سعودی ایران پراکسی وار کے خطرات
- اتوار 12 / اپریل / 2015
- 4501
دنیا کے ایک امیر ترین ملک نے دنیا کے غریب ترین ہمسایہ ملک کی خودمختاری کی دھجیاں بکھیرکر اس پر فضائی حملوں کی بھرمارکردی ہے۔ مسلم سعودی عرب نے فضائی جارحیت سے مسلم یمن کے سینکڑوں مسلمانوں کو ہلاک کردیا ہےاور یہ سلسلہ ابھی تک نیہں تھما نہیں ہے۔
عرب لیگ کے ممالک آج تک اسرائیل کے خلاف کوئی مشترکہ قدم نہیں اٹھا سکے مگر سعودی جارحیت کا ساتھ دینے کے لئے مشترکہ فوج بنانے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ امریکہ نے سعودی جارحیت کے مقاصد کو کامیابی تک پہنچانے کےلئے اسلحہ کی فراہمی میں تیزی کر دی ہے اوراسرائیل بھی کھل کر سعودی حملہ آوروں کا ساتھ دے رہا ہے۔ عالمی طاقتوں، یواین او اور او ائی سی نے سعودی جارحیت پرآنکھیں بند اور یمن کی خودمختاری کی پامالی اور یمنی عوام کے قتل عام پرمجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
حیران کن بات یہ کہ بیشتر مسلم ممالک بشمول پاکستان سعودی جارحیت کی مذمت کرنے، فضائی حملے رکوانے، یمنی عوام کا قتل عام بند کرنے کا مطالبہ کرنے کی بجائے سعودی جارحیت کی حمایت میں رطب لالسان ہیں ۔ یمن کے مختلف قبائل اورگروہوں کو گفتگو کے میز پرلا کرانکے درمیان جاری سیاسی کشمکش کا حل ڈھونڈنے کے بجائے ایران کے خطرے کا بہانہ بنا کر آگ و خون کے اس گھناونے کھیل میں پاکستان اور ترکی کو شامل کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ خاص طور سے پاکستان کو یمن پرمسلط کردہ ناجائزاور یکطرفہ جنگ میں شامل کرنے کے لئے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
مستند خبروں کے مطابق حوتیوں پر سعودی فضائی حملوں کا زیادہ تر شکارعام شہری ہیں۔ سینکڑوں ہلاکتوں، ہزاروں زخمیوں کے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں شہری بے گھر ہو چکے ہیں یا نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ فضائی حملوں کے متاثرین کو طبی امداد، خوراک اور زندگی کی بنیادی ضروریات بھی نہیں پہنچ رہیں۔ اس جارحیت سے قبل وہابی توسیع پسند سعودی آمرخاندان بحرین میں جمہوری تحریک کو بزور طاقت کچل چکا ہے جس میں سینکڑوں نہتے عوام کا خون بہایا گیا۔
شدت پسند وہابی نظریات پھیلانے کے جنون اور علاقائی بالا دستی قائم کرنے کیلئے، جس میں مشرق وسطی میں امریکی مفادات کی پاسداری بھی شامل ہے، سعودی حکمرانوں کی گلف ریاستوں، الجزائیر، عراق، لیبیا، مصر، شام، پاکستان، افغانستان اور دیگر مسلم ممالک کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت نہ صرف تاریخ کا حصہ ہے بلکہ یہ مداخلت کسی نہ کسی صورت مسلسل جاری ہے۔ آٹھ سالہ طویل ایران عراق جنگ بھی سعودی عرب کی علاقائی بالادستی حاصل کرنے، خطے میں ایران کے اثرات کومحدود کرنےاور امریکی مفادات کا تحفظ کرنے کی پالیسی کا حصہ تھی۔
پاکستان اورافغانستان میں القاعدہ اورطالبان جیسی دہشت گرد تنظیموں کا ابھرنا سعودی سرمائے، امریکی پشت پناہی اور وہابی نظریات کا مرہون منت ہے۔ پاکستان میں شدت پسند وہابی نظریات کے زیراثرکئی انتہا مذہبی فرقہ پرست تنظیمیں قانونی یا غیر قانونی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ملک بھر میں ان نظریات کے حامل ہزاروں مدرسوں کا جال بچھا ہؤا ہے۔ اس طرز کے مذہبی گروہ اور مدرسے ملک میں نہ صرف فرقہ پرستی، مذہبی منافرت، عدم برداشت، اورمذہبی اقلیتوں سے نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں بلکہ مختلف فرقوں اورمذہبی اقلیتوں کا خون بہانا انکے مقدس مشن کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ شام اورعراق میں داعش جیسے مسلح دہشت گرد مذہبی گروہ کا ابھرنا بھی شدت پسند وہابی توسیع پسندانہ پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔
