بھارتی سیاست کے رنگ

  • سوموار 20 / اپریل / 2015
  • 4159

گزشتہ دنوں ملک عزیز ہندوستان میں رونما ہونے والے لوک سبھا الیکشن اور اس کے نتائج پر نظر ڈالیں تواخبار کے  قارئین کو اندازہ ہوگا کہ چند ماہ پہلے لوک سبھا الیکشن اور اس کے نتائج سے ملک میں اگر کوئی سب سے زیادہ فکر مند تھا تو وہ ملک کی اقلیتیں تھیں۔ اور یہ حقیقت بھی خوب عیاں ہو چکی ہے کہ ملک کی اقلیتوں کی فکر مندی بے معنی نہیں تھی۔

کیونکہ جس طرح ایک سال سے بھی کم عرصہ میں ہند وستان میں اقلیتوں کے ساتھ معاملہ کیا گیا ہے وہ کوئی ڈھکا چھپا نہیں ہے۔اُن کے خلاف کھلے عام منفی بیان بازیاں کی گئیں اورجاری ہیں۔ ساتھ ہی مختلف عنوانات کے تحت جن میں کبھی گھرواپسی کے نعرے سامنے آتے ہیں تو کبھی اقلیتوں کے خلاف ہندواکثریت کو متحد کرنے کے بیانات،کبھی ملک کے تمام باشندگان کو ہندو قرار دینے کا معاملہ اٹھایا جاتا ہے تو کبھی قانون کے دائرہ میں تبدیلی مذہب کے خلاف محاذ کھولنے کی بات کی جاتی ہے۔

کبھی نس بندی کروائے جانے کے دھمکی آمیز بیان سامنے آتے ہیں تو کبھی حق ووٹ سے محروم کرنے کی بات کہی جاتی ہے۔ اور ان تمام بیانات کے ساتھ مخصوص اقلیتی طبقہ کے مذہبی مقامات کی بے حرمتی کے واقعات بھی ہیں ۔یہ وہ باتیں ہیں جن کا اندازہ کسی حد تک ملک میں تقریباً 60%فیصد ووٹنگ کا31%حاصل کرنے والوں کے برسراقتدار میں آتے وقت ہی ہوگیا تھا۔ اس کے باوجود کچھ معصوم و ناداں ایسے بھی تھے جنہوں نے کل آبادی کے 15سے18فیصدحاصل کرنے والوں سے بہت سی مثبت توقعات وابستہ کی ہوئیں تھیں۔

شاید وہ توقعات اس بنا پر تھیں کہ جب کوئی ملک کا وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ یا اور کوئی اوردستوری ذمہ دار منتخب ہوتا ہے ، تو وہ نہ صرف اپنی پارٹی اور وابستگان کا بلکہ کل ملک کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ کل ملک کے شہریوں کے حق میں نہ صرف پالیسی و پروگرام مرتب کرے بلکہ پالیسی و پروگرام کے عمل درآمد میں رکاوٹ بننے والے افراد و گروہوں پر بھی شکنجہ کسے۔اخبارات و رسائل اور الیکٹرانک میڈیا کو دیکھنے و سننے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بظاہر اس سلسلے میں کچھ کوششیں بھی کی گئی ہیں۔برخلاف اس کے عمل و ردّ عمل سے کوئی ایسی شہادت پیش نہیں کی گئی ،جس سے دیکھی اور سنی جانے والی باتوں پر یقین کیا جا سکے۔

گزشتہ دنوں جب ملک میں لوک سبھا انتخابات کے نتائج نے کمزور طبقوں نیز اقلیتوں کو فکرمندی کے گھیرے میں لیا ہوا تھا ۔اس وقت ایک مضمون بعنوان “ ہندوستان کا بدلتا سیاسی منظرنامہ “ کے آخری پیراگراف میں راقم نے لکھا تھا کہ:اس موقع پر مسلمان ہند جو خصوصاً16؍مئی کے بعد ایک عجیب کشمکش میں مبتلا ہیں انہیں ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ آپ کا یہ طرز عمل آپ کی حیثیت کے لحاظ سے مناسب نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم اپنی حیثیت سے آج خود ہی واقف نہ رہے ہوں۔لیکن جس طرح انتخابی نتائج کے بعد نہ صرف ناکام افراد اور پارٹیوں نے ناکامی کا ٹھیکرا مسلمانوں کے سر پھوڑنے کی کوشش کی اور راست و بلاواسطہ انہیں مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے، وہ مناسب نہیں ہے۔

