہ چکا نا میرے بس کی بات نہ تھی ۔اس لیے یہ قرض سا تھ لے جا رہا ہو ں ۔ اس کا بدلہ اللہ تبارک و تعالی قیامت کے دن ابو بکر صدیق کو دیں گے ۔ مجھے کسی اور کے مال نے اتنا فائیدہ نہیں پہنچایا جتنا صدیق اکبر کے مال نے۔ اگر میں اللہ کے سوا مخلوق میں سے کسی کو خلیل بناتا تو وہ ابو بکر صدیقؓ ہو تے ۔ مگر تم خوب یاد رکھو کہ میرا خلیل صرف میرا اللہ ہے ۔یہ بات فخر کون و مکان زبدہ زمین و زمان خاتم النبیین حضرت محمدمصطفی احمدمجتبی ﷺنے اپنے سفر آ خرت سے پانچ روز قبل اپنی زندگی مبارک کے آ خری خطبہ میں بعد از نماز ظہرمحراب مسجد نبوی میں منبر پر جلوہ افروز ہونے کے درمیان فرمائی تھی۔ جبکہ سینکڑوں جانثاران پروانوں کی طرح شمع رسالت کے گرد جمع تھی ۔ اور یہ آپ کی زندگی مبارک کا آخری خطاب عام تھا۔

سیدنا صدیق اکبرؓکا اسم مبا رک عبداللہ کنیت ابوبکر لقب صدیق وعتیق ہے۔والدمحترم کا نام عثمان جن کی کنیت ابوقہافہ تھی ۔والدہ محترمہ کا نام سلمہ اور کنیت ام الخیر تھی ۔ آپ کا سلسلہ نسب چھٹی پشت پر جناب مرہ سے حضور اکرم ﷺسے جا ملتا ہے ۔ والد محترم فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے تھے ۔ صدیق اکبر کی رحلت کے بعد دور خلافت فاروق اعظم میں ستا نویں برس کی عمر میں چودہ ہجری میں وفات پا ئی ۔والدہ محترمہ ابتدائے اسلام میں ہی ایمان لے آئی تھیں ان سے پہلے صرف انتالیس خوش نصیب حلقہ بگوش اسلام ہو ئے تھے ۔انہوں نے خلافت صدیق اکبر کے دور میں وفات پا ئی ۔انتہائی عابدہ زاہدہ خاتون تھیں۔

صدیق اکبرؓ قبل از اسلام :۔ آپ عرب کے متول امراء میں شمار ہو تے تھے پیشہ تجارت تھا ۔اپنی دیانت و امانت شرافت راست بازی اور حسن اخلاق میں شہرت رکھتے تھے۔ بچپن سے ہی دین ابراہیم پر قائم تھے یہ اللہ تعالی کا ان پر خاص کرم تھا کہ عقیدہ توحید دل میں راسخ تھا ۔ زندگی میں نہ کبھی بت پرستی کی نہ کبھی شراب پی نہ جوا کھیلا ۔اور نہ ہی عرب کے زمانہ جاہلیت کی دوسری بد رسوم میں حصہ لیا ۔ اس کی ایک وجہ تو آپ کی فطرت سلیمہ تھی اور اصل سبب حضور اکرم ﷺ کے سا تھ بچپن کی دوستی تھی۔ آپ کا تمام فارغ وقت حضور اکرمﷺ کے ساتھ ہی گذر تا تھا ۔

صدیق اکبرؓ کااسلام:۔ بالتحقیق یہ بات ہے کہ آپ اول المسلمین ہیں۔چار مقدس ہستیاں ہیں جنہیں یہ شرف حا صل ہے ۔خواتین میں ام المومنین محسنہ کائنات حضرت سیدہ خدیجۃالکبریؓ ۔ مردوں میں سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ نوجوانوں میں شیر خدا داماد مصطفی ﷺ سیدنا حضرت علیؓ کرم اللہ وجہ اور غلا موں میں خادم خاص رسول اللہ ﷺ حضرت زید بن ثابتؓ ۔ اسلام لانے کے بعد آپ اپنے پیارے محبوب کے حکم پر انفرادی دعوت و تبلیغ اسلام میں سر گرم ہو گئے۔ معدن اسلام کے ممتاز تاباں و درخشاں جواہرات مثلا خلیفہ ثالث سیدنا حضرت عثمان غنیؓ سیدنا حضرت زبیرؓ بن عوام سیدنا حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف سیدنا حضرت سعدؓ بن وقاص سیدنا حضرت طلحہ بن عبداللہ سیدنا حضرت عثمانؓ بن مظنون سیدنا حضرت ابو عبیدہؓ سیدنا حضرت ابو سلمہؓ سیدنا حضرت خالد بن سعیدؓ آپ کی ہی دعوت پر حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے ۔

