ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا
- جمعہ 10 / اپریل / 2015
- 5056
سنا ہے کہ موسم بدلنے کے ساتھ ساتھ وبائیں پھوٹتی ہیں اور وبائیں بھی ایسی ہوتی ہیں جو ہماری زندگی کے اتار چڑھاؤ پر اتنا گہرا اثر ڈالتی ہیں کہ وقت ٹھہر سا جاتا ہے اور اگر اس کھڑے وقت میں کسی طرح کی بھی ہل چل ہو تو بدبو کے بھبھوکے اٹھتے ہیں جو جان لیوا ہوتے ہیں ۔۔۔۔
پاکستان بھی انہی وباؤں کا شکار ہوگیا ہے ۔۔۔ 1947 سے لے کر اب تک کے حالات پر اگر نظر ڈالی جائے تو ہمیں کبھی تو سفید کالے بالوں والے ۔۔۔ چھوٹی بڑی داڑھی مونچھ ۔۔۔ پتلون پہنے کلب کی جانب۔۔۔ کچھ ٹخنوں سے اوپر پاجامے کئے مسجد کیطرف دوڑتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ۔۔۔ ان کی ظاہر ی خوبصورتی اور رکھ رکھاؤ پر تو ہمیں کتابوں میں پڑھنے کو کافی کچھ مل جاتاہے ۔۔۔ باطنی خوبصورتی کا ذکر کرتے ہوئے ہمارے پاس مواد ذرا کم ہی ہے۔ کیونکہ بہت کم لوگ ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لئے کچھ کر گئے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہم یوں بھی کہ سکتے ہیں کہ تاریخ میں سنہری لفظوں سے لکھے گئے پیراگراف کی کمی سی رہ گئی ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مختصر سی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو 1947 سے لے کر 1948 تک پاکستان کو بڑی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 1948ء میں جناح صاحب کی اچانک وفات ہوئی تو حکومت لیاقت علی خان کو سونپی گئی۔ 1951 میں لیاقت علی خان کو شہید کر دیا گیا۔ 1951ء سے 1958ء تک کئی حکومتیں آئیں اور ختم ۔۔۔ پھر مارشل لاء لگ گیا ۔۔۔ جنرل ایوب کے بعد جنرل یحییٰ خان آئے ۔
1972 سے لے کر 1977 تک پاکستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت رہی ۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے صدر اور بعد ازاں وزیر اعظم رہے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے 1977 میں دوبارہ مارشل لاء ۔ اور پھر 4 اپریل 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو جیسی عہد ساز شخصیت کو پھانسی دے دی گئی ۔ 1977سے 1988تک ایک بار پھر مارشل لاء کا دور ر ہا ۔۔۔ جنرل ضیا الحق 1988ء میں ایک طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ چلیں جی ایک بار پھر پاکستان میں جمہوریت پنپنے لگی ۔۔ آبیاری تو کی گئی مگر جانے ماشل لاء کی گھٹن تھی یا پاکستان کا طرز سیاست کہ ہر طرف کرپشن ہی کرپشن ۔۔ کسی کا انداز دلبرانہ تو کسی کا انداز جداگانہ۔
جمہوریت کی لولی لنگڑی اور زخمی حالت کے ہوتے ہوئے بھی پیپلزپارٹی اورن لیگ اپنے اپنے رنگ ڈھنگ کے ساتھ دولت کے انبار اکٹھے کرنے میں لگی رہیں اور یوں 1988 سے 1999 تک کا سفر ایک بار پھر رک گیا۔ 1999 میں جنرل پرویز مشرف صدر کی کرسی پر براجمان ہوئے۔ فروری 2008 میں پھر الیکشن ہوئے اور پیپلزپارٹی ایک بار پھر روٹی کپڑا اور مکان کا مقبول نعرہ لگا کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ۔
