کیا بات ہے بھائی!
- بدھ 01 / اپریل / 2015
- 5439
محترم بھائی !
اسلام علیکم کے بعد عرض ہے کہ ہم سب خیریت سے ہیں اور آپ کی خیریت نیک ’’ مطلوب ‘‘ چاہتے ہیں۔
بھائی! ہمارے ایسے بھاگ کہاں کہ آپ کے روبرو دوزانو ہو کر آپ کا گانا سن سکیں۔ جب سے یہ اللہ مارا، ٹی وی اور سکائپ وغیرہ آئے ہیں، شرفاء کے تو اطوار ہی بدل گئے ہیں۔ اب بھلا یہ کوئی بات ہے کہ غیرت ناہید تو وہاں فرنگیوں کے ملک میں بیٹھا ہو ، اور اسکی دیپک تانیں شعلے یہاں لپکا رہی ہوں۔ آپ کے سر کی قسم دل پارہ پارہ ہؤا جاتا ہے۔
اور یہ جو آپ نے اپنی بے مثال گائیکی کا جادو جگاتے ہوئے چند روز قبل جن نئے سروں کی سوغات بخشی ہے، واللہ اس نے تو دل کے تار ہلا کر رکھ دیئے ہیں۔ ہم تو ٹھہرے گنوار، پر بھائی آپ کے خطاب سے وجد میں آ جانے والے شرفاء کی حالت تو دیدنی تھی۔
خدا جھوٹ نہ بلوائے ، جب آپ مثل رعد کڑکنے کے بعد راجہ کی برات آنے کا تذکرہ فرما رہے تھے، توکئی سورماؤں کو تو ہم نے غش کھاتے خود اپنی ان گناہگار آنکھوں سے دیکھا۔
اور بیگمات اور لڑکیوں بالیوں کی حالت تو پوچھیئے نہیں۔ یوں لگتا تھا کہ راجہ اگر برات لے آیا تو مارے حسد کے، اب ستی ہوئیں کہ تب ۔۔
حضت ! ناگوار خاطر نہ ہو یہ تو ارشاد فرمائیے کہ شعر و ادب اور سر تان کی یہ تربیت آپ نے پائی کہاں۔
خدا بخشے میرزا استقامت بیگ غیض آبادی، بالا خانوں کو ایسے فنون کی تربیت گاہیں بتایا کرتے تھے۔ کہتے تھے ’’ میاں کوٹھوں چڑھے بنا کسی کو تہذیب پاتے ہم نے دیکھا نہیں ۔‘‘
اب اسے اگرآپ خوشامد پر محمول نہ فرماویں تو عرض کروں کہ چند برس قبل ’’ چورن ماشی راگ ‘‘ میں آپ نے جو ’’ چورن لے لو۔ چورن !‘‘ والی ٹھمری سنائی تھی، اسکے بعد تو گویا موسیقی کی اٹھان تھم سی گئی تھی۔ سبھی سُر شناس یہی کہتے تھے کہ اسے موسیقی کا حرفِ آ خر سمجھو۔ ہاں حاسدوں کی بات الگ ہے۔
پر بھائی ! اس ’’ راجہ کی برات ‘‘ میں تو آپ کے گلے سے یوں کہیئے کہ موسیقی کی نئی جہتیں برآمد ہوئی ہیں۔ سچ پوچھئیے تو ’’ آلو لے لو۔۔ پالک لے لو‘‘ والا دادرا بھی اسکے آگے ہیچ ہے۔ حالانکہ جب آپ نے اسے پیش کیا تھا ، تو ایک عالم اسے سن کر سر دھنتا تھا۔
بھائی !خدا لگتی کہتے ہیں کہ جب آپ سُر کا جادو جگا رہے ہوتے ہیں تو ایک بات شرفاء کے مجمع کی ہمیں بہت کھلتی ہے۔ بجائے اسکے کہ توجہ سے گانا سنیں، کوئی ناک کجھانے لگتا ہے، تو کوئی ٹھوڑی۔ کوئی چشمہ درست کرنے کے لئے ہاتھ آنکھوں پر دھر لیتا ہے تو کوئی بی بی چہرہ آنچل میں چھپانے لگتی ہیں۔ ارے بھائی سُر کی برسات ہو رہی ہے، راگ ، پھولوں کی طرح مشام جاں کو معطر کیئے دیتے ہیں، چراغوں کو بھڑکائے دیتے ہیں، تو پھر یہ اچھل کود کیسی؟ اب آپ سے بہتر کون جانتا ہو گا بھائی کہ سننے کیلئے بھی ذوق کی تربیت کرنا پڑتی ہے، جو رابطہ کمیٹیوں کے بس کی بات نہیں۔ یہ بھاری پتھر بھی آپ کو خود ہی اٹھانا پڑے گا بھائی۔
اور بھائی ! یہ قیادت چھوڑنے کی بات مت کیا کریں۔
سنتے ہی دل دھک سے ہو کر رہ جاتا ہے۔ کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔
