سات سروں کا پُل
- جمعرات 16 / اپریل / 2015
- 5227
خالد سلیمی کے اخباری کالموں پر مشتمل کتاب “ صوتی شبہیں “ کو شائع ہوئے زیادہ مہینے نہیں ہوئے لیکن کوئی دو ہفتے پہلے یہ کتاب آٹو گراف کے ساتھ مصنف نے مجھے عنایت فرمائی تھی ۔ کتاب میں چھپی تحریروں، پیش لفظ اور گلوکاروں اور آرٹسٹوں کی تصویروں کو دیکھتے ہوئے مجھے جون ایلیا یاد آ گئے ۔
ایک دن ریڈیو پر ایک پنجابی دھن سنتے ہوئے جون نے کہا :
“ آدمی وہاں تک ہے جہاں تک اُس کی آواز جاتی ہے ۔ وہ اپنی آواز کے ماورا معدوم ہے ۔ اگر میری اور تمہاری آواز گانے کے لیے موزوں ہوتی تو ہم دونوں پچیس برس تک تواتر کے ساتھ بغیر رُکے گاتے“ ۔
زندگی سات سروں کی متحرک اور رقصاں سمفنی ہے ۔ ہفتے کے سات دن سا ، رے ، گا ، ما ، پا ، دھا اور نی زندگی کے ساز کے سُر ہیں ۔ ان میں چھ سر کام کے ہیں اور ایک سُر آرام کا ۔ خالد سلیمی ایک عجیب ثقافتی معمار ہے جو براعظموں کے درمیان نغمگی کا صوتی پُل تعمیر کر کے سب قوموں اور نسلوں کو ایک دوسرے سے ملانا چاہتا ہے ۔
“ سات سُروں کا پُل “ ایک فنکارانہ تصور ہے ۔ اور اس کے پسِ پُشت جذبہ یہ کارفرما ہے کہ موسیقی کے ذریعے مُختلف نسلوں ، قوموں ، رنگوں اور عقیدے کے لوگوں کو آپس میں جوڑا جائے ۔ یہ ثقافتی ورلڈ آرڈر کا منصوبہ ہے جو امنِ عالم کے علم بردار ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ہر سال میلے کی شکل میں اپنی اسمبلی منعقد کرتا ہے ۔ ان تحریروں سے تاثر یہ ملتا ہے کہ مصنف کو پورا یقین ہے کہ گلے سے اڑتی تانیں اور سازوں سے بکھرتے سُر معاشرتوں کو انقلاب سے دو چار کر سکیں گے ۔
اس کتاب میں جو کالم منتخب کر کے شامل کیے گئے ہیں وہ افریقی ، امریکی ، یورپی، مشرقِ وسطیٰ اور برِ صغیر کے فنکاروں کے فن کا احاطہ کرتے ہیں ۔ میں اس کتاب میں دیر تک کسی چینی اور جاپانی آواز کو ڈھنوڈتا رہا مگر بے سود ۔ تاہم میرے لیے ہیری بیلا فونتے ، میکیس تھیودوراکیس ، وکٹر جارا ، ڈیانگو رائینہارٹ ، اود بوریٹزن ، مریم مکیبا ، لنٹن جانسن ، فیلہ انٹیکولاپو کٹی ، الفا بلونڈی اور نیما سیمون کے بارےمیں انتہائی معلومات افزا باتیں بڑی دل خوش کن تھیں ۔ مجھے اعتراف ہے کہ اس کتاب نے مجھے موسیقی کی دنیا کے ایسے ناموروں سے ملوایا ہے جو میرے لیے پچھلے ہفتے تک اجنبی تھے ۔
کتاب کا پہلا کالم لیڈی ڈے کے بارے میں ہے جو پاکستانیوں کے ترکِ وطن کر کے ناروے آنے سے پہلے ہی آواز میں تحلیل ہو چکی تھی ۔ یہ کالم لیڈی ڈے کے جس گانے کو بنیاد کر لکھا گیا ہے ، اُس کا پس منظر وہ گیت ہے جس کے بول کچھ یوں ہیں :
جنوبی درختوں پر عجیب پھل آتا ہے
پتوں پر بھی لہو اور جڑوں میں بھی لہو
