دنیا کو دہشت گردوں سے خطرہ
- منگل 07 / اپریل / 2015
- 4209
نام نہاد اسلامی تنظیم داعش ISIS ، اسکے مقاصد اور دنیا کے امن کو اس تنظیم سے جو خطرہ لاحق ہے، اسے بیان کرنے سے پہلے قرآن کریم کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کی طرف توجہ مبذول کرنا ضروری ہے۔ آجکل ایسی تنظیمیں اسلام کے حسین چہرہ اور معاشرہ کو بدنما بنانے اور اس کو اپنے مطلب و مقصد کے حصول کے لئے استعمال کرنے میں کوشاں ہیں۔
نوع انسانی کے مجوزہ سیاسی نظام سے ہٹ کر ایک ایسا آسمانی نظام بھی ہے جو انسانوں کی ضرورت کے مد نظر رب العالم کی طرف سے قائم کیا جاتا ہے۔ اس طرح خدا تعالیٰ اپنی عطا کردہ روشنی کے ذریعہ فلاح اور کامیابی کے راستہ پر چلنے میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ میری مراد اس نظام سے ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں ان الفاظ میں ملتا ہے : میں نے زمین میں خلیفہ بنانے کا ارادہ کیا ہے‘‘ یعنی نظام خلافت۔
نظام خلافت وہ بابرکت آسمانی نظام قیادت ہے جو اللہ تعالیٰ جماعت مؤمنین کو ان کی روحانی بقا اور ترقی کے لئے عطا فرماتا ہے ۔ اس خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا، جماعت مومنین کے لئے ان کے ایمان کی تصدیق بھی ہے اور امن و امان اور روحانی ترقیات کی ضمانت بھی ۔ حق یہ ہے کہ دین حق کی ترقی اور سر بلندی اس بابرکت نظام خلافت سے وابستہ ہے۔ ہمارے پیارے محسن انسانیت رسول کریمﷺ نے مومنین کی جماعت کے وجود کو جو ایک ہاتھ پر جمع ہونیکی وجہ سے خلیفہ کے وجود کیساتھ لازم و ملزوم قرار دیا ہے۔ اسے ایک بڑی نعمت قرار دیا ہے اور انتہائی اہمیت دی ہے۔ اس جماعت میں انتشار پیدا کرنے والے پر لعنت بھیجی ہے ۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اس جماعت سے کٹتا ہے اور اس کے اندر تفرقہ پیدا کرتا ہے وہ اپنے لئے آگ کا راستہ کھولتا ہے۔ دیکھیں کتنا واضح پیغام قرآن اور سنت رسول میں موجود ہے۔
انتہا پسند تنظیموں کے لئے قرآن کا حکم ہے: (سورۃ الرعد۱۳ آیت نمبر ۲۶) “ اور وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پختگی سے باندھنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اسے قطع کرتے ہیں جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد کرتے پھرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے بد تر گھر ہو گا “۔
قرآن کریم ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جایا کرتے ہیں توایسے لوگوں پر جلاد اور سفاک مقرر کئے جاتے ہیں۔ اس لئے بہت خوف اور خطرے کا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا پر رحم فرمائے اور ایسے ظالم لوگوں کی رسی تنگ کر دے۔
اب میں آپ کو ISIS کے قیام کی وجہ اور اس کے وجود کے متعلق عرض کر دوں۔عراق اور شام میں اسلامی ریاست کے قائم کرنے کے مقصد کو لیکرمشہور ہونے والی نام نہاد اسلامی تنظیم جوداعش کے نام سے مشہور اور جانی جاتی ہے پہلے یہ تنظیم القاعدہ کی برانچ تھی۔ بعد میں انہوں نے اپنی مکمل آزادی اور قیادت کا اعلان کیا۔ اب بھی یہ مختلف اسلامی ممالک میں القاعدہ سے تعاون کرتی ہے ۔ مغربی میڈیا کے ذرائع کے مطابق ایسی فوجی اور علاقائی کامیابیاں حاصل کر رہی ہے، جن سے امریکہ، برطانیہ سمیت سارے مغربی ممالک کو دوبارہ عراق اورشام میں فوجی کارروائی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اس میں سب سے بڑی اہم اور پریشانی کی بات یہ ہے کہ اس کے مظالم کی تمام داستانوں کے باوجود عراق اور شام کی سرحدوں سے نکل کر دوسری دنیا کے ممالک کی عوام اس کے فلسفہ اور نظریات سے متاثر ہو کر اسمیں شامل ہور ہے ہیں ۔ یہ رسوخ برطانیہ، جرمنی، یورپین ممالک، آسٹریلیا اور کینیڈا تک پھیل چکا ہے۔ ان ممالک کے افراد بڑی تعداد میں داعش میں شامل ہورہے ہیں۔ جرمن اینٹیلی جنس کے سربراہ کا بیان ہے کہ550انتہا پسند جرمن باشندے عراق اور شام گئے ہیں۔ ان میں 60افراد کی موت واقع ہو چکی ہے۔ ان میں 9 افراد ایسے ہیں جو خود کش حملو ں میں ملوث تھے ۔ جرمن اور دیگر یورپی ممالک کے حکام کو فکر لاحق ہے کہ شام و عراق سے واپس آنے والے انتہا پسند ان ممالک کی سلامتی کے لئے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ واپس آنے والوں کی تعداد 180کے قریب ہے ۔