مکہ مکرمہ کی زندگی :۔ اسلام لانے کے بعد آپ نے اپنی تمام دولت رسول اللہ ﷺ کے قدموں پر نچھاور کر دی۔ تمام مال اشاعت اسلام پر قربان کر دیا ۔ بہت سے غلام جن میں سر فہرست سیدنا حضرت بلالؓ ہیں کفار کے ظلم کی چکی میں پس رہے تھے جن کو آپ نے رہائی دلائی۔ دعوت و تبلیغ میں خصوصی انہماک کی وجہ سے آپ کا کاروبار خاصا متاثر ہوا مگر آپ نے کسی چیز کی پرواہ نہ کی۔ مکہ کے کفار جو اعلان توحید کے بعد اپنے بتوں کی عزت و عظمت کی حفاظت کی خا طر انتہائی جذبا تی ہو چکے تھے اور ہر مسلمان کے جانی دشمن بن چکے تھے وہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کی دینی سرگرمیوں سے بخوبی واقف تھے اور آپ کو ایذا رسانی میں کسی لمحے نہ چوکتے تھے۔

حضور اکرم ﷺ اپنے دل کے بہت قریب رہنے والے دوست کی تکالیف اور پریشانیوں کو دیکھ کر بے قرار و بے چین ہو جایا کرتے تھے ۔ آخر ایک روز آپ نے ارشاد فرمایا ابو بکر آپ کچھ وقت کے لیے اللہ کے دین کی دعوت لے کر ملک حبشہ چلے جائیں ۔ محبوب پاک کے مشورہ پر آپ نے ہجرت حبشہ کا قصد فرمایا مگر راستے ہی میں تھے تو رئیس قارہ ابن الدغنہ سے ملاقات ہوگئی۔ اسے جب آپ کے ارادہ کا علم ہوا تو اس نے آپ کا راستہ روک لیا ۔اور کہنے لگا ایک ایسا انسان جو مفلسوں و بے نواؤں کی دستگیری کرنے والا ہو۔ قرابت داروں کا خیال رکھنے والا ہو۔ مہمان نواز ہو ۔مصیبت زدوں کی اعانت کرنے والا ہو ۔ جس کا کوئی حمائیتی نہ ہو اسی کا سا تھ دینے والا ہو ۔وہ ملک بدر نہیں ہو سکتا آپ واپس چلیں ۔ میں آپ کو پناہ دیتا ہوں ۔

آپ واپس آ گئے ابن دغنہ نے مکہ میں ان کی حمایت کا عام اعلان کر دیا۔ صدیق اکبرؓ نے اپنے گھر میں ایک چھوٹی سی عبادت گاہ بنا رکھی تھی جس میں نوا فل وغیرہ پڑھتے تھے اوراونچی آ واز سے کلام پاک کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ کفار نے ابن دغنہ سے کہا کہ وہ صدیق اکبر کو روکیں آپ نے جواب دیا میرے محسن ابن و دغنہ میں آپ کے کہنے پر واپس ضرور آ یا تھا مگر ہم اپنے آپ کو صرف اللہ تعالی کی پناہ میں ہی جانتے ہیں ۔آپ بے شک اپنے بری الذمہ ہو نے کا اعلان کردیں۔مجھے میرے اللہ کی حفاظت کا فی ہے۔مکہ مکرمہ کی تیرہ سالہ زندگی اسی طرح حمایت دین، جان نثاری رسول اللہ ﷺ کی خاطر المناک حالات پریشان کن مسائل اور نا قابل برداشت دکھوں میں گذار دی ۔

