گیم چینجر دورہ
- اتوار 19 / اپریل / 2015
- 4196
انتہائی اہم اتحادی ملک چین کے صدر ژی چن پنگ 2روزہ دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ فقرہ مشہور ہے کہ ” پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند ، سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی “ ہے۔ پچھلے ساٹھ سالہ دوستی کے اس دور میں دونوں ممالک نے کسی حد تک ان فقروں کو صداقت کا پیراہن دیا ہے۔
چین کے صدر کا دورہ اگرچہ دو روزہ ہے لیکن اس دوران ایسے تاریخی معاہدے طے پائیں گے جن کا اثر دونوں ممالک کی سلامتی اور معیشت پر تادیر رہے گا۔ وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے تحت 45ارب ڈالر مالےت کے معاہدوں میں سے 28ارب ڈالر مالیت کے منصوبے ایڈوانس سٹےج پر ہیں۔ چینی صدر چند منصوبوں کا سنگ بنےاد بھی رکھیں گے ۔ احسن اقبال کے مطابق چین پاکستان کو ایشیا کا ٹائےگر بنانے کا وعدہ پورا کرنے پر گامزن ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے تینوں روٹس پر یکساں کام ہورہا ہے اور حکومت کی اس حوالہ سے کوئی ترجیح نہیں۔
احسن اقبال نے چینی صدر کے دورہ کی افادیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پر تنقید کا در بھی بند نہیں ہونے دیا ۔ انہوں نے تحریک انصاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ روٹ کے حوالہ سے غلط تاثر دےنے والے ملک کے بدخواہ ہیں۔ جلنے والے جلیں ، پاکستان چین کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کے تمام منصوبے بہر صورت مکمل کرے گا۔
دورہ پاکستان کے موقع پر چینی صدر کے ہمراہ ایک بڑا وفد بھی ہے جس میں خاتون اول ،کابینہ کے سینئر اراکین اور کمیونسٹ پارٹی کے اعلی حکام شامل ہیں۔ چین کی بڑی کاروباری کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز بھی ان کے وفد میں شامل ہیں۔چینی صدر اس دوران اہم معاہدوں پر دستخط کریں گے۔ چینی صدر دورے کے دوران صدر پاکستان، وزیراعظم، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیئر مین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف سمیت ملک کی سیاسی قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ اطلاعات ہیں کہ چینی صدر ژی چن پنگ کو ملک کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ” نشان پاکستان ،، دیاجائے گا اور وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کرینگے۔
چینی صدر کا رواں سال کا یہ پہلا غیرملکی دورہ جبکہ گزشتہ 9 برس میں یہ چینی صدر کا پہلا دورہ پاکستان ہے۔ چینی صدر کا یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان دوستانہ تبادلوں کے سال کا سب سے اہم دورہ ہے ۔ یہ دورہ انہوں نے گزشتہ سال ستمبر کے دوسرے ہفتہ کے آغاز میں کرنا تھا لیکن اسلام آباد میں سیاسی بے چینی کے باعث دورہ ملتوی ہو گیاتھا۔ عالمی امور کے ماہرین صدر ژی کے دورے کو علاقائی تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔
اس امر میں کوئی مبالغہ نہیں کہ چین پاکستان کے ساتھ وسیع معاشی و اقتصادی تعاون کر رہا ہے۔ گزشتہ سال چین نے پاکستان کے ساتھ مختلف شعوبوں میں 42 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا اور اس ضمن میں دونوں ملکوں نے توانائی سے متعلقہ 19 سمجھوتوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے تھے۔ پاکستان کی تاریخ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔چین کا غیر معمولی تعاون یقینا پاکستان کیلئے بیش بہاتحفے سے کم نہیں۔
چین کی سرمایہ کاری پاکستان کے مختلف شعبوں کی ترقی اور توانائی بحران سے نجات دلانے میں معاون اور مدد گار ہو گی۔ چین کی طرف سے پاکستان میں توانائی کے بحران کے حل کے لئے منصوبوں کا آغاز اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے میگا پراجیکٹس کے دوررس نتائج سامنے آئیں گے۔ توقع ہے کہ 2017 کے آخر تک توانائی کے متعدد منصوبے مکمل ہو جائیںگے اور یہ دورہ پاکستان میں معاشی انقلاب کی نوید سعید ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاک چین دوستی اٹوٹ رشتوں میں بندھی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک نے ہر کڑے اور آڑے وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ ساٹھ کے عشرہ سے پاک چین دوستی مستحکم ہونا شروع ہوئی اور آج یہ دوستی عالمی برادری میں ایک ضرب المثل کا روپ دھار چکی ہے۔ پاک چین دوستی مزید مستحکم ہونے سے خطے میں استحکام آئے گا ۔
لیکن یہاں یہ کہنا بھی از حد ضروری ہے کہ پاکستان میں اتنے بڑے پیمانے پر معاشی سرگرمی کا آغاز گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا بحیثیت قوم وہ ہنر، وہ ٹیلنٹ اور اہلیت ہمارے پاس موجود ہے، جو اتنی بڑی معاشی سرگرمی کے لئے درکار ہے۔ پاک چین دوستی یقینا ضرب المثل بن چکی ہے مگر ہمیں بھی خود کو چینی قوم کی طرح محنتی اور کام سے لگن رکھنے والی قوم بنانا ہو گا تبھی ایک فلاحی ریاست کا خواب تکمیل پائے گا۔