جنوبی ہوائوں میں کالے جسم تھرکتے ہیں
کوکنار کے پودوں سے عجیب قسم کے پھل آویزاں ہیں
آبیل میرو پول کا لکھا یہ نغمہ بلاشبہ ایک ایسا طاقت ور پیغام ہے جو ہر سیاہ اور سفید دل کو چیرتا ہوا یکساں شدت کے ساتھ جسموں کے آرپار ہو جاتا ہے ۔ میں نے لیڈی ڈے کو کبھی نہیں سنا مگر اُس کی تصویر دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ سراپا نغمگی ہے اور جس شدت سے ڈوب کر گا رہی ہے اُس پر عالی جی کے دوہے یاد آتے ہیں :
جیسے سرسوتی کے گُن ہیں کام کلا سنگیت
جب کبھی لکھنا ، ایسے ہی لکھنا غزلیں ، دوہے ، گیت
جب کبھی گانا گاتے رہنا کھینچتے رہنا تان
اُس اِک تان کی آس میں جس میں کھنچ جائے گی جان
کتاب کی دوسری تحریر جان گربارک اور استاد فتح علی خان کے گیت اور سنگیت کا مشترکہ ارژنگ ہے ۔ میں نے اس دو آتشہ شراب کو بارہا پیا ہے اور سی ڈی کو سُنتے ہوئے میرا ذہن ہمیشہ رُڈ یارڈ کپلینگ سے کہتا رہا ہے کہ دیکھا ، “ یوں ملتے ہیں مشرق و مغرب ، یہ ہے نارویجین دیسی کشید “ ۔
تیسرا بڑا نام جس نے مجھے بہت کچھ یاد دلایا وہ ہے اُمِ کلثوم ۔ میں اور منیر نیازی عرب کلچر سینٹر میں اُمِ کلثوم کی ریکارڈ شدہ آواز کو سننے جایا کرتے تھے ۔ اُس کی آواز میں نیل کا بہتا پانی اور ابوالہوؒل بولتے سنائی دیتے تھے ۔ اُمِ کلثوم کی موت پر میں نے پنجابی میں نظم لکھی تھی جو روزنامہ “ امروز “ کے ادبی صفحے پر شائع ہوئی تھی ۔ اُمِ کلثوم سے پاکستان کا ایک خصوصی رشتہ یہ بھی تھا کہ اس نے اقبال کی مشہور باغیانہ نظم “ شکوہ “ کو عربی میں گایا تھا ۔ خالد نے ام کلثوم کے گیتوں کی روح میں اتر کر محبت ، چاہت ، اُمید اور نا امیدی کی نشان دہی بڑے فن کارانہ لفظوں میں کی ہے۔ خالد سلیمی چونکہ خود بھی ایک حوالے سے میوزک انڈسٹری سے وابستہ ہیں ، اس لئے اُن کا تجربہ اور عالمی گلوکاروں کی آوازوں کا جائزہ مجھ سے زیادہ وسیع اور عمیق ہے ۔
کتاب میں افریقی اور یورپی فن کاروں اور گلوکاروں کے علاوہ میرے بر کوچک کے جن چیدہ چیدہ فنکاروں کی صوتی شبہیں بنائی گئی ہیں اُن میں لتا منگیشکر ، ریشماں ، نصرت فتح علیخان اور عابدہ پروین شامل ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے موسیقی کی دنیا میں آواز کے تاج محل پر تاج محل تعمیر کئے ہیں ۔ اور سلیمی کا ان کے محاسن کو بیان کرتا قلم اس مختصر سی کتاب کے ایک سو سترہ صفحات میں دریا کو کوزے میں تو نہیں بند کر سکا مگر نارویجین قارئین کے لیے یہ کتاب اس کا ایک نادر تحفہ ہے ، جس پر خالد سلیمی تحسین کے مستحق ہیں ۔ خالد سلیمی ، صوتی شبہیں مبارک ہوں ۔
یہ کتاب میلہ اور سمورا کی مشترکہ پیش کش ہے جو بے حد خوبصورت ہے ۔