ہجرت مدینہ طیبہ منورہ:۔ آخر وہ خوش نصیب رات آ ہی گئی جس میں اللہ تعالی کی طرف سے اپنے سچے پیارے محبوب پاک ﷺ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ جا نے کا حکم ارشاد فرمادیا۔ اس رات کو اپنی ہمراہی کے لیے رسول اللہ ﷺ نے باذن خدا صدیق اکبر کا انتخاب کیا بلا شبہ یہ وہ اعزاز ہے جس کے سامنے ہفت اقلیم کی بادشاہت بھی ہیچ ہے ۔آپ ﷺ صدیق اکبرؓ کے گھر رات کے وقت تشریف لائے اورہجرت کا پیغام سنایا آپ کو ساتھ چلنے کا مژدہ جاں فزا سنایا ۔صدیق اکبر کی شہزادیوں ام المومنین سیدہ طاہرہ عائشہ صدیقہؓ اورحضرت اسماءؓ نے فوری رخت سفر باندھ دیا اور آپ غار ثور کی طرف روانہ ہوئے۔جہاں تین روز قیام کیا ۔یہ وہ غار ہے جس کی کہا نی لوح محفوظ میں پہلے ہی تحریر تھی ۔جو سورہ توبہ کی آیت نمبرچالیس میں موجود ہے ’’ اگر تم اللہ کے رسول کی مدد نہ بھی کرو گے تو ( اللہ تعالی ان کی مدد کے لیے کا فی ہے) تو اللہ تعالی ان کی مدد کر چکا ہے ۔جب کفار نے انہیں نکال دیا تھا اور وہ دوتھے ۔اور دونوں غار میں تھے ۔اور اللہ کے رسول اپنے صحابی کو تسلی دے رہے تھے کہ آپ غم نہ کھائیں بے شک اللہ تعالی ہمارے سا تھ ہے۔‘‘

یو ں توجس نے بھی دیدارجمال مصطفیﷺکیاوہ صحابی ہے مگرقرآن کی زبان میں یہ لفظ(اذیقول لصاحبہ) صرف صدیق اکبرؓ کو ملا۔صدیق اکبر نے غار کے اندر جا کر اُسے صاف کیا تمام سوراخ پگڑی پھاڑکر اس کے ٹکڑوں سے بند کئے ایک سوراخ با قی رہ گیا جس پر ایڑھی رکھ کرحضوراکرمﷺو اندر آ نے کی دعوت دی ۔آپ صدیق اکبر کے زانوئے مبارک کو تکیہ بنا کرمحواستراحت ہو گئے ۔ سوراخ سے کالے ناگ نے صدیق اکبر کی ایڑھی پر ڈنگ مار دیا ۔زہر کا اثر آنکھوں تک آیا تو درد کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو گر پڑے جو سیدھے رخسار نبوت پر گرے۔آپﷺ کو خبر ہوئی تو لب مبارک انگلی پر لگایا اور صدیق اکبر کی ایڑھی پر مل دیا اس تریاق کا ایڑھی پر لگنا تھا کہ درد بھی کافور ہوگیا اور زخم بھی مندمل ہوگیا ۔غار ثور میں تین روزہ قیام میں آپ کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ کھانا بھی پہنچاتے رہے اور کفار کی سرگرمیوں کی رپور ٹ بھی دیتے رہے ۔تیسری شب آپ کے غلام عامر بن فہیرہ دواونٹنیاں لیکر آگئے جن پر آپ سوار ہوئے اور آٹھ روزہ سفر کے بعد قباء پہنچے۔

مدنی زندگی ۔ سرور کائنات ﷺنے مدینہ منورہ میں ورود مسعود کے بعد پہلا فیصلہ تعمیر مسجد کا کیا ۔ مسجد نبوی کے لیے زمین کا جو ٹکڑا خریدا گیا اس کی قیمت حضرت صدیق اکبرؓ نے اپنی گرہ سے اداکی ۔ جود و سخا ء کے ابر کرم کی اس بارش کی ٹھنڈک جہاں قیامت تک زائرین محسوس کرتے رہیں گے وہاں یہ عمل صدیق اکبرؓ کے باغ جنت میں مزید ترو تازگی وشگفتگی کا سبب بنتا رہیگا ۔