خود مسلمان بھی مسلم تنظیموں کے قائدین، علما کرام اور قائدین ملت کے فیصلوں کو برا بھلا کہنے سے نہیں چوک رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ ناکامی آپ کی ہوئی ہے یا اُن سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کی جن کی روٹی روزی ہی آپ کے توسل سے پہنچتی ہے؟گزشتہ دنوں اتر پردیش میں جب آپ نے بھر پور اکثریت کے ساتھ ایک پارٹی کو کامیاب کیاتھا تب آپ کو کیا فائدہ حاصل ہؤا ؟ واقعہ یہ ہے کہ ریاست میں کامیابی کے سال دوسال ہی گزرے تھے کہ مسلمان تقریباًسو سے زائد چھوٹے بڑے فسادات کی لپیٹ میں آگئے۔اور اب جب کہ وہ (لوک سبھا الیکشن میں ) ہار چکے ہیں توکیا ایسا بڑانقصان ہونے والا ہے جس سے آج تک آپ دوچار نہیں ہوئے؟

درحقیقت تقسیم تو وہ ہوئے ہیں اور انہیں ، ان ہی کے اعمالِ بد نے رسوا بھی کیا ہے۔اس سے آگے بڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف وہ اپنی غلطیوں کا اندازہ کر چکے ہیں بلکہ طرز عمل میں تبدیلی بھی لا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بہار کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے۔ توقع ہے اُن کو اپنی غلطیوں کے سدھارنے کے نتیجہ میں 2014کے اختتام تک ہونے والے بہار اسمبلی الیکشن میں ،آپ کے اپنے مؤقف پر برقرار رہنے کے باوجود ، نتائج میں بڑی تبدیلی سامنے آئے گی۔

یاد رکھیں ملک کا سیاسی منظر نامہ نہ صرف آج بلکہ گزشتہ 70سالوں میں لگاتار تبدیلی ہوتا رہا ہے۔ لیکن کامیابی سے ہمکنار وہی لوگ ہوئے ہیں جو ناکامیوں کے بعد بھی اپنے مؤقف پر جمے رہے، حوصلے بلندرکھے، لائحہ عمل میں تبدیلی کی اورکامیابیوں کے سراغ تلاش کرتے رہے۔

اس ایک اقتباس کی روشنی میں موجودہ حالات کا اگر جائزہ لیا جائےتو یہ بات خوب اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ جس طرح فی الوقت ملک کی چھ سیاسی پارٹیاں جنتا دل (یو)، سماج وادی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل، انڈین نیشنل لوک دل، جنتا دل (سیکولر) اورسماج وادی جنتا پارٹی ،سب مل کر ایک نئی پارٹی کے قیام کا اعلان کرتی نظر آرہی ہیں،دراصل یہ اُسی ناکامی کا ادراک ہے ،جس کی وجہ ایک سال پہلے آپ نہیں بلکہ وہ خودہی تھے۔

ایک زمانے میں یہ تمام جماعتیں اور اس کے سربراہان “ جنتا دل “ کا حصہ رہے ہیں۔ جو سنہ 1988 میں وجود میں آیا تھا۔ اسی مناسبت سے اسے جنتا پریوا ر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ 1988 میں جنتا دل کانگریس کے خلاف وجود میں آیا تھا اور تب اسے بی جے پی کا ساتھ ملا تھا۔ لیکن آج اسی جنتا پریوارکے اتحاد کی تمام کوششیں بی جے پی کے خلاف ہیں اور کانگریس کا ساتھ ملتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستانی سیاست کا ایک دور مکمل ہورہا ہے اور ایک نئے دور کا آغاز بھی ہواچاہتاہے۔وجود کو برقرار رکھنے کی سعی و جہد میں “ جنتا پریوار “ بہت حد تک تشکیل پاچکا ہے۔

اس کے باوجود دیکھنا یہ ہے کہ اس نئے دور میں آپ اپنا تشخص اوروجود برقراررکھنے کے کیا طریقے اختیار کرتے ہیں؟ تشخص و وجود کی عملی حصہ داری ہی آپ کی مذہبی،سیاسی،معاشی،معاشرتی اور خاندانی حیثیتوں کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بنے گی۔اوراس کی بنیادی کلید اسلام کوبطورایک مکمل نظام حیات پیش کرنے میں ہے۔یہ پیش کرنے کا عمل جہاں قولی ہووہیں عملی بھی ۔ ساتھ ہی طریقہ کار وہ اختیار کیا جائے جو اقدار پر مبنی ہو۔ جہاں رنگ، نسل، ذات اور معاشی پیمانوں سے اوپر اٹھ کر انسانی بنیادوں پر بنی آدم کی خیر خواہی عملی ریوں سے ثابت کردی جائے۔