موت کا فیصلہ کرنے کا حق

  • منگل 07 / اپریل / 2015
  • 4787

فرانسیسی پارلیمنٹ نے ایک قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت ایسے مریض جن کے تندرست ہونے کی امید باقی نہیں رہی وہ مزید علاج معالجہ یا ڈاکٹروں پر ’’بوجھ‘‘ بننے کی بجائے اپنی زندگی کے خاتمے کا فیصلہ خود کر سکیں گے۔ اس قانون کے تحت ڈاکٹر حضرات جب یہ دیکھیں گے کہ مریض کیلئے ادویات مؤثر نہیں رہیں اور ان کے ذریعے مریض کو محض مصنوعی طریقے سے زندہ رکھا جا رہا ہے یا رکھا جا سکتا ہے تو وہ میڈیکل امداد بند کر سکیں گے۔

اس قانون کے تحت انتہائی علیل یا ناقابل برداشت درد، تکالیف یا مصائب کے شکار مریض علاج بند کرنے کی درخواست کرنے کا استحقاق رکھیں گے اور ڈاکٹروں کو مریض اور میڈیکل ٹیم کے مشورے کے بعد مریض کی خواہش و امنگوں کو پورا کرنا پڑے گا۔ ایسے مریض جو مستقل ’’کومے‘‘ یا بے ہوشی کی حالت میں ہیں اور ٹیکنیکل طور پر ’’مردہ‘‘ ہیں ان کے لواحقین علاج بند کرنے اور مریض کو ان تمام دکھوں سے مکتی یا نجات دلانے کی درخواست کر سکیں گے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون یوتھنیزیا سے مختلف ہے اس میں ڈاکٹروں کو عملی طور پر مریض کی زندگی کا خاتمہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ قانون نہ صرف فرانس بلکہ ہالینڈ اور بیلجیم میں بھی لاگو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برس ایک اطالوی وزیر نے ہالینڈ کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے یوتھنیزیا سے متعلق قوانین کا ہٹلر اور نازیوں کی پالیسیوں سے موازنہ کیا تھا ۔جس پر ڈچ حکومت سخت برہم اور سیخ پا ہوئی تھی۔ (یاد رہے کہ ’’گے میرج‘‘ اور یوتھنیزیا کے قوانین کا اطلاق دنیا بھر میں سب سے پہلے ہالینڈ نے اپنے ملک میں کیا تھا)

ہالینڈ کے وزیراعظم اور اس کی کابینہ نے اٹلی کے وزیر کے بیان کو ناقابل قبول اور شرمناک قرار دیا تھا۔ اپنے بیان میں اطالوی وزیر کارلو نے یہ کہا تھا کہ ہالینڈ کے یوتھنیزیا کے قوانین اور کج خلقت بچوں کو ہلاک کر دینے کے بحث و مباحثے کے ذریعے یورپ میں نازی سوچ ابھر رہی ہے۔ سابق ڈچ وزیراعظم بالنکنڈے نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ یہ یورپ میں رہنے کا صحیح طریقہ نہیں۔ اطالوی وزیر کو ہالینڈ کے عوام سے معافی مانگنی پڑے گی۔ لیکن وزیر نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

میرے حساب سے اطالوی وزیر کو ایسا دقیانوسی بیان یا انٹرویو نہیں دینا چاہئے تھا۔ بنی نوع انسان کی اصلاح کیلئے ضروری ہے کہ اب اس ’’میڈیکل علم‘‘ کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ ’’انسانی نوع کی اصلاح کا علم‘‘ کا مطلب ہے کہ جین (Gene) کے استعمال سے یا علاج معالجہ سے نسل انسانی کو بہتر بنایا جائے اور دنیا کو زیادہ سے زیادہ خوبصورت بنایا جائے نہ کہ بدصورتی میں اضافہ کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہالینڈ کے بعد بیلجیم کے 75 فیصد ڈاکٹر حضرات ایسے ہیں جو ایسے بیمار اور لاعلاج بچوں کو جن کے بچنے کی امید انتہائی موہوم ہوتی ہے، انہیں موت کی نیند سلانا چاہتے ہیں۔