ایران باوجود مغربی ممالک کی اقتصادی پابندیوں کے مشرق وسطی میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے میں کامیاب رہا ہے۔ عراق اور شام کے بعد ایران کے اثرات یمن تک پہنچ چکے ہیں۔ لبنان میں حزب اللہ اور فلسطین میں حماس کو ایران کی حامی تنظیمیں تصور کیا جا تا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان، افغانستان اور کئی مسلم ممالک میں شیعہ مسلک سے متعلق وسیع آبادی ایران سے ہمدردی رکھتی ہے۔ عرصہ سے ایران پر مسلط شیعہ پیشواؤں نے بھی مشرق وسطی اور اپنے ہمسایہ ممالک میں مذہبی اور سیاسی رسوخ کو بڑھانے میں کوئی کثر نیہں اٹھا رکھی۔
عالمی طاقتوں سے ایٹمی ایشو پر مفاہمت کے بعد ایرانی پیشوایئت کا دائرہ اثر مزید وسیع ہونے کے امکانات پیدا ہو ں گے۔ سعودی حکمران علاقائی بالادستی قائم رکھنے کے عزائم کی راہ میں ایران کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ اس لئے یمن پر سعودی حملے کو دیگر عوامل کے علاوہ خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کو محدود رکھنے کی پیش بندی سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب اورایران کے مابین علاقائی بالادستی، توسیع پسندی اور علاقائی طاقت بننے کے لئے محاز آرائی کوئی نئی بات نہیں۔ اس کشمکش کی اقتصادی، سیاسی، تاریخی، تہذیبی اورمذہبی وجوہات اپنی جگہ موجود ہیں۔ سیاسی بالادستی اور نام نہاد قومی مفادات کی کشمکش کو شیعہ سنی لڑائی سے تعبیر کرنا اس تنازعہ کی سیاسی، معاشی، تہذیبی اور تاریخی حقیقتوں سے سراسر آنکھیں بند کرنا ہوگا۔ اس تنازعہ میں اسلام کی سربلندی، مسلم ممالک کی ترقی یا عوام کی خوشحالی کا کوئی عنصر دور دور تک دیکھائی نہیں دیتا۔ مگرمذہبی بنیاد پرست اور فرقہ پرست ان دونوں ریاستوں کے درمیان محاذ آرائی کا خطرناک پہلو مشرق وسطی، افغانستان، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں فرقہ پرستانہ قتل و غارت، شدت پسندی اور دہشت گردی کی ایک نئی لہر پیدا ہونے کا امکان ہے۔
اس وقت مشرق وسطی کے بیشتر ممالک شدت پسند وہابی سعودیہ اور ایرانی شعیہ پیشوائیت کی پراکسی جنگ کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ شدت پسند اور دہشت گرد مذہبی تنظیموں کی سرگرمیوں اور قتل و غارت گری کی وجہ مشرق وسطی کے ممالک میں جمہوری تحریکیں پسپائی اختیار کر چکی ہیں۔ مسلح طاقت کے بل بوتے پر سیاسی اقتدار پر قبضہ کرنا اور بندوق کے زور پر من پسند مذہبی نظریات اور آمرانہ سیاسی نظام ملسط کرنا مقدس مذہبی فریضہ سمجھا جا رہا ہے ۔
مشرق وسطی سیاسی انتشاراورعدم استحکام کا شکار ہو چکا ہے۔ مذہبی دہشت گردی اور فرقہ پرستی، سماجی و تہذیبی پسماندگی، آمریت اور خاندانی بادشاہتیں مشرق وسطی کا طرہ امتیاز ہیں جبکہ امریکی سامراج کی غلامی اختیار کرنا حکمرانوں کے ایمان کا حصہ بن چکا ہے۔ عوام کی نمایئندہ جمہوری حکومت، جمہوری اور انسانی حقوق مشرق وسطی کے چھوٹے بڑے سبھی ممالک میں دیوانے کا خواب معلوم ہوتا ہے۔ سعودی ایران پراکسی وار میں عوامی حاکمیت، جمہوریت اور انسانی حقوق کی آوازیں دب چکی ہیں۔