برطانیہ نے بھی اپنے ملک کا اندازہ لگاتے ہوئے اتنی ہی تعداد بتائی ہے۔ البتہ مسلم رکن پارلیمنٹ خالد محمود MP نے یہ تعداد 2000بتائی ہے اور کہا ہے کہ حکومتی اندازے درست نہیں ہیں۔ جہادی آزادانہ طور پر آ جا رہے ہیں اور حکومت برطانیہ ان جہادیوں کو روکنے میں ناکام ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ روزانہ 20 برطانوی نوجوان داعش میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں ۔ اس جنگ میں شرکت سے واپس آنے والوں کی تعداد 250ہے ۔ حکومتی سطح پر مختلف اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
آخر وہ کیا واقعات یا حقیقت ہے جن کی بنا یہ سب کچھ ہو رہا ہے ؟ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت نے 2لاکھ بے گناہ شہریوں کا قتل عام کیا اور لاکھوں کو بے گھر کر دیا ۔ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ پھر بھی عالمی برادری کچھ نہ کر سکی ۔ ISISداعش دنیا کے لئے بہت بڑا اور سنجیدہ خطرہ ہے لیکن یہ صرف ایک ہی خطرہ نہیں جو دنیا کو درپیش ہے۔ نائیجیریا میں بوکوجرام، یمن اور جزیرہ نمائے عرب میں القاعدہ ، ملیشیا و لیبیا میں ایسی ہی طرزکی تنظیمیں، مشرقی افریقہ میں الشباب موجود ہیں۔ پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی میں ملوث متعدد عناصر نے برطانوی اداروں سے عسکری تربیت حاصل کی ہے۔ یہ تمام گروہ دنیا کے لئے خطرہ ہیں۔ پاکستان کے صوبہ سندھ اور کراچی میں مشرقی افریقہ کے ممالک کے افراد کی مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنا بھی لمحہٗ فکریہ ہے ۔
پاکستان کی یونیورسٹیوں اور جیلوں میں نفرت انگیز انقلابی پروپیگنڈا فروغ پا رہا ہے۔ سابق گورنر پنجاب سلیمان تاثر کا قاتل ملزم ممتاز قادری جیل میں اس قسم کے جذبات کو ابھار رہا ہے۔ اس جیل میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والا ایک قیدی بھی اس کی نذر ہو چکا ہے۔ MQM کے قائد تحریک الطاف حسین کا یہ کہنا ہے کہ داعش پاکستان میں بالخصوص پنجاب و کراچی میں تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ اس وارننگ کو سنجیدگی سے لینا چاہئے ۔
طالبان پاکستان اور افغانستان اور حقانی نیٹ ورک سمیت تمام شدت پسند تنظیمیں اسلام ہی کے لئے نہیں تمام دنیا کے لئے خطرہ ہیں ۔ یہی بات امریکی حکام نے آرمی چیف راحیل شریف کے دورہ امریکہ کے موقع پر کہی ہے۔ انکے نیٹ ورک کو توڑنے کے لئے مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ داعش سے متاثر ہو کر ہمارے ملک کی کچھ مذہبی و سیاسی تنظیمیں ان کا رنگ و روپ اور طرز عمل اختیار کر چکی ہیں ۔ پاکستانی طالبان کے پانچ اہم لیڈروں نے داعش کے ابوبکر البغدادی کی خلافت قبول کر لی ہے۔ جماعت اسلامی، جماعت الدعوہ، جہادی تنظیمیں اور لال مسجد کے امام اس سے متصل مدرسہ ، جامعہ حفصہ کی طالبات بھی البغدادی کی خلافت کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ عناصر پہلے سے ہی طالبان کی حمایت کرتے تھے۔
لال مسجد کے امام مولانا عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ خلافت، امت مسلمہ کے لئے نیک شگون ہے اور ہم دنیا میں اسکو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر ملک کے اندرونی حالات کو ٹھیک کرنے کے لئے بہت بڑا چیلنج ملک کو در پیش ہے ۔ یہی بات راحیل شریف چیف آف آرمی سٹاف کہہ چکے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ہمارا دشمن ہم جیسا اور ہم ہی میں موجود ہے ۔ یہ غیر ریاستی عناصر پاکستان اور عالمی ریاستوں کے لئے براہ راست خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ کچھ سیاسی عنصر بھی ان میں شامل ہے ۔ بعض سیاسی تنظیموں کے لیڈر کھلم کھلا ان دہشت گردوں کی حمایت کے سا تھ ساتھ ان کی مالی معاونت بھی کرتے ہیں ۔
ہمارے ملک کی مذہبی تنظیموں کو کئی اسلامی ریاستیں فنڈ مہیا کرتی ہیں اور دیگر غیر قانونی ذرائع سے بھی حاصل کردہ رقم ان کو فراہم ہوتی ہے ۔ مثلاََ ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، گاڑیوں کی چوری ، زمینوں پر قبضے، اسلحہ کی خرید و فروخت اور منی لانڈرنگ وغیرہ۔ یہ وہ ذرائع ہیں جن سے ان تنظیموں کی مالی مدد ہو تی ہے ۔ ان تنظیموں کی فنڈنگ کے مختلف ذرائع اور میڈیا کی طرف سے ان کی امداد کے بارے میں آئندہ تحریر کروں گا۔