صدر زرداری کی حکومت نے کرپشن کے اعلی معیار قائم کرتے ہوئے پانچ سال مکمل کئے۔ مئی 2013 میں نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم بن گئے۔ ن لیگ ایک بار پھر اپنی زندگی کےسنہری دور سے گزار رہی ہے۔
حکومتوں کے آنے جانے میں چار جنرل نمایاں رہے جو ملک کے اندر اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق کچھ نہ کچھ تو کر ہی گئے۔ مگران سب پر آئین توڑ کر حکومتیں بنانے کا الزام برقرار ہے۔ جمہوریت کا شور کرنے والے جب اپنی جمہوریت لے کر آئے تو عوام کی روٹی کم ، کپڑا تنگ اور مکان بکنے لگے۔ ملک کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرنے کے دعوے کرنے والی جماعتیں اپنی زندگی کے معیار بلند کرتی رہیں۔ پارٹیوں سے ناف تک محبت کرنے والی عوام بے یارو مددگار سڑکوں پر لائن بنا کر کبھی تو چینی وصول کرتی رہی اور کبھی آٹا ۔۔۔
اور ایوانوں میں میٹنگز کے نام پر دعوتیں ۔۔ دوروں کے نام پر عیاشیاں جاری رہیں۔۔۔ ۔۔۔ کبھی سرے محل بنا تو کھبی کاروبار پنپتے رہے ۔۔۔ عوام کا درد غم کس نے سنا ؟؟ اور تو اور بوری سینے والے لوگ حکومت میں بیٹھ کر عوام کو منہ چڑھاتے رہے۔ ملک کے اندر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مترادف ہوا چل پڑی۔ قتل و غارت ، خون خرابہ ، بھتہ خوری ، ہوس کے پجاری بہو بیٹیوں کی عزتیں نیلام کرنے لگے۔ بچے بھی ہوس کے ہاتھوں نیلام ہوئے۔ طالبان نام نہاد اسلام کی جنگ لڑتے ہوئے گردنیں کاٹنے لگے۔ اور وہ لوگ جو فیصلہ کرنے پر قادر تھے وہ کسی پیشہ ور عورت کی طرح اپنا فائدہ اٹھانے میں جٹے رہے۔ ہمارے جو دوست عوام کے اندر یہ شعور پیدا کر سکتے تھے کہ بھی اس مقصد میں ناکام رہے۔ لکھاری اپنے نام کو دولت سے تولنے لگے۔
وقت تو بہرحال گزر رہا ہے مگر ہم اپنے آنے والی نسلوں کو تعفن زدہ حالات دے کر جائیں گے۔ کیا کوئی ماں ایسا لعل پیدا نہیں کرپائی جوڈگڈگی بجانے والوں کی بینڈ بجا دے ؟ کیا اتنے سارے اکڑی گردن والے بڑے بڑے بتوں میں سے کوئی بھی ایسا انسان نہیں جو بوری سینے والوں کے منہ پرطمانچہ مار سکے؟ کیا آنے والے وقتوں میں بھی کو ئی علامہ اقبال ، ممتاز مفتی ، قدرت اللہ شہاب ، منٹو ، اشفاق احمد ، بانو قدسیہ ، جون ایلیا ، مستنصر حسین تارڑ ، پروین شاکر ، منیر نیازی ، محسن نقوی کو جانتا ہوگا ؟
سب سے اہم سوال جو ہمیں اپنے آپ سے کرنا ہے کہ کیا ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں ؟ کیا ہم اس ملک کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں ؟ گزرتے لمحوں کی تیزی کو کم تو نہیں کیا جاسکتا مگر ہمیں ہنگامی بنیادوں پر کچھ تو کرنا ہوگا۔ کیونکہ اگر اب بھی ہم نے کبوتر کی طرح انکھیں بند کرکے ملکی مسائل کے حل کے لئے کسی فرشتے کا انتظار کیا تو تاریخ ہمیں صولت مرزا اور عزیر بلوچ جیسے انسان نما حیوانوں کے نام سے ہی پہچانے گی۔