عرب دنیا بدل رہی ہے

  • منگل 31 / مارچ / 2015
  • 3723

سعودی عرب میں ایک خاتون کو ڈرائیونگ پر پابندی کے قانون کی خلاف ورزی پر 10کوڑوں کی سزا اور ایک دوسری خاتون کو کار چلانے کے الزام پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ خاتون کو جولائی میں گاڑی چلانے کے ’’جرم‘‘ میں پکڑا گیا تھا۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں عدالت نے جرم ثابت ہونے پر دس کوڑوں کی سزا سنائی جبکہ ریاض ہی میں سماجی کارکن مدیحہ العجرش نامی خاتون کو ڈرائیونگ کرتے ہوئے فوراً حراست میں لے لیا گیا۔ سزا پانے والی خاتون کا کہنا ہے کہ وہ گھر سے اپنے بچے کو اسکول چھوڑنے کیلئے گئی تھی کہ پولیس نے اسے دھر لیا۔ یاد رہے کہ گھر سے اسکول کا فاصلہ دس کلومیٹر کا ہے۔ ثابت ہؤا کہ سعودی خواتین کو ایک کلومیٹرڈرائیونگ پر ایک کوڑے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سعودی عرب میں عورت کار نہیں چلا سکتی لیکن ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ سکتی ہے۔ کچھ لوگ ایسا سیریس مذاق کرتے ہیں کہ ان کے سامنے تو ہنس پڑتا ہوں مگر گھر جا کر رونا پڑتا ہے۔ ایک دوسری خبر کے مطابق سعودی عرب میں مردوں کو چار شادیوں کی اجازت ہونے کے باوجود ملک میں غیر شادی شدہ عورتوں کی تعداد میں خوفناک اضافہ ہو گیا ہے۔ ستر لاکھ (70) خواتین میں سے صرف 29لاکھ خواتین شادی شدہ ہیں جبکہ 30سال تک کی وہ خواتین جن کی شادی کی عمر گزر چکی ہے ان کی تعداد 20لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ 23لاکھ  شادی شدہ خواتین کی اکثریت مکہ مکرمہ اور ریاض میں ہے۔

سابق سعودی  شاہ عبداللہ بن عزیز نے سعودی خواتین کو حق رائے دہی کے علاوہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی تھی جو کہ ایک مثبت اقدام ہے۔ شاہ سعودی عرب کے اعلان کے مطابق خواتین کو شوریٰ کونسل میں تقرر کا حق بھی حاصل ہو گا اور یہ حق اسلامی بنیادوں پر مبنی ہے۔

ایک عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے اپنے شہریوں کو غیرسعودی خواتین سے شادی پر پابندی کا بل منظور کر لیا ہے جس کی خلاف ورزی پر ایک لاکھ ریال جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ سعودی مجلس شوریٰ نے یہ اقدام ان غیر سعودی خواتین کی جانب سے شہریت دیئے جانے کے مطالبات کے بعد اٹھایا ہے جن کے شوہر خود تو سعودی عرب میں مقیم ہیں لیکن ان کی منکوحہ عورتیں دوسرے ممالک میں ہیں۔ ان خواتین کا مطالبہ ہے کہ سعودی عرب ان کی اولاد کو بھی سعودی شہریت دے۔ نئے مسودے میں یہ لچک رکھی گئی ہے کہ کوئی بھی سعودی مرد و خواتین خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک میں شادی کر سکتا ہے لیکن کونسل کے باہر شادی کرنے والے سعودی (مرد عورت) کو ایک لاکھ جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔

سعودی مجلس شوریٰ نے سعودی نوجوانوں کو بیرونی خواتین کے ساتھ شادی کرنے کے خلاف جو قانون وضع کیا ہے ان کا اندیشہ ہے کہ مملکت میں کئی سعودی نوجوان لڑکیاں بن بیاہی بیٹھی ہوئی ہیں، اس کے علاوہ غیر ملکی خواتین و لڑکیوں کے ساتھ شادیوں کے نتیجے میں کئی سماجی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ان مسائل سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ ان شادیوں پر پابندی لگائی جائے۔ انسانی حقوق کی سوسائٹی کے صدر صالح القتلان نے ایک یورپین چینل کو بتایا ہے کہ سعودی حکومت بیرون یا غیر ملکی خواتین کے ساتھ شادی کے معاہدات کو ہرگز تسلیم نہیں کرتی اور نہ ہی غیر ملکی بیویوں کو مملکت میں داخلے کی اجازت دیتی ہے۔ ماہر سماجیات عبدالعزیز العزیب جو الامام محمد ابن مسعود اسلامی یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی شادیوں سے سعودی عرب میں مہلک امراض جیسے ایڈز، ہیپا ٹائٹس وغیرہ کی وبائیں پھیل رہی ہیں، ایسے جوڑوں سے پیدا ہونے والے بچے بھی جان لیوا امراض میں مبتلا ہوتے ہیں۔