غزوات ۔ مدنی زندگی مکی زندگی سے یکسر مختلف تھی مسلمانوں کی ایک آزاد ریاست معرض وجود میں آچکی تھی جہاں اسلامی قانون کا نفاذ ہوچکا تھا۔ اصحاب رسول پوری آزادی کے ساتھ اپنے پالنہار مالک کی عبادت کررہے تھے ۔ کفار کو یہ بات ایک آنکھ نہ بھائی مدینہ طیبہ پر یلغار کی تیاریاں شروع کردیں ۔اسلام میں پہلی جنگ جسے غزوۂ بدر کہتے ہیں ہوئی ۔دوسری جنگ دامن کوہ میں غزوۂ احد ہوئی۔ تیسری جنگ مدینہ طیبہ کے قریب جنگ خندق کے نام سے ہوئی ۔ علاوہ ازیں جتنے بھی غزوات ہوئے اور صلح حدیبیہ کا جو واقعہ پیش آیا، آپ کا کردار سب میں نمایاں رہا جنگ تبوک میں آپ نے اپنا تمام مال خدا کی راہ میں پیش کردیا ۔ فتح مکہ میں آپ نے بے مثال جرائت و بہادری کا مظاہرہ فرمایا ۔جنگ حنین میں جواں مردی کے تمام جوہر دکھلائے۔ نو ہجری میں مسلمانوں نے پہلا حج کیااوراس حج کے امیرہونے کی سعادت حضرت ابوبکرصدیقؓ کو حاصل ہوئی۔

محبوب خداﷺ کی سفر آخرت کی تیاری و جانشینی صدیق اکبر :ؓ 10 ہجری میں خطبہ حجۃ الودع اور سورہ مائدہ کی آیت نمبر 3اورسورہ نصر کے نزول کے بعد حضور اکرمﷺ کے سفر آخرت کا واضح اشارہ ہوچکا تھا بلآخر 26صفر المظفر گیارہ ہجری کو آپ ﷺ کو سر میں درد اور بخار کی تکلیف شروع ہوگئی ۔جب تک ہمت و طاقت رہی مسجد میں تشریف لاتے رہے اورخود امامت فرماتے رہے۔ مگروفات شریف سے چار روز قبل شدت تکلیف کی وجہ سے مسجدمیں نمازعشاء کی امامت کے لیے تشریف نہ لاسکے تو اپنے مصلی پر اپنی قائم مقامی کا شرف صدیق اکبرؓ کو بخشا ۔آپ نے مصلی رسول پر سترہ نمازوں کی امامت بشمول نماز و خطبہ جمعہ کے فرائض حضور اکرم ﷺ کی حیات طیبہ میں ادافرمائے ،جو آپ کی خلافت پر مہر تصدیق نبوی تھی ۔بارہ ربیع الاول بروز سوموار گیارہ ہجری نماز فجر کی جماعت کھڑی تھی کہ دو جہاں کے سردار نے حجرہ اقدس کا پردہ اٹھا کر دیکھا یہ آ خری دیدار عام تھا صدیق اکبر سمجھے کہ سرکار تشریف لا رہے ہیں تو آپ نے مصلی سے پیچھے ہٹنا چا ہا مگر حضور اکرم ﷺ نے ہا تھ کے اشارے سے نماز پوری کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔

اسی روز قبل دوپہر شاہ ارض و سماء کا عالم دنیا سے سفر آ خرت ہوا۔ صبح طبیعت مبارک بہت بہتر نظر آ رہی تھی۔ آپ اجازت لے کر مقام سخ جہاںآپ کی زوجہ محترمہ حضرت خارجہ بنت ظہیر رہتی تھیں تشریف لے گئے ۔ ابھی پہنچے ہی تھے کہ وفات رسول اللہ ﷺ کی اطلاع مل گئی ۔ تیزی سے واپس آ ئے تو گھر میں ایک کہرام برپا تھا پورا مدینہ طیبہ کے افراد گھروں سے نکل کر دولت سرا رسول اللہ ﷺ کے گرد جمع ہو چکے تھے۔ مسجد نبوی کھچا کھچ بھر چکی تھی۔ حضرت عمر فاروقؓ فرط غم سے حواس قائم نہ رکھ سکے تھے۔ تلوار ہا تھ میں لیے پو رے جوش کے سا تھ کہ رہے تھے خبردار کسی نے یہ کہا کہ رسول اللہ ﷺفوت ہوچکے ہیں بلکہ وہ تو اسی طرح اللہ تعالی کے پاس گئے ہیں جیسے حضرت موسی علیہ السلام طور پر جا کر واپس آجایا کرتے تھے۔ اسی طرح حضور اکرم ﷺ بھی واپس آ جائیں گے ۔

