بچہ جمہورا نہیں گھومتا!

  • ہفتہ 18 / اپریل / 2015
  • 4539

دیہاتوں میں کمائی کا سب سے بڑا ہمیشہ سے کھیتی باڑی رہا ہے۔ اور کھیتوں میں محنت کر کے پورے سال کے لیے اناج جمع کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو پورا سال کھیت کو تہہ و بالا کرتے ہیں، دن رات ایک کر کے فصل بوتے ہیں اپنے پسینے سے اس فصل کی آبیاری کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی بمشکل سال کا اناج حاصل ہو پاتا ہے۔ یہ لوگ مزارعے کہلاتے ہیں۔

مزارع عام زبان میں کسان کو کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو پورا سال کھیتوں کا رخ تک نہیں کرتے ۔ سکون سے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں۔ تپتی دوپہروں میں ٹھنڈے مشروب پیتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ان کے گودام سال کے اختتام پر اناج سے بھر جاتے ہیں۔ اور ان گوداموں کے رکھوالے موچھوں کو تاؤ دے کے چارپائیوں پر اینٹھتے رہتے ہیں۔ دوسروں کی محنت سے پیدا کردہ اناج سے بھرے گوداموں کے مالکان زمیندار، نواب صاحب، صاحب بہادر، خان جی یا پھر چوہدری کہلاتے ہیں۔ بہر حال نام کوئی بھی ہو ان کا عملی کردار ایک ہی ہوتا ہے یعنی محنت کسی کی اور پھل کا مالک کوئی دوسرا۔

گاؤں یا دیہات کی زندگی میں زمیندار و مزارعے کے کردار بہت اہم ہوتے ہیں۔ پورے گاؤں میں چند ہی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو زمیندار کہلوانے کے اہل ہوتے ہیں لیکن مزارعے ان گنت ہوتے ہیں۔ ان زمینداروں کا سب سے اہم کام مزارعوں پر حکم چلانا ہوتا ہے۔ اور مزارعے اس لئے چوں چراں نہیں کرتے کہ بصورت دگر پھر سال بھر کے اناج سے محروم ہونا پڑے گا۔ اگر غلطی سے کسی غریب مزارعے کی خود اتنی ہمت بندھ جائے کہ وہ چوہدری کو یہ کہنے کی جرات کر لے کہ جناب اس سال اناج آپ نے کم دیا ہے تو چوہدری اپنے کارندے بھیج کر ناس کے کچے گھر کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں۔ مزارعوں کو زندگی بھر غلامی کرنی پڑتی ہے۔ اگر کسی مزارعے کی اولاد میں سے کوئی پڑھ لکھ کر اس نظام سے نکلنا چاہے تو اس کی راہ میں ایسے سپیڈ بریکر لگائے جاتے ہیں کہ اس بیچارے کو اپنی منزل کوسوں دور محسوس ہوتی ہے۔

عالمی تعلقات میں پاکستان کی حیثیت بھی اسی مجبور مزارع کی سی بنی ہوئی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر ڈاکٹر قرقاش کا بیان کسی زمیندار کے بیان کی مانند ہے ۔ اور ہماری دبی دبی سی وضاحت کسی مزارعے کی مسکینی کی آئینہ دار ہے۔ خلیج کے یہ چوہدری صاحبان اس خام خیالی میں ہیں کہ ان کے ممالک میں موجود لاکھوں پاکستانیوں کو وطن واپس بھیجا جا سکتا ہے۔ البتہ انہیں یہ ضرور سوچنا ہوگا کہ ان کے شہزادے اتنے سخت جان ہرگز نہیں ہیں کہ تپتی دھوپ میں اپنے محل خود تعمیر کر سکیں۔ ان میں 40 سنٹی گریڈ درجہ حرارت برداشت کرنے کی ہرگز ہمت نہیں ہے۔ ان کی سہل پسندی یقیناًپاکستانیوں کو وطن واپس بھیجنے میں مانع ہے۔ یہ پاکستان یا اس کے عوام سے محبت کا کوئی اظہار ہرگز نہیں ہے۔

پارلیمنٹ کی قرارداد کے بعد جیسا بیان اماراتی وزیر نے دیا ویسا ہی کچھ بیان عرب پارلیمنٹ کے چیئرمین نے بھی دیا ۔ ذرا غور کیجیے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ زور پاکستان پر ہی ہے۔ کم و بیش پچاس ممالک ایسے ہی جن میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ تو پھر زور پاکستان پر ہی کیوں؟ تمام خلیجی ممالک اسلحے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے بازی لے جانا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب اسلحہ خریداری میں چند بڑے ملکوں میں شامل ہوتا ہے۔ باقی عرب ممالک بھی اسلحہ ذخائر کے حوالے سے کسی سے کم نہیں ۔ لیکن دولت کی فراوانی ہے جس کی وجہ سے دوسروں سے کام لینے کی عادت اپنا لی گئی ہے۔

سعودی عرب سمیت تمام عرب ممالک کے پاس اسلحہ کے انبار تو ہیں لیکن ان کو چلانے والے سخت جان فوجی نہیں ہیں۔ اور پاکستان نہ صرف دنیا کی اہم ایٹمی قوت ہے بلکہ اس کی فوج کا شمار بھی دنیا کی طاقتور ترین افواج میں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ پورا سال پاکستانی فوج کسی نہ کسی محاذ پر نبردآزما رہتی ہے ۔ عرب ممالک کی دولت نے شاید ان کی سوچ کے دروازوں پر قفل لگا دیے ہیں کہ وہ ہمیں پارلیمنٹ کو بائی پاس کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ سہل پسندی کے خمار میں وہ توقع کر رہے ہیں کہ پاکستانی شہ رگ کی طرح قریب دشمن کے ہوتے ہوئے ایک اور دشمن بنا لیں اور دور آ کر ان کی مدد کریں۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ اب یہ حالات آ گئے ہیں کہ متحدہ عرب امارات بھی صرف اس وجہ سے ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے کہ وہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد کام کرتی ہے۔ یا یہ کہ ہمیں خطہ ء عرب سے مفت تیل مل جاتا ہے۔ اگر نا عاقبت اندیش حکمرانوں میں عقل ہوتی تو وہ ملکی وسائل پر انحصار کرتے ۔ سینڈک، ریکوڈک، گوادر کی ساحلی پٹی، مکران کے ساحلوں میں چھپے خزانوں کو تلاش کرنے پر توجہ دیتے تا کہ ہمارے صوبوں کے برابر ممالک ہمیں دھمکیاں نہ دیتے۔ اور ہم یہ کہنے کی جرات رکھتے۔ کہ تمام پاکستانی واپس بھی آ جائیں تو ہم سنبھال لیں گے ۔ لیکن ان کا ملک ضرور دیوالیہ ہو جائے گا۔

لیکن ہم ایسا نہیں کہہ سکتے ۔ کیوں کہ بچہ جمہورا ہمیشہ سے گھومتا آیا ہے۔ اب پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ: کہا گیا کہ بچہ جمہورا گھوم جا۔ اور بچہ جمہورا نے جواب دیا کہ نہیں گھومتا ۔ اور اس جواب نے کہیں قرقاشوں کے تن بدن میں آگ لگا دی ہے۔