متعصبانہ برطانوی حکمت عملی
- منگل 14 / اپریل / 2015
- 4203
گریٹ برٹن کی ’’گریٹ نیس‘‘ کے ان دنوں یورپ میں بہت چرچے ہیں۔ یورپین اخبارات اپنے اداریوں اور تجزیوں میں برطانیہ کے اسکولوں میں داخلے کیلئے درخواست دینے والے کم عمر بیرونی طلبا سے جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے، اس کے خلاف خوب تنقید کی جا رہی ہے۔ طلبا سے جن کی عمریں صرف پانچ سال ہیں نئے ویزا قوانین کے تحت پوچھا جا رہا ہے کہ آیا وہ دہشت گرد ہیں؟ جس پر نہ صرف عام لوگوں میں برہمی کی لہر پیدا ہو گئی ہے بلکہ سمندر پار کے ہزاروں طلبا کے برطانیہ کی طرف رخ نہ کرنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔
لندن میں دفتر خارجہ کے مطابق اسکولوں میں داخلہ کی درخواست دینے والے طلبا سے سوال کیا جا رہا ہے کہ آیا وہ دہشت گرد ہیں یا پھر ’’جنگی جرائم یا نسل کشی‘‘ میں ملوث رہے ہیں۔ ہالینڈ کے ایک جریدے نے لکھا ہے کہ طلبا کو 57 صفحات پر مشتمل دستاویز دی گئی ہے جس میں سوالوں کے جوابات کیلئے خانہ پوری کی ہدایت دی جا رہی ہے کہ ہر سوال کا واضح طور پر جواب دیا جائے۔ جس میں بعض عجیب و غریب سوالات کئے جا رہے ہیں۔ طلبا سے یہ پوچھا جا رہا ہے کہ آیا وہ کبھی کسی ملک میں دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں؟ یا ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ آیا درخواست گزار نے کبھی کسی بھی طریقے یا ذریعہ سے ایسے خیالات کا اظہار کیا ہے جن میں تشدد کو برحق یا دہشت گردی کو منصفانہ قرار دیا ہو؟ یا پھر دہشت گردی یا سنگین جنگی جرائم کیلئے دوسروں کی کوئی مدد، رابطہ یا حوصلہ افزائی کی ہو۔ برطانیہ کے ماہرین تعلیم نے حکومت کو خبردار کیاہے کہ ان قوانین کی وجہ سے برطانیہ میں زیر تعلیم لگ بھگ 30ہزار بیرونی طلبا اس ملک کو چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔ باور کیا گیا ہے کہ بعض طلبا کی درخواستوں کو پہلے ہی مسترد کر دیا گیا ہے۔ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے قائدین کا کہنا ہے کہ ان قواعد کی وجہ سے حصول تعلیم کیلئے برطانوی مقبولیت کو دھچکا لگے گا اور اسکولوں کی آمدنی میں زبردست کمی واقع ہو جائے گی۔
ایک ڈچ ماہر تعلیم نے کہا کہ ویزا فارم ترتیب دیتے وقت عقل و فہم سے کام نہیں لیا گیا اس نے کہا ہے کہ ویزا درخواستوں کیلئے سختی یقیناًاہم ہے مگر معصوم بچوں سے یہ پوچھنا کہ آیا وہ دہشت گرد ہیں ایک احمقانہ فعل ہے۔ ایسے سوالات سے ان کی ذہنی نشوونما پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
ادھر جرمن اخبارات نے برطانیہ میں بچوں کے ویزا قواعد اور درخواستوں میں دیئے گئے احمقانہ سوالات پر تنقید کے ساتھ یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ طالبان خودکش حملوں کیلئے کمسن بچوں کو خرید رہے ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ سیلاب میں گمشدہ بچوں کی ایک کھیپ تیار ہو رہی ہے جن میں اغوا شدہ اور خریدے گئے بچے بھی شامل ہیں۔ فی بچہ سات سے دس ہزار ڈالر میں خریدا جاتا ہے۔ اخبار نے پاکستانی اور امریکی حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ اکثر بچوں کی برین واشنگ کر کے خودکش حملوں کیلئے تیار کیا جاتا ہے اور اس کام کیلئے طالبان کے ایجنٹ جن میں عوتیں بھی شامل ہیں سیلاب زدہ علاقوں میں سرگرم ہیں۔
ویزا درخواستوں کا ذکر کرتے ہوئے اخبار لکھتاہے کہ پاکستان میں موجود برطانوی سفارتخانے کے امیگریشن حکام کے پاس ہر ویزا درخواست کو چیک کرنے کیلئے صرف گیارہ منٹ کا وقت ہوتا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس سے لاگو کی گئی نئی پالیسی کے تحت امیگریشن حکام ویزا درخواستوں کے ساتھ منسلک دیگر دستاویزات بھی چیک نہیں کرتے اور نہ ہی امیدواروں کا ٹیلی فون پر انٹرویو کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مشکوک افراد کیلئے جعلی اسٹوڈنٹ ویزا حاصل کر کے برطانیہ میں داخل ہونا آسان ہو گیا ہے۔ ادھر برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ ویزا درخواستوں کی چیکنگ کیلئے ہمارے پاس دو سو سے زائد عملہ موجود ہے اور تمام درخواستوں کو باریک بینی سے چیک کیا جاتا ہے۔
