دہشت گردی کے مہیب سائے
- جمعرات 02 / اپریل / 2015
- 4777
یوں تو ساری زمین خُدا کی ہے مگر اِس پر لینڈ مافیا قابض ہے ۔ اِسی طرح تمام مذاہب ایک ہی خُدا کی بات کرتے ہیں مگر اُسی خُدا کے نام پر خلقِ خُدا کو ایک دوسرے کے خلاف صف آراء کر کے ایک دوسرے سے لڑوایا جا رہا ہے ۔ اِس سے بھی زیادہ ظالم وہ لوگ ہیں جو ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کو تفرقے کی چکّی میں پیس کر قوموں کی زندگی جیتے جی جہنم میں تبدیل کر دیتے ہیں ۔
اِسلام میں جہاد بالسیف یعنی جہاد بالکلاشنکوف ضروری مذہبی فریضہ ہے مگر بلا جواز جہاد کا کوئی مطلب ، موقع یا محل نہیں ہوتا ۔ جہاد کا فیصلہ اولی الامر یعنی حاکمِ وقت کرتا ہے ۔ مگر ہمارے یہاں جہاد کو مذاق بنا دیا گیا ہے اور اس کی بنا پر انسانی جانوں سے کھیلنے کا جواز مہیا کرلیا گیا ہے جو درست نہیں ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جہاد تو پسِ پشت رہ گیا ہے مگر دہشت گردی نے لوگوں کے دلوں میں جڑیں پکڑ لی ہیں ۔ مذہب کی آڑ میں اِس کھلی خونریزی نے مسلمان معاشروں کو ایشیا سے افریقہ تک غارت کر دیا ہے ۔ دہشت گردی کی ہوا نے سکولوں ، کالجوں ، مدرسوں ، سکولوں اور مسجدوں تک کا راستہ دیکھ لیا ہے ۔ اب بیشتر نوجوانوں کے لئے اپنی ساتھی نوجوانوں کو شکار کرنا ایک رومانٹک سپورٹس بن چکا ہے ۔
گذشتہ روز لاہور میں ایک صاحبِ حیثیت باپ کے بیٹے نے ایک پندرہ سالہ نوجوان کو جو نویں جماعت کا طالب علم تھا ، کیولری میدان میں گولی مار کر زندگی سے آزاد کردیا ۔ ملزم کا صاحبِ حیثیت باپ بیٹے کو بچانے کے لیے اسلام کی دیت کی سہولت کا سہارا لے رہا ہے ۔ خون بہا کا سہارا ۔ اِس کا مطلب یہ ہوگا کہ دیت کا آپشن استعمال کر کے قاتل کی سزا معاف کروا لی جائے گی۔ مگر اُس کے بعد معاشرے میں ایک قاتل آزاد پھرے گا ۔ اور اگر یہ روایت چل نکلی تو معاضے کی ادئیگی کے ذریعے قتل کو ایک سماجی رویّے کے طور پر قابلِ قبول بنانے میں دقت نہیں ہوگی ۔
صاحبِ ثروت خاندانوں کے بگڑے ہوئے بچوں کا قتل کرنے کا شوق نیا نہیں ہے ۔ کوئی سال بھر یا اس سے بھی کم عرصہ پہلے سندھ میں بھی ایک نوجوان نے دو بہنوں کے اکلوتے بھائی کو گولی مار کر ہلاک کردیا اور دوبئی فرار ہوگیا ۔ اُسے دوبئی سے گرفتار کر کے واپس لانے میں قانون نافذ کرنے والے اپاہج اداروں کو کافی تگ و دو کرنی پڑی تھی ۔ اُس خاندان نے بھی قتل کی قیمت لگائی تھی ۔ لیکن کیا ہماری نئی نسل کا خون بکاؤ ہے؟
کل لاہور میں ہونے والے قتل کا ملزم مصطفیٰ کانجو ایک سابق وزیرِ مملکت کا بیٹا ہے ۔ یہ قتل اور کراچی میں ہونے والا محولہ بالا قتل پاکستانی معاشرت کی سنگین کمزوریوں کی نشان دہی کرتا ہے ۔ یہ قتل کہتا ہے کہ بہت سے پاکستانی والدین اپنے بچوں کو تربیت کرکے اچھے انسان بنانے کے بجائے اُن میں وحشی درندے پرورش کر رہے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق صدیق کانجو کے قتل کے ملزم بیٹے کے ساتھ اُس کے سات باڈی گارڈ بھی تھے ۔ اس قسم کے ذاتی محافظ بہت سے سیاستدانوں ، وزیروں اور وڈیروں کے آوارہ منش بیٹوں کی حفاظت پر مامور رہتے ہیں ۔ اور یہ طرزِ حفاظت کسی ایک سیاسی جماعت یا دھڑے سے مخصوص نہیں۔ بلکہ تمام صاحبِ ثروت و حیثیت اور مراعات یافتہ شخصیات اپنے بچوں کو اسی طرح کے باڈی گارڈ مہیا کرتی ہیں، جو کلبوں ریستورانوں اور عشرت کدوں کے باہر اُن کی بگڑی ہوئی عادتوں کو تحفظ دیتے ہیں۔ مگر اُن کے والدین اُنہیں نہ تو تہذیبِ نفس سکھاتے ہیں اور نہ ہی اعلیٰ اخلاقی قدروں کی تعلیم دیتے ہیں ۔ قانون ان بچوں کے لئے کھلونا ہے جو پاکستان کے تعلیمی اور عدالتی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔
پاکستان کے سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں یہ طرزِ عمل ایک روایت بن گیا ہے ۔ اربابِ زروسیم اور اعلی منصب پر فائز لوگوں کے بچوں کے لئے سکول تعلیم گاہ نہیں بلکہ تفریح گاہ ہے ۔ زیرِ تعلیم بچوں کے والدین اپنی تعلیمی پیش رفت کی بالکل بھی نگرانی نہیں کرتے کیونکہ اُن کے پاس اس “ فضول “ کام کے لئے وقت ہی نہیں ہے ۔ رہا تعلیمی اسناد کا مسئلہ تو انسانی جان کی طرح اُس کی بھی قیمت ادا کی جا سکتی ہے ۔
سکول جانے والے بچوں کے والدین سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق کھاتے پیتے گھرانوں کے چشم و چراغ نہ تو سکول کے ضابطوں کو ہی در خورِ اعتنا سمجھتے ہیں اور نہ ہی اساتذہ کے کنٹرول میں ہیں ۔ وہ سکولوں اور کالجوں میں گینگ بنا کر تعلیمی سرگرمیوں میں رُکاوٹ ڈالتے ہیں ۔
میں نے بہت سے طالب علموں سے جو پاکستان کے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں ، بات کی ہے اور اُنہوں نے غیر ذمہ دارانہ والدین کی بگڑی ہوئی اولادوں کا جو نقشہ کھینچا ہے ، وہ خاصا تشویشناک ہے ۔ ایک مسلمان معاشرہ جس میں خُلقِ عظیم کی ترویج لازمی ہوتی ہے ، اُس میں یہ بے راہروی اور گمراہی کیوں ؟ یہ تو بچوں کو پوتڑوں میں بگاڑنے کے منصوبے ہیں ۔ اُنہیں قانون کو ہاتھ میں لینے کا سبق پڑھایا جا رہا ہے ، جو کسی بھی معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہے ۔
میں نہیں جانتا کہ اِس صورتِ حال کا ذمہ دار کون ہے ؟
میں کسی کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں چاہتا کیونکہ الزام کسی مسئلے کا حل نہیں ۔ تاہم مجھے تشویش ہے کہ نئی مسلمان نسل بے راہروی کے راستوں پر چل رہی ہے ۔ مذہبی جتھوں ، جیشوں ، لشکروں اور انتہا پسند تنظیموں کے ہاتھوں روز رونما ہونے والے دشہت گردی کے واقعات اُن کی فکری تربیت کر رہے ہیں ۔ اپنے اردگرد ہوتے روزمرہ قتل دیکھ دیکھ کر سکولوں کے طالب علموں پر بھی دہشت گردی کے سائے منڈلانے لگے ہیں ۔
ہمارے بچّے بے حس ہوتے جا رہے ہیں ۔ وہ بھٹک گئے ہیں ۔
کیا پاکستان کے محکمہ ء تعلیم کو اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری کا احساس ہے ؟؟؟