یہ کیا خوب ہے کہ علاقائی بالادستی کے لئے ایک دوسرے سے دست و گریبان سعودی وہابی حکمرانوں اور ایران کے شیعہ پیشوا حکمرانوں میں ایک قدرمشترک ہے یعنی عوامی حاکمیت اور جمہوری نظام کی نفی ، بنیادی انسانی جمہوری حقوق خصوصاٌ عورتوں کے حقوق کی پامالی۔
پاکستان میں سعودیہ کے بڑھتے ہوئے معاشی، سیاسی، تہذیبی اورمذہبی اثرونفوذ، وہابی نظریات کے زیراثر شدت پسند تنظیموں اور مدرسوں کا پھیلاؤ، مسلح دہشت گردی اور پاکستانی حکمرانوں کی مصلحت کوش اور موقعہ پرستانہ پالیسوں نے ملک کو خطرناک صورت حال سے دوچار کر رکھا ہے۔ دوسری طرف شیعہ مسلک کے حامیوں میں ایران سے ہمدردی اور شیعہ نتظیموں کی جانب سے ایران کی پالیسوں کی حمایت، سعودی حکمرانوں کو ایک آنکھ نیہں بھاتی۔ پاکستان میں شیعہ راہنماؤں کے ٹارگٹ قتل، بلوچستان میں ہزارہ شیعہ کے قتل عام کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کا آئے روز قتل، پاکستان میں سعودی ایران پراکسی وار ہی کا تسلسل کہا جاسکتا ہے۔
پاکستانی پارلیمنٹ کی اس جنگ میں غیر جانبدار رہنے کی قراداد پر متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئےکہا ہے کہ پاکستان کو ھماری جنگ میں شامل نہ ہونے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ آج تک پاکستان کو ایسی کھلی دھمکی کسی دشمن ملک نے بھی نہیں دی، جیسی ایک دوست مسلم ممالک کے وزیر خارجہ دے رہے ہیں۔ مشرق وسطی کے آمرحکمرانوں کے نزدیک پاکستانی عوام یا عوام کی منتخب پارلیمنٹ کا فیصلہ کوئی اہمیت نیہں رکھتا۔ پاکستان میں مذہبی تیظیموں اورمذہبی سیاسی جماعتوں جن میں جماعت اسلامی، جے یوآئی، جماعت اہل حدیث، جماعت دعوہ کے علاوہ سنی، دیوبندی اور اہل حدیث مسالک کی دیگر جماعتیں شامل ہیں، نے پارلیمنٹ کی قراداد کو مسترد کر دیا ہے۔ ان جماعتوں نے آج ایک ہنگامی کنوینشن میں سعودی عرب کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے حکومت سے سعودی عرب اتحاد اور جنگ میں عملاٌ شامل ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بات اب قرین قیاس ہے کہ پاکستانی حکمران سعودی اتحاد کا مزید دباؤ شاید برداشت نہ کر سکیں اور سعودیہ جارح اتحاد میں شامل ہونے کے حیلے بہانے تراشنے لگیں۔ معاشی مشکلات میں گھرا ملک، مشرق وسطی میں لاکھوں پاکستانی محنت کشوں کے روزگاراورملک کے سالانہ اربوں ڈالروں سے محرومی جیسے خطرات سے دوچار ہونے کے خدشات کی وجہ سے پاکستانی حکومت اور ریاست زیادہ عرصہ اس دباؤ کو برداشت کرتی نظر نیہں آتی۔
یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان کا سعودی جارحیت کا عملی حصہ بننے سے ملک کو نئے خطروں سے دوچار ہونا پڑے گا۔ فرقہ پرستی میں شدت آئے گی، فرقہ وارانہ قتل وغارتگری میں اضافہ ہونے کا قوی امکان ہے۔ ملک پہلے ہی دہشتگردی، مذہبی انتہا پسندی، لا قانونیت، بد امنی اور اقتصادی بحرانوں کی زد میں ہے۔ سول، جمہوری ادارے اور حکمران بحرانوں پر قابوں پانے میں ناکامی کے بعد فوجی اسٹیبلشمنٹ کے آگے اختیارات سرنڈر کرتے نظرآ رہے ہیں۔
عوام کی نظرمیں جمہوریت، جمہوری ادارے اورحکمران افادیت کھوتے جارہے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظراس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ مشرق وسطی کی جنگ میں شرکت سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ملکی معاملات میں گرفت مذید مضبوط ہوجائے گی۔ موجودہ حالات کی سمت سے محسوس کیا جا سکتا ہے کہ پاکستانی جمہوریت اور جمہوری اداروں کو آنے والے وقت میں نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