سنسکرت خوان پگڑیوں کی تلاش
- سوموار 13 / اپریل / 2015
- 5140
کرائے کے دانش وروں ، لفافہ صحافیوں اور پالتو اینکروں پر تین حرف !
میڈیا کا گٹر مسلسل اُبل رہا ہے اور عام مسلمان کے ذہن کو جو دو وقت کی روٹی اور بیوی بچوں کی کفالت کی جنگ لڑ رہا ہے ، لا یعنی تاویلات سے ذہنی اور فکری عذاب میں مبتلا کئے ہوئے ہے ۔
مُسلمان کے ایمان کا قلعہ چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرا ہؤا ہے اور اسلام کی وحدت پر فرقہ پرستی کے ہتھوڑے مسلسل برسائے جا رہے ہیں ۔ اسلام کی ملی وحدت کے خلاف صف آرا ء فوجوں کی تعداد کا کوئی شمار ہی نہیں ۔ صرف پاکستان کے مذہبی جنود ، جیشوں ، لشکروں اور جتھوں کو گننے لگو تو گنتی کے اعداد عاجز آ جاتے ہیں، مگر لشکروں کی تعداد ختم نہیں ہوتی ۔ پاکستان سے باہر نکلو تو متعدد مسلمان ملکوں میں خانہ جنگی جاری ہے ۔ داعش ، اخوان المسلمون ، بوکو حرام سے لے کر شباب ملی تک دوزخ کی ایک آگ ہے جو مسلمانوں کی بستیوں کو پھونکتی چلی جا رہی ہے ۔ یہ حطمہ ہے ۔ خُدا کی بھڑکائی ہوئی آگ ۔:
کھل گئے اعمالنامے حشر کے بازار میں
پک گئیں ایک ایک کی خاطر سزا کی روٹیاں
آخر اِس انتشار ، نفاق اور تفرقے کا ذمہ دار کون ہے ؟
میرا جواب ہے : حکمران نواز علماء اور اُن کا مدون اور رائج کیا ہؤا فرقہ پرست کلچر ۔
فرقہ اصل میں عربوں کے قبائلی طرزِ زیست کے مطابق ایک مذہبی نظامِ قبائل ہے جو فرقہ کہلاتا ہے۔ مگر اصل میں قبائلی معاشرت کا متبادل ہے ۔ میری صوابدید کے مطابق اِن بہتر قبیلوں کا وجود قدیم قبائلی طرزِ زیست کا ماحصل ہے جس کی ایک صورت ہمارے پنجاب کے دہقانی کلچر میں برادری سسٹم کی صورت میں نظر آتی ہے ۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کے نظامِ مساوات کو نہ سیکھا ہے اور نہ ہی اپنایا ہے ۔
محمود و ایاز صرف اقبال کی شاعری میں ہی ایک صف میں کھڑے نظر آتے ہیں ۔ بانگِ درا کی شعری ترتیب سے باہر محمود ایک عرب شیخ ہے اور ایاز بے چارہ مسکین پاکستانی ۔
اب آئیے ، یمن اور سعودی عرب کے تنازعے کی طرف جس میں پاکستان بےچارہ اس طرح سینڈوچ بنا ہے جیسے ہاتھیوں کی لڑائی میں مینڈک کی شامت آ جاتی ہے کہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن ۔ قدیم تاریخ اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے ۔ ابرہہ کے ہاتھیوں کا ہدف اب کے کعبہ تو نہیں مگر سعود ی ملوک کے محلات ضرور ہیں ۔ طاقت اور اقتدار کی اس لڑائی میں مذہب کو بلا وجہ ملوث کیا جا رہا ہے ۔ مذہب نے تو مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف لڑنے سے منع کیا ہے ، مگر یہ کیسے مسلمان ہیں کہ اسلام کی بھی نہیں مانتے؟
اسلام گویا اُن کے لیے موم کی ناک ہے کہ اُسے جس طرح چاہیں موڑ لیں یا اُس کو مسخ کر دیں ۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ فقہ کے چاروں سکول جو شافعی ، مالک ، حنبل اور ابو حنیفہ سے منسوب ہیں ، ایک دوسرے کی جان کو آئے ہوئے ہیں اور اسی پر بس نہیں بلکہ پانچویں فقہی سکول کو جسے جعفری فقہ سے موسوم کیا گیا ہے ، دیوار سے لگا رکھا ہے ۔
کتنی عجیب بات ہے کہ یہ پانچوں سکول اُمّتِ مسلمہ کی وحدت کے خلاف گھناؤنی اور مکروہ سازش بن گئے ہیں ، مگر کسی متبرک داڑھی کے بالوں میں جوں تک نہیں رینگتی ۔ اِن لوگوں کی ہیئتِ کذائی ، ان کے جُبے ، ان کی دستاریں اور داڑھیاں ہی ان کا کل اثاثہ ہیں ، جن میں دین کی رمق اتنی سی ہے کہ وہ داڑھی کو ایک شرعی حکم خیال کرتے ہیں ۔ یہ لوگ اسلام کے دعویدار ضرور ہیں لیکن یہ لوگ اسلام کے ملی وحدت کے پیغام کو نہ تو سمجھ پائے ہیں اور نہ ہی اس کے تحت عالمِ اسلام کی وحدت ، یگانگت اور اخوت کو رائج کر سکے ہیں ۔ ان لوگوں کے لیے اسلام کا الوہی اور مخفی پیغام اُس خط کی طرح ہے جو سنسکرت میں لکھا ہؤا میرے ممدوح مُلّا نصرالدین کے پاس لایا گیا تھا ۔
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ملا نصرالدین اپنے حجرہ ء عالیہ میں تشریف فرما تھے کہ ایک عامی حاضرِ خدمت ہوا اور بولا “ یا حضرت ! مجھے ہندوستان سے یک خط آیا ہے ، اسے پڑھ دیجیے “ ۔
ملا نے خط کو کھولا اُلٹ پلٹ کر دیکھا اور کہا : “ یہ سنسکرت میں ہے ، میں تو نہیں پڑھ سکتا “ ۔
اس پر خط پڑھوانے کے لیے آیا ہؤا شخص بولا: “ یا حضرت ! آپ نے ا تنا بڑا پگڑ باندھ رکھا ہے اور سنسکرت نہیں آتی ؟ “
اس پر مُلا نصرالدین نے پگڑی اُتار کے اُس کے سر پر رکھی اور بولے: “ لے میاں خود پڑھ لے “۔
اور آج کے علما ء کلچر کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ خُدا کی سنسکرت اپنی پگڑیوں سے نہیں پڑھ پا رہے ، اسی لئے ہم اس انتشار کا شکار ہیں ۔
آخر میں اقبال کا تبرک :
قبائل ہوں ملت کی وحدت میں گم ۔ ہو نام افغانیوں کا بلند