جوہری پروگرام پر معاہدے کے اثرات
- جمعہ 03 / اپریل / 2015
- 4121
طویل مذاکرات کے بعد ایران اور 6بڑی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق ہو گیا ہے جس کی ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی تصدیق کردی ہے۔ ایرانی عوام اس معاہدے پر خوشیاں منا رہے ہیں جبکہ اسرائیل بیحد ناراض ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ معاہدے سے قبل ایران سے اسرائیل کو تسلیم کرایا جائے۔
معاہدے کے بعد اپنے پیغام میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلے کے حل کیلئے فریم ورک طے پا چکا ہے جس پر عالمی قوتوں نے بھی رضا مندی ظاہر کردی ہے۔ ایران، امریکہ اور جرمنی نے کہا ہے کہ 8 روز کی گفت و شنید کے بعد اتفاق رائے ہو گیا ۔ جامع جوہری معاہدہ 30 جون تک تشکیل دے دیا جائے گا۔ حتمی معاہدے کے بعد امریکہ اور یورپی یونین ایران پر عائد پابندیاں ختم کردیں گے ۔ جوہری فریم ورک10سال کیلئے طے پایا ہے جس کے تحت ایران جوہری مقاصد کیلئے یورینیم افزودگی کم کرنے کیلئے راضی ہوگیا ہے۔
معاہدے کے بنیادی خدو خال اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کو 19000 میں سے اپنی 6104 سینٹری فیوجز چلانے کی اجازت مل گئی ہے۔ ان میں سے 5000 ایسی ہوں گی جو یورینیم کی افزودگی کریں گی۔ جو بھی ذخیرہ ہوگا وہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی زیر نگرانی ہوگا۔ ایران اپنے کم مقدار میں افزودہ حالت میں موجود یورینیم کے ذخیرے کو کم کرےگا جو کہ جوہری بم بنانے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ ایران فردوع میں موجود اس زیر زمین سائٹ کو 15 سال کے لئے بند کر دے گا جہاں یورینیم کی افزودگی ہوتی ہے۔
معاہدے کے مطابق بین الاقوامی معائنہ کاروں کو نہ صرف ایران کی اہم جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہوگی بلکہ وہ یورینیم کی کانوں اور کارخانوں کا معائنہ بھی کر سکیں گے۔ ایران پابند ہوگا کہ وہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو ملک بھر میں مشکوک یا خفیہ جگہوں تک رسائی دے۔ان پابندیوں میں سے کچھ تو 10 سال کے لئے ہیں جبکہ چند کو 15 سال کے لئے لاگو کیا جا رہا ہے۔
مغربی ممالک میں اس پر اظہار طمانیت کیا جارہا ہے کہ عالمی قوتوں اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے پر مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں جو اسے جوہری تنازع کے حل میں اہم پیش رفت اور اچھی خبر قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ عالمی قوتوں سے معاہدے کے مطابق ایران اپنی جوہری صلاحیت ایک تہائی کم کر دے گا ۔البتہ امریکی صدر باراک اوباما نے وائٹ ہاﺅس میں پریس کانفرنس کے دوران جو کچھ کہا اہل نظر کے نزدیک وہ انتہائی معنی خیز ہے۔
اوباما کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر تاریخی معاہدہ ہو گیا۔ معاہدے کے تحت ایران کبھی پلوٹونیم بم نہیں بنا سکے گا۔ معاہدے کی خلاف ورزی پر ایران کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ ایران کو اپنا ایٹمی پروگرام محدود کرنا پڑے گا۔ ایران آئندہ دس سال تک کوئی ایٹمی ری ایکٹر تعمیر نہیں کر سکے گا۔ معاہدے کے تحت ہم نے اپنے مقاصد حاصل کر لئے ہیں۔
ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کے ڈھانچے پر اتفاق رائے کے باوجود غیر جانبدار مبصرین کے ان سوالات سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ ایران کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں عالمی طاقتوں کا ردعمل کیا ہوگا؟ کیا ایک بار پابندیاں ختم ہونے کے بعد دوبارہ لگ سکیں گی؟ اور یہ بھی کہ کس حد تک خلاف ورزی ہوگی تو اس پر ایکشن لیا جائے گا اور کون سے وہ اقدامات ہوں گے جن سے صرف نظر ہو سکتا ہے۔
لوگوں کو یاد ہو گا کہ 2013ء کے اواخر میں انتخابی مہم کے دوران ایران کے موجودہ صدر حسن روحانی نے ایران کے پر امن ایٹمی پروگرام کے حوالے سے امریکہ اور مغربی ممالک کو یہی پیغام دیا تھا کہ اس کے خاتمے کے حوالے سے وہ کسی نوع کا سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ 2 اپریل کو ایرانی ایٹمی پروگرام کے حوالے سے طے پانے والے معاہدے کے مندرجات سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک کی کوششیں بار آور ہوئیں اور ایران نے انجام کار ایسا معاہدہ کر لیا جس کے بعد آئندہ 10 سے 15 سال تک اس کے لئے اپنے ایٹمی پروگرام کو ایٹمی اسلحہ سازی میں تبدیل کرنا خاصا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوجائے گا۔ تاہم ایران پر جو سخت اقتصادی پابندیاں لاگو تھیں، تیل کی آمدنی کے باوجود اُن کی وجہ سے ایران کی داخلی معیشت زبوں حالی کا شکار تھی۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ 12 برس بعد امریکہ اور مغربی ممالک عالم اسلام کے ایک دوسرے بڑے مسلمان ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اقتصادی پابندیاں اٹھانے کے لئے بھی 5 سال کی شرط عائد کی گئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایران نے اس ضمن میں جو فیصلہ کیا ہے، یقینا اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے کیا۔ بادی النظر میں یہ معاہدہ ایران اور مغرب کے درمیان موجود کشیدگی اور اختلافات کو کم کرنے میں مدد دے گا۔
یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں کہ اس معاہدے کے باوجود تہران اور واشنگٹن کے درمیان بہت سے معاملات و مسائل پر اختلافات اب بھی موجود ہیں۔ یہ امر ذہن نشین رہے کہ یہ مسائل و معاملات جوہری مذاکرات پر اثر انداز نہیں ہوئے۔ اس معاہدے کے بعد ہی مستقبل میں منکشف ہو گا کہ ایران کے جوہری پروگرام کی رفتار کیا ہو گی کیونکہ امریکی محکمہ خارجہ نے مشترکہ اقدامات کے جامع پلان کے عنوان سے جو فہرست جاری کی ہے اس کے بعض مندرجات پر غیر جانبدار حلقے اظہار حیرت کر رہے ہیں۔
یہ امر بھی حیران کن ہے کہ سپر پاور امریکہ نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے لئے اپنی تمام توانائیاں صرف کیں لیکن یہی امریکہ اسرائیل کے اس ایٹمی پروگرام سے مجرمانہ چشم پوشی کر رہا ہے جو صرف مشرق وسطیٰ ہی کے لئے نہیں بلکہ ہر اس ملک کے لیے فنا کا پیغام ہے جس نے ابھی تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ اس تناظر میں لوزین میں ہونے والا معاہدہ خطے میں عدم توازن کا باعث بنے گا۔
مشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات ، ایران سعودی عرب کشیدگی ، یمن میں جاری قتل و غارت گری کے تناظر میں بھی یہ معاہدہ خوش آئند ہے۔ کیونکہ اس خطے میں ایران کا رول انتہائی اہم ہے اور ایک اچھے معاہدے کی صورت میں یقینا ایران کے لئے یہ مشکل ہو گا کہ وہ پوری دنیا کے خلاف جا کر اقدامات اٹھائے اور اس کے ساتھ سعودی عرب پر بھی ایران سے تعلقات بہتر بنانے کے لئے دباﺅ بڑھے گا جو خطے میں قیام امن کے لئے معاون ثابت ہو سکتا ہے۔