سعودی عرب میں سیاسی آزادی اور عورتوں کے حقوق کافی حد تک محدود ہیں موجودہ حکومت تعلیم اور معاشی میدان میں اصلاحات کرنے پر کافی زور دے رہی ہے۔ سعودی حکمران شاہ عبداللہ نے 2010ء میں فتویٰ جاری کرنے کیلئے حکومت کے مقرر کردہ علمائے دین کو ہی اختیار دینے کا جو اعلان کیا تھا اس کے پس پشت دراصل ان قدامت پسند علماء کو لگام دینے کا جذبہ کارفرما  تھا۔ یہ عالم ملک میں سماجی و سیاسی اصلاحات میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ شاہ عبداللہ تعلیمی و سیاسی میدان میں جو انقلابی تبدیلیاں لانا چاہ رہے تھے اس سے اور کچھ فوائد حاصل ہوں نہ ہوں تیل، گیس اور پٹرول کے وسائل پر بوجھ کم ہو جائے گا اور جدید ٹیکنالوجی اپنانے سے بے روزگاروں کیلئے روزگار کے وسائل دستیاب ہوں گے۔شاہ عبداللہ نے 2011ء میں مملکت کے مفتی اعظم کو یہ ہدایت جاری کی تھی کہ صرف 20ممتاز علمائے دین پر مشتمل کمیٹی کے ممبران کو ہی فتویٰ دینے کا مجاز سمجھا جائے۔ ورنہ اس سے قبل قدامت پسند علماء ملک میں سماجی، تعلیمی اور سیاسی اصلاح میں رکاوٹیں ڈالتے رہتے تھے اس حکم نامے سے سعودی حکومت کو بالخصوص تعلیم کے میدان میں اصلاحات کرنے میں کافی مددملے گی۔

سعودی عرب میں ابھی بھی وہابی فکر کے لوگوں کا غلبہ ہے یہ طبقہ نہ صرف مذہبی امور میں بلکہ عدلیہ اور تعلیم کے میدان میں بھی مداخلت کرتا رہتا ہے اور گزشتہ تین دہائیوں سے ان علمائے دین کی طرف سے دیئے گئے فتوؤں سے کافی تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے، ایسے فتوے بھی سامنے آئے جس میں ایک سیٹلائٹ چینل کے مالک کو پھانسی دینے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

ایک طرف شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے خواتین کو حق رائے دہی کے علاوہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کا اعلان کیا، وہاں خواتین کو مرد حضرات کی طرح مجلس شوریٰ میں شامل ہونے کا بھی حق حاصل ہو گا۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ مجلس شوریٰ کے ارکان منتخب نہیں ہوتے دوسرے تمام شعبہ ہائے زندگی کی طرح ان کا تقرر عمل میں لایا جاتا ہے یا دوسرے لفظوں میں نامزد کیا جاتا ہے۔ اب خواتین بھی اس نامزدگی کی حقدار ہوں گی۔

ایک ایسے ملک میں جہاں مردوں کی اجارہ داری ہے اور جہاں خواتین آج بھی کار ڈرائیو نہیں کر سکتیں والدین کی اجازت کے بغیر ملازمت، سفر یا شادی نہیں کرسکتیں وہاں انہیں ووٹ کا حق دیا جانا بظاہر سیاست یا مصلحت نظر آتا ہے۔ شاید مرحوم شاہ عبداللہ نے اس غیر متوقع اقدام کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں جنم لینے والی بیداری کا رخ ایک دوسری طرف موڑنے کی بھرپور کوشش کی ہے، ایک ایسی لڑائی کی بساط لپیٹنے کی کوشش کی ہے جو اس خطے میں لڑی جا رہی ہے یا لڑی جانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے خیال میں اس فیصلے سے نہ صرف خواتین کیلئے مزید تبدیلیوں کی راہ کھلے گی بلکہ شاہی خاندان اور علمائے کرام کے درمیان تعلقات کی نوعیت بھی دوسرا رخ اختیار کرے گی۔ شاہ عبداللہ کے اعلانات کے فوری بعد علماکرام اور خواتین کا ردعمل بھی سامنے آیا۔

خواتین کو مردوں کے مساوی ووٹ دینے کا حق ایک ایسا قدم ہے جس کا خواتین نے خیرمقدم کیا ہے۔ جسے قدم قدم پر سعودی معاشرے میں مردوں کا دست نگر اور ماتحتی میں زندگی گزارنی پڑی ہے۔ ان کے خیال میں عورتوں کے حق میں یہ تبدیلیاں ترقی کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔

2009ء میں سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے جو خود کو ’’اصلاح پسند‘‘ سمجھتےتھے ایک خاتون کو نائب وزیر بنایا تھا (جیسے آدمی دنیا میں خدا کا نائب ہے) اور انہیں عورتوں کی تعلیم کا شعبہ سونپا گیا تھا لیکن اس کا کیا کیجئے کہ سعودی عرب میں اب تک کسی عورت کو کابینہ کے درجے کا وزیر نہیں بنایا گیا۔ کسی عورت کو کسی ملک (اسلامی ملک میں بھی نہیں) میں سفیر بھی مقرر نہیں کیا گیا۔

میرے حساب سے عرب دنیا بدل رہی ہے سارا نقشہ تبدیل ہو رہا ہے اس لئے ضروری ہے کہ تبدیلی سے متعلق عرب سرزمین کے اندر سیاسی، تعلیمی اور سماجی فکرمیں بھی حقیقی تبدیلی آئے اب عرب باشندے محض ’’رعایا‘‘ اورہاتھ اٹھانے والے ’’پیروکار‘‘ نہیں رہے۔  دنیائے عرب کے ہر دارالحکومت میں ایک ’’تحریر چوک‘‘ وجود میں آ رہا ہے۔ اس لئے اب ضروری ہے کہ عرب شہریوں کے ساتھ بین الاقوامی معیار ہی کے مطابق سلوک کیا جائے نہ کہ شرعی معیار کے مطابق کہ میرے حساب سے اسلام میں علم کی شرعی اور غیر شرعی تقسیم کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