خواجہ سراؤں کے حقوق
- سوموار 13 / اپریل / 2015
- 5504
اسلام آباد کے مشہور آبپارہ چوک کے قریب پہنچتے ہی معلوم ہؤا کہ راستہ بند ہے۔ تھوڑا آگے جا کر معلوم ہؤا کہ ایک بہت بڑا ہجوم ہے جسمیں لوگ کچھ بول رہے تھے ۔ دل ڈر سا گیا کہ شاید کوئی حادثہ نہ ہو گیا ہو لیکن کوئی ایمبولنس بھی نہیں تھی اور نہ میڈیا کی کوئی گاڑی نظر آرہی تھی۔ دل میں آیا کہ قریب جا کر دیکھا جائے۔
قریب پہنچی تو شناسا سا منظر دیکھا کہ دو خواجہ سرا چہرے پر عجیب قسم کا میک اپ سجائے ایک مجمعے کے درمیان اوچھی حرکتوں میں مشغول ہیں اور وہاں موجود ہر عمر کے مرد ان کی جگتوں پر لقمے دے رہے تھے۔ مقابلہ زور و شور سے جاری تھا۔عجیب سا ماحول تھا جسکو دیکھ کہ یکدم میرے سامنے میرا بچپن آکر کھڑا ہو گیا۔ اس وقت بھی گلی محلوں میں جب بھی ڈھول بجتے تھے توخواجہ سرا آیا کرتے تھے۔ کسی کی شادی ہے تو کوئی بیٹے کا باپ بن گیا ، عزت دار گھروں کے اندر ایک شام سجائی جاتی تھی جس کو عرف عام میں جاگا کہا جاتا تھا ۔ جس میں گانے ڈھول دھمالیں ہوتیں اور پھر خواجہ سرا بھی آجاتے۔
جس گھر میں خوشی کے موقعے پر خواجہ سرا آتے تو ان شریف گھروں کے مرد عورتیں ان کے ارد گرد کھڑے ہوکر ان کا ڈانس دیکھتے اور کچھ پیسے نچھاور کرتے اور ہاں شادی کے گھر میں بیٹے کی ماں اور بہنیں بہت وقار کے ساتھ ان پر پیسے نچھاور کرتیں، جس کو ویل کہا جاتا تھا۔ بیٹے کی پیدائش پر باپ خوب اہمیت حاصل کرتا۔ ان خوشیوں کے دوران خواجہ سرا نئے اور مشہور گانوں پر دل کھول کر ناچتے۔ نوجوان اپنے ماں باپ اور بہنوں کے سامنے ان کے ساتھ اوچھا مذاق کرتے ہوئے ان کو کہنی مارتے یا دوپٹہ کھینچتے۔ اس پر خواجہ سرا اپنا رنگ دکھاتے، جگتیں مارتے اور محفل کو چار چاند لگا دیتے۔
ایسی محفل میں خواتین کی وجہ سے بوس و کنار کے اشارے نہیں ہوتے تھے۔ یہ سب مردانہ محفلوں میں ہؤا کرتا تھا۔ اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی حالات تبدیل نہیں ہوئے۔ البتہ ہم ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ بات اشارے بازی سے بڑھ کر خواجہ سراؤں کو اغوا کرنے اور اجتماعی زیادتی تک پہنچ چکی ہے۔ ایک دن ایسی خبر چلتی ہے تو دوسرے دن کوئی یاد بھی نہیں کرتا کہ کسی خواجہ سرا کی عزت لوٹی گئی ہے ۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اسلامی معاشرے کے اندر عزت کے معیار قائم کرنے والے شرفاء اپنی بہن بیٹیوں کی عزتوں کے بارے میں پیمانے مرتب کرتے وقت ایک منٹ سے بھی کم وقت لگاتے ہیں ۔ توخواجہ سراؤں کی عزت کے بارے میں کوئی کیوں نہیں سوچتا ؟ کیا یہ کسی کی اولاد نہیں ؟ والدین ان کو کیوں گھروں سے نکال دیتے ہیں ۔ ان کو اپنوں سے ملنے اور ان کے جنازوں میں جانے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی اور ان کے والدین کس وجہ سے ایسا کرنے پر مجبور ہیں ؟
حکومتی سطح پر کسی طرح کا اقدام نہیں کیا گیا لیکن دو ہزار گیارہ کے اوائل میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نادرا کے ریکارڈ میں تو خواجہ سرا میل یا شی میل بن گئے۔ مگرجنس کی حیثیت سے عزت کا معیار صرف کاغذوں تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ۔ جنس کے مطابق چاہے وہ ریما بن جائیں یا پھر امیتابھ بچن پھر بھی ان کی کوئی حیثیت نہیں ۔ ان کا تمسخر اڑانا ہماری عادت اور ان کا مقدر بن چکا ہے۔
پاکستان میں فلاحی کام کا کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ادارے ان کے حقوق کے لئے آواز ا تک نہیں اٹھاتے۔ ملک کی سب سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھنے والے پارلیمنٹیرین بھی ان کے فلاح و بہبود کے حوالے سے کوئی قدم اٹھانے میں پہل نہیں کرتے۔ دوسری طرف مسجدوں میں بیٹھے ملّا کی اپنی ہی دنیا ہے، جس میں ہر گناہ کی سزائیں موجود ہیں۔ مگر خواجہ سرا کا ذکر بھی شاید گناہ کبیرہ ہے۔ کیا اللہ تعالی نے اس مخلوق کے لئے کوئی حکم نہیں دیا ؟ کیا ان کی زندگی کا گھیرا تنگ کرنے والوں کو بھی آگ میں پھینکا جائے گا ؟ کیا قیامت کے دن خواجہ سراؤں کے دکھ کا مداوا ہوسکے گا ؟ کیا صبر کا پھل ان کو بھی ملے گا ؟ اس طرح کے بہت سے سوالات ہیں جن کے لئے ہمیں کچھ ریسرچ کرلینی چاہئے یا کسی صاحب علم سے رابطہ ہی کرلیا جائے۔
ہمیں اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔ ورنہ طےشدہ عزتوں کا یہ معیار ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔ اگلی نسلیں بھی گلی کی نکڑ ، بیٹے کی پیدائیش یا پھر شادی کے منڈپ پر ایسے ہی مجمعے لگا کر ان کے ساتھ چھڑ چھاڑ اورجگتیں کرنے میں وقت ضائع کرتے رہیں گی۔ بطور قوم ہمیں خواجہ سرا المعروف ہیجڑے کی عزت کرنا سیکھنا چاہئیے۔ ورنہ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔ خواجہ سرا کسی کے بھی گھر پیدا ہوسکتا ہے۔