ایک سروے کے مطابق بیلجیم میں ایک برس کے دوران 143 بچوں کو ڈاکٹروں نے ناقابل برداشت تکالیف سے نجات دلا دی اور وہ نہایت پرسکون طریقے سے اپنے دکھوں سے نجات پا گئے۔ بیلجیم میں 2002 میں لاعلاج امراض کا شکار ہونے والے مریضوں کو ان کی اور ان کے لواحقین کی اجازت سے انتہائی نرمی کے ساتھ موت کی نیند سلانے کی قانونی طور پر اجازت دی جا چکی ہے۔ تاہم اس قانون کے تحت بچوں کو ’’ہلاک‘‘ نہیں کیا جا سکتا۔

اس سروے کے دوران 121 ڈاکٹر خواتین و حضرات سے سوالات پوچھے گئے جن میں سے 79 فیصد نے بتایا کہ یہ ان کی پیشہ وارانہ ذمہ داری ہے کہ وہ مریض کو غیر ضروری دکھوں اور تکالیف سے نجات دلانے کیلئے اسے آسان موت دیں۔ یہاں یہ بات بھی بے حد اہم ہے کہ ورجن یونیورسٹی آف برسلز نے ایک تحقیق کی تھی جس کے دوران فلینڈرس کے علاقے میں جولائی 2014 میں اس ایک سال کے دوران 12 ماہ کی عمر کے اندر اندر مرجانے والے 292 بچوں کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کئے گئے اور ان کا علاج کرنے والے 175 ڈاکٹروں کو سوالنامے ارسال کئے گئے۔ اس تحقیق کے بعد یہ نتائج سامنے آئے کہ ڈاکٹروں نے ان 76 فیصد بچوں کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا جو لاعلاج قرار پا چکے تھے جبکہ29 فیصد کو موت کی آغوش میں سلانے کا فیصلہ ان کی آئندہ زندگی کا انتہائی پست معیاراور ابنارمل ہونے کے باعث کیا۔ ڈاکٹروں کے خیال میں یہ ان کی اور معاشرہ کی بھلائی کے خیال سے کیا گیا۔

ادھر برطانیہ میں تین چوتھائی اکثریت نے حکومت کی جانب سے ہاؤس آف لارڈز میں بحث کیلئے پیش کئے جانے والے لاعلاج مریضوں کو ’’موت کا حق‘‘ دیئے جانے کی حمایت کی ہے ۔

کچھ عرصہ قبل انتہائی تکلیف دہ اور لاعلاج مریضوں کو ان کی موت کا اختیار دینے کی حمایت میں مہم چلانے والے گروپ ’’ ڈگنٹی ان ڈائنگ ‘‘ کے تحت کئے گئے ایک سروے کے دوران ہر چار میں سے تین افراد نے ’’موت کے حق‘‘ کے بل کو درست قرار دیا اور کہا کہ ایسے لوگوں کو سکون کی موت سے ہمکنار کرنا ایک درست اور رحمدلانہ اقدام ہو گا۔ 76 فیصد نے کہا کہ وہ اس بل کی حمایت کریں گے جبکہ 13 فیصد نے اس بل کی مخالفت کی۔ 11 فیصد نے کہا کہ وہ اس کے بارے میں کوئی رائے نہیں رکھتے۔

سروے کیلئے رائے دینے والوں میں سے 33 فیصد افراد چرچ آف انگلینڈ سے وابستگی رکھنے کا دعویٰ کرتے تھے جبکہ 9فیصد نے اپنا تعلق رومن کیتھولک سے بتایا۔  40 فیصد رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ ان کی کسی مذہب سے وابستگی نہیں۔ یہاں ہم ’’مشرقیوں‘‘ کیلئے ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چرچ میں حاضری اور چندہ دینے والے 35 فیصد افراد نے چرچ جانا اور چندہ دینا چھوڑ دیا ہے اور اس کی وجہ وہ مذہبی گروپوں کی جانب سے لاعلاج مریضوں کو مرنے میں مدد دینے سے متعلق بل کی مخالفت کو قرار دیتے ہیں۔ اندازہ کیجئے بنی نوع انسان کی اصلاح کیلئے مغرب ’’خدا کے کاموں‘‘ میں مداخلت سے بھی باز نہیں آتا اور چرچ کے مولوی کو چندہ دینے سے بھی انکار کر دیتا ہے۔
وضاحتوں کی طلب تھی مگر وہ ٹال گیا
ملال ہے تو یہی رائیگاں سوال گیا