حضرت صدیق اکبرؓ نے چہرہ انور سے کپڑا اٹھایا پیشانی مبارک کو چوما اور فورا ذہن میں آ یا کہ اب صبر حو صلے سے عوام کو کنٹرول کرنے کا وقت ہے ۔ سیدھے مسجد میں تشریف لے گئے خطبہ پڑھا اور سورہ آل عمران آیت نمبر 144 تلاوت کی۔ جس کا ترجمہ ہے : ‘‘ نہیں ہیں محمد مصطفی مگر اللہ تعالی کے ایک رسول۔ ان سے پہلے بہت سے اور بھی رسول ہو گذرے اگر وہ فوت ہو جائیں یا شہید کر دیے جائیں تو کیا اے لوگو تم پھر اپنی ایڑھیوں کے بل واپس لوٹ جاؤ گے اور اگر کوئی لو ٹے گا تو وہ اللہ تعالی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا اور اللہ تعالی شکر گذار بندوں کو جزا دینے والا ہے ۔‘‘ یہ آیات جنگ اُحد کے موقع پر نا زل ہوئی تھیں جب سرکار دو عالم ﷺ کی شہادت کی خبر مشہور ہو گئی تھی آیت کا پڑھنا تھا کہ لوگوں پر عجب کیفیت طاری ہوگئی۔ ہرزباں پراس آیت کی تلاوت جاری ہوگئی۔

اب فوی طور پر دو مسئلے سامنے تھے ۔ ایک تو حضور اکرمﷺکے واضح حکم کی تعمیل آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ کسی بھی فرما ں روا کی رخصتی کے بعد اس کے دفن سے قبل قائم مقام کا انتخاب ہو جانا چا ہیے ۔ امہات المومنین، سیدہ فاطمۃ الزہرا اور مدینہ طیبہ کی خواتین جسم مبارک کے پاس بیٹھی تھیں۔اس دوران مذکورہ امتثال حکم رسول اللہﷺ کے لیے صحابہ کرام سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوگئے۔ وہاں خلیفہ الرسول کے انتخاب پر بحث شروع ہوئی انصارؓ مدینہ کا خیا ل تھا کہ خلیفہ انصار سے بنایا جائے۔

صدیق اکبرؓ کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا کہ میں نے حضور اکرم ﷺ سے خودسنا ۔آپ نے ارشاد فرمایا ا لآئمہ من قریش یعنی خلفاء قریش سے ہوں گے ۔آپ کے فرمان پرچاروں طرف سے آوازآ ئی اے انبیاء کے بعد سب سے سچے انسان آپ نے سچ فرمایا اس پر آپ نے فرمایا، یہ عمر فاروق موجود ہیں ان کو خلیفہ بنالیں۔اس پر فاروق اعظمؓ کھڑے ہوگئے اور فرمایا سبحان اللہ !آپ کی موجودگی میں عمر فاروق خلیفہ ہوسکتا ہے ۔خلافت کا فیصلہ تو اسی دن ہو گیا تھا جب اللہ کے سچے پیارے محبوب ﷺ نے مسجد نبوی کے مصلی پر اپنی قائم مقامی کا شرف آپکو بخش دیا تھا۔اورہاتھ بڑھا کرصدیق اکبرؓ کے ہاتھ پربیعت فرما لی۔فاروق اعظم کا بیعت کرنا تھا کہ تمام انصارومہاجرین بیعت کے لیے ٹوٹ پڑے اورمتفقہ طورپر پوری امت نے سیدنا حضرت ابوبکرصدیقؓ کو خلیفۃ الرسول کا اعزاز بخش دیا ۔