ایک اخبار نے لکھا ہے کہ القاعدہ سے تحریک حاصل کرنے والے برطانوی انتہاپسند جنوبی لندن کی ایک مسجد کو بچوں کی بھرتی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ پھر انہیں دہشت گرد تربیت کیلئے منتخب کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی مرتبہ اندرون ملک ذرائع سے انکشاف کیا گیا ہے کہ 15سالہ حامد جس کا حقیقی نام کا اخبار نے ظاہر نہیں کیا، ان پچاس رنگروٹوں میں سب سے کم عمر اور کم تعلیم یافتہ تھا۔ یہ کم سن دہشت گرد خود کو ’’اسامہ بن لندن‘‘ کہا کرتا تھا۔
ابھی حال ہی میں امریکہ کے تھنک ٹینک ’’دی ہیریٹج فاؤنڈیشن‘‘ نے کہا ہے کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان بچوں کی جسمانی اور نظریاتی ’’دہشت گردی کی پائپ لائن‘‘ موجود ہے جسے توڑنا انتہائی مشکل مگر ضروری ہے۔ تھنک ٹینک کے مطابق بالغ افراد کے حوالے سے 2001 سے 2012 تک برطانیہ میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں سزا پانے والے ایک چوتھائی افراد کا تعلق پاکستان سے ہے۔ تھنک ٹینک نے برطانیہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے امیگریشن اور تعلیمی قوانین کو مزید سخت بنائے۔
تعلیم حاصل کرنے کیلئے سخت قوانین بنانے والے ملک برطانیہ کو شاید یہ علم نہیں کہ اس وقت دنیا میں سات کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے جنہیں اگر تعلیم دے دی جاتی تو لگ بھگ 18 کروڑ افراد کو غریبی کے دائرے سے نکالا جا سکتا تھا۔ لیکن ترقی پذیر ملکوں میں مالی بحران کی وجہ سے تعلیم کے شعبے میں بہتری نہیں آ سکی۔ اگر سائنسدان خوراک میں جنیاتی تبدیلی لا سکتے ہیں اور خلا تسخیر کر سکتے ہیں تو سیاستدانوں کو بھی ایسے وسائل ڈھونڈنے چاہئے کہ لاکھوں بچوں کو اسکول بھیج کر امکانی تبدیلی لائی جائے۔
اقوام متحدہ نے ایک دہائی قبل ایک رپورٹ میں نوید دی تھی کہ 2015 تک تمام بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے گا اور تمام سطحوں پر امتیازی پالیسی ختم کر دیا جائے گا۔ سابق برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن اقوام متحدہ کی اس تعلیمی پالیسی اور مہم کی اعلیٰ سطح کمیٹی کے رکن ہیں۔ وہ کم از کم برطانیہ میں تعلیم کے سلسلے میں بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ آئندہ پانچ برس میں سب کیلئے تعلیم کے خواب کو حقیقت میں بدل دیا جائے۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ برطانیہ ہی کے امیگریشن کے وزیر کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں جس تعداد میں غیر ملکی طلبا کو آنے کی اجازت دی جاتی ہے وہ ’’ناقابل برداشت‘‘ ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2009 میں جن افراد کو برطانیہ میں تعلیم کے حصول کیلئے ویزا جاری کیا گیا تھا ان میں22 فیصد تاحال برطانیہ میں ہی مقیم ہیں۔ اس لئے برطانوی حکام ورک پرمٹ پر برطانیہ آنے والے افراد کے معاملے پر بھی غور شروع کرنے والے ہیں۔ ان میں 40 فیصد افراد پانچ برس کے بعد بھی برطانیہ ہی میں رہائش پذیر ہیں ۔ برطانوی وزیر کا کہناہے کہ ’’ہم یہ نہیں مان سکتے کہ یہاں آنے والے ہر شخص کے پاس وہ صلاحیتیں ہیں جو برطانیہ میں موجود افراد میں نہیں‘‘۔ اعدادوشمارکے مطابق 2009 میں برطانیہ میں سکونت اختیار کرنے والے افراد کی تعداد 33 ہزار سے بڑ ھ کر ایک لاکھ چھیانوے ہزار تک جا پہنچی تھی جبکہ تعلیمی ویزوں پر بھی چالیس فیصد کا اضافہ ہو گیا تھا۔
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ برطانیہ میں پانچ یونیورسٹیاں دنیا کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ 2010-11 کی جامعات کی درجہ بندی کے مطابق دنیا کی دو سو بہترین یونیورسٹیوں میں 72 امریکہ میں ہیں جبکہ برطانیہ میں جسے پوری دنیا میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں دنیا کا قائد تصور کیا جاتا ہے دنیا کی سو بہترین یونیورسٹیوں میں سے صرف 14 یونیورسٹیاں ہیں اور پھر بھی اسے ’’گریٹ‘‘ برٹن کہا جاتا ہے۔