یہ ہے بچو پاکستان
- سوموار 20 / اپریل / 2015
- 4722
جب بچپن میں چھٹیوں میں لیہ میں رہنے والی رشتے کی ایک ماسی سے ملنے جاتے تو بس ڈرائیور چند ایسے سٹاپوں پر بس روکتا جہاں گوتم والے درخت بوڑھ کے نیچے پانی کے نلکے لگے ہوتے تھے۔ مسافرون میں سے ایک نلکے کی ہتھی چلانا شروع کر دیتا اور دوسرے مسافر ایک ایک کر کے اپنے ہاتھوں کو پیالہ بنا کے پانی پیتے رہتے آخر میں ہاتھوں میں رہ جانے والے پانی کو اپنے منہ پر جھینٹوں کی طرح مارتے اور ایک لمبی سی “ ہا “ کہتے، بس میں آ کر سوار ہو جاتے۔
بی بی جی نے پانی کی صراحی بھر کرساتھ رکھی ہوتی مگر ہم بھی دوسرے مسافروں کی طرح اس بوڑھ کے نیچے لگے پانی کے نلکے سے پانی ضرور پیتے۔ مگر ہاتھوں کے پیالے کی بجائے گھر سے ساتھ لائے شیشے کے گلاسوں میں ۔۔۔۔ بس میں بیٹھتے ہی مسافر کہنا شروع ہو جاتے: “ لو جی جنی وی تہہ لگی ہوئے ایس نلکے دا ٹھنڈا پانی پی لو وریاں دی تہہ مُک جاندی اے “۔ ( جتنی بھی پیاس لگی ہو اس نلکے کا ٹھنڈا پانی پینے سے برسوں کی پیاس بجھ جاتی ہے) زور پانی پر نہیں بلکہ اس نلکے سے نکلنے والے “ ٹھنڈے پانی “ پر ہوتا۔ گھر میں آئے مہمانوں کو بھی پانی دیتے ہوئے بوری میں لیپٹی برف نکال کر جگ یا گلاس میں ڈال دیتے ۔۔ مگر اب تحقیق سے ایک اور بات نکل آئی ہے کہ پیاس کو ختم کرنے کے یہ ضروری نہیں کہ پانی ٹھنڈا ہو یا پیاس کے خاتمے کے لیے پانی کا ہونا ضروری ہے۔
گرم پانی کا لفظ ہم نے پہلی دفعہ شہر کے چائے خانوں میں سنا۔ جب جماعت اسلامی کے دانشور ہمیں بتاتے کہ روس ہمارے راستے گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا ہے اور پھر جب افغانستان کی فوج میں انقلابیوں نے بادشاہت کا تختہ اُلٹ کر وہاں انقلابی حکومت قائم کرلی اور جب امریکہ نے پاکستان کی مدد سے اس انقلابی حکومت کو ناکام بنانے کی کوششیں تیز کر دیں تو افغان کی انقلابی حکومت نے روس کو اپنی مدد کے لیے بلایا۔
بس پھر تو پی ٹی وی ، اخبارات اور سیاسی میگزینز میں دن رات اس بات کا شور پڑ گیا کہ روس گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا ہے ورنہ وہ اپنے آپ کو برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ اور افغانستان آنا اس کے اسی پروگرام کا حصہ ہے۔ ہر شام پی ٹی وی پر کوئی ریٹائیرڈ فوجی نقشے میز پر پھیلا کے روس کے گرم پانیوں تک پہنچنے کے منصوبے کا راز فاش کر رہا ہوتا۔ اور ساتھ بیٹھا باریش جہادی قران کی آیات پڑھ پڑھ یہ بات سمجھاتا کہ قرآن نے پہلے ہی اس بات کی طرف اشارہ کر دیا تھا کہ مسلمانوں پر اس طرف سے سفید جانوروں پر بیٹھے کچھ لوگ حملہ کریں گے۔ ( روس میں سفید ریچھ کثرت سے پائے جاتے ہیں)
امریکہ میں بیٹھے تھنک ٹینک کے لوگ پی ٹی وی پر سب منظر دیکھتے انگلیوں کو چوم کر آنکھوں کو لگاتے اور باریش جہادی کی بات کی تصدیق کرتے۔ پھر ہم نےامریکہ کی امداد سے روس کا گرم پانیوں تک پہنچنے کا خواب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چکنا چور کر دیا۔ اُس دن کے بعد ہم نے کل سے پہلے پھر کبھی گرم پانی کا لفظ نہیں سُنا تھا۔
امریکی صدر ہمارے شریکوں کے گھر آ کے چلے گئے مگر ہمارے گھر کی طرف نگاہ بھی نہ ڈالی۔ مگر ہمارے ساتھ ہمالیہ جیسی دوستی رکھنے والے چین کے صدر ہمارے ملک میں آ ہی گئے۔ چین پاکستان کے ساتھ اربوں کھربوں کے سمجھوتے کرے گا۔ کس کس شعبے میں کرے گا، اس کی تفصیل تو آپ کو ٹی وی چینلوں اور اخبارات سے مل ہی جائے گی۔ لیکن ایک بات جس نے مجھے یہ مضمون لکھنے پر مجبور کیا وہ خواجہ آصف کا ایک بیان ہے کہ: “ چین پاکستان میں سرمایہ کاری کر کے گرم پانیوں تک پہنچ جائے گا۔“
یہ ہے بچو پاکستان جہاں ایک وقت ہم روس کو گرم پانیوں تک پہنچنے سے روکنے کے لئے قران کی آیات کا حوالہ دے دے کر لوگوں کو جہادی بنا بنا کر روس کے خلاف لڑا رہے تھے۔ اور ایک وقت یہ ہے کہ ہم چین کی منتیں کر کے اسے گرم پانیوں تک پہنچا رہے ہیں۔