ابھی اس مرتبہ جب آپ نے یہ بات پھر سے دہرائی تو کرانچی والوں کے دل پھر دھک سے ہو کر رہ گئے۔ کلیجے منہ کو آنے لگے۔ جب یہ منحوس خبر ملی تو میں آپ کی بھابھی کے ساتھ کھانا زہر مار کر رہا تھا۔ وہ نیک بخت تو کھا چکی تھی، پر میں ابھی سیر نہیں ہؤا تھا۔ جھٹ سے میرے آگے سے برتن اٹھائے اور لگی بین کرنے کہ محلے والے سن لیں۔ میں بھی منہ لپیٹے باہر گلی میں نکل آیا اورگلی والوں سے گلے مل مل کر دیر تک آنسو بہاتا رہا۔ سبھی کھانا کھا کر ہی آئے تھے لیکن بھوکے پیٹ گھروں سے نکلے تھے۔ بھائی صدمہ ہی ایسا جانکاہ تھا ۔ بھوک کیا خاک لگتی۔ محلے کا چوکیدار بھی اٹوانٹی کھٹوانٹی لے کر پڑ رہا۔ کہتا تھا، بھائی نے تو ہاتھ اٹھا لیا سر سے ، اب کیسی چوکیداری اور کہاں کا تحفظ۔۔ لاکھ سمجھایا کہ بھائی کل تک قیادت پھر سنبھال لیویں گے، اور چاہنے والوں کی ضد کے آگے انکی ایک نہیں چلے گی۔ پر کہاں صاحب ! کسی کو قرار ہی نہ تھا۔
محلے والے ، بشمول چوکیدار توکیا ، سبھی کرانچی والے ضد کرنے لگے کہ بھائی کو مناؤ۔ بھائی کو مناؤ۔
تو بھائی پھر جب آپ من گئے اور آپ نے ہماری ضد کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے قیادت نہ چھوڑنے کا اعلان کیا، تو سب کی بھوک پھر سے چمک اٹھی اور سبھی نہاری کھانے لگے۔ ہاں بھائی! نہاری سے یاد آیا کہ وہ اپنے جمن استاد نے لیاری میں بھی اڈہ بنا لیا ہے۔ آپ تو جانتے ہی ہوں گے ، وہی جمن ٹنڈا۔ بخدا اب تو ایسا ذائقہ لے کر آیا ہے کہ پنجاب والے بھی انگلیاں چاٹتے رہ جانویں، اور انگوٹھا بھی۔ اب بولیں!! کس زبان میں بات کریں گے۔
بھائی ! یاد ہے کیا دن تھے جب آپ ایک پرانی سی موٹر سائیکل پر آگے یا پیچھے بیٹھے پورے کرانچی میں گھوما کرتے تھے۔
پر بھائی کرانچی اب ویسی رہی نہیں جیسی آپ چھوڑ کر گئے تھے۔
جبھی تو کہتے ہیں، اللہ قسم اب لوٹ آئیے۔ آپ کے بنا کرانچی سونی سونی سی لگتی ہے۔ یہ رابطہ کمیٹی آپ کا بد ل نہیں ہو سکتی۔ یقین جانیئے ان میں سے کوئی بھی سُر میں گا ہی نہیں سکتا۔
اور ٹھمکا !!
ارے مار ڈالا۔۔ پردے میں رہنے دو۔۔ پردہ نہ اٹھاؤ۔۔ اللہ میری توبہ۔۔ استغفراللہ میری ۔!! واہ بھائی واہ ۔
بس ایک مرتبہ لوٹ آئیے۔ یہاں نمائش کے سامنے بڑا سا پنڈال سجاویں گے۔ اجلی اجلی چاندنیاں بچھی ہوں گی۔ سبھی گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے پان پر پان چبا رہے ہوں گے۔
اور ذرا تصور کیجئے!
ایسے میں چھم سے آپ کا ورود ہوتا ہے۔
سلام سلام سلام سلام سلام سلام سلام سلاآآآآم!!!
دھان پان پنڈا۔ چست پاجامے پر ریشمی انگرکھا۔ سیاہ چشمے سے بدن کے پار ہوتی بڑی بڑی آنکھیں۔ پاؤں میں سلیم شاہی۔ ایک ہاتھ پہلو پر دوسرا کھلی انگلیوں سے ماتھے پر۔ لچکتے، لہراتے، بل کھاتے، لجاتے، بھائی آپ پنڈال میں داخل ہوتے ہیں، اور رقص و آواز کا ایسا سماں باندھتے ہیں کہ مجمع دم بخود بیٹھا بس آپ کو بٹر بٹرتکے جاتا ہے۔ زبانیں گنگ۔ دل کی دھڑکن بند ہونے کو، منہ حیرت سے کھلے کے کھلے۔۔۔ واللہ کیا سماں ہوگا۔ بھائی ! چلے آئیے۔
اور ہاں بھائی ! ایک بات اور۔
بھائی ! یہ آپ نے کیسے کیسے نا اہل اپنے ارد گرد اکٹھے کر رکھے ہیں۔ کیا انہیں کوئی سمجھانے والا نہیں ہے کہ ولایت سے کرانچی پہنچنے کے لئے ، آپ کی آواز کو کسی ٹیلیفون لائن، کسی مائیکروفون، کسی سکائپ کی حاجت نہیں۔ ماشا اللہ سے آپ کے سینے میں اتنا دم ہے کہ آپ کی آواز تو برقی لہروں کا سہارا لئے بغیر ہی کرانچی والوں تک پہنچ جاتی ہے۔ یقین جانئے، کہنے کو تو سب ٹیلفون لائن پر آپ کا خطاب سن رہے ہوتے ہیں، لیکن سبھی جانتے ہیں کہ آواز تو سب تک ویسے ہی پہنچ رہی ہے۔
تو بس بھائی ! اب لوٹ آئیے۔ لوٹ بھی آئیے ناں ! ورنہ ہم ضد کرنے لگیں گے۔
بھائی ! سچ پوچھیں تو ہمیں اچھا نہیں لگتا کہ پچھم والے غریب جان کر آپ سے ہنس ہنس کر آپ کی بود و باش پوچھتے پھریں، اور یہ شہر افتخار آپ کے بنا اجڑا دیار بنا رہے۔
بس بھائی اب لوٹ آئیے۔
بھائی!! بھائی!
والسلام
خیر اندیش
کرخندارؔ گولیماروی
کرانچی