اماموں کی تربیت کے مغربی منصوبے
- منگل 21 / اپریل / 2015
- 4731
فرانس کی نیشنل انٹیلی جنس سروس کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ چارلی ہیبڈو کے بعد فرانس میں مقیم لاکھوں مسلمانوں و پاکستانیوں نے مغرب کے خلاف نفرت کا محاذ بنانے کے لئے انتہا پسندی کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ اس لئے فرانسیسی حکومت کو چاہئے کہ وہ فرانس میں مقیم پاکستانی کمیونٹی پر نظر رکھے اور ان کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرے تا کہ فرانس کو ان انتہا پسند عناصر حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔اس بیان کے ساتھ ہی فرانس بھر میں دہشت گردوں کے حملوں کے خدشے کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کو پہلے سے بھی سخت کر دیا گیا ہے۔ (جیوے جیوے پاکستان)
ڈچ اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق فرانسیسی اخبار ” لی فگارو “ نے انکشاف کیا ہے کہ چارلی ہیبڈو کے خلاف پیرس میں ہونے والے مظاہروں میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے کے بعد فرانس کو اس انتہا پسند گروہ سے خطرہ لاحق ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ مختلف راستوں سے پاکستانیوں کی فرانس میں آمدورفت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ انتہا پسند گروہوں کی فرانس میں زیر زمین سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہؤا ہے۔ اس حوالے سے پاکستانی انتہا پسند تنظیم لشکر طیبہ جسے پاکستان میں کالعدم قرار دیا جا چکا ہے کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے اخبار نے لکھا ہے کہ ان شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ فرانس میں رہنے والے پاکستانیوں نے مغرب کے خلاف اپنی نفرت کے اظہار کے لئے شدت پسندی ، انتہا پسندی اور دہشت گردی کا راستہ چن لیا ہے۔
دہشت گردی کی روک تھام کے لئے فرانس کی حکومت نے مختلف پبلک اور مصروف مقامات پر ویڈیو کیمرے اور دوسرے الیکٹرونک آلات نصب کئے ہیں۔ صرف دارالحکومت پیرس میں قریباً بیس ہزار ویڈیو کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پوسٹ آفس ، ریلوے اسٹیشن ، انڈر گراﺅنڈ ، مصروف شاہراہوں اور شاپنگ سینٹروں پر بھی اسی نوعیت کے کیمرے نصیب کر دئیے گئے ہیں۔ جن کی کل تعداد 25 ہزار سے زائد ہے۔ فرانسیسی انٹیلی جنس ایجنسی ، ڈی سی آر جی کے مطابق ہم پوری طرح چوکس ہیں اور حکومت اپنے فرائض کو بخوبی سمجھتی ہے۔
فرانس کی چھ کروڑ کی آبادی میں پچاس لاکھ سے زائد مسلمان ہیں جبکہ یہودی صرف چھ لاکھ ہیں۔ مسلمانوں کی یہ تعداد یورپ میں آباد کسی بھی ملک کے مسلمانوں سے زیادہ ہے۔ یورپی یونین کے ممالک میں 2 کروڑ سے زائد مسلمان رہتے ہیں۔ صرف فرانس میں 25 ایسی مساجد ہیں جن کا نظم و نسق انتہا پسند اسلامی گروپوں کے ہاتھ میں ہے۔ ان مساجد میں اشتعال انگیز تقریریں اور خطبے دئیے جاتے ہیں جو مسجدوں میں آنے والے نوجوانوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں کی طرح فرانس میں بھی مساجد کے پیش اماموں کو ماڈرن یا عصری تعلیم سے روشناس کروانے کی مہم زور پکڑ چکی ہے۔ کیونکہ امام حضرات یورپی معاشرہ اور بالخصوص فرانسیسی سوسائٹی کے بارے میں قطعی لاعلم ہیں اور بعض مذہبی حوالوں کے جواز میں غلط تاویلات پیش کرتے ہیں۔ فرانس میں حکومت کی جانب سے انہیں ” ٹریننگ “ کے عنوان سے مختلف لٹریچر کا مطالعہ کروایا جا رہا ہے۔
فرانسیسی حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق فرانس میں مساجد اور مسلم تعلیمی اداروں کے سربراہوں کے لئے اب اسلام کے مختلف مضامین کا مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک میں سیکولر ازم کی تاریخ کا مطالعہ کرنا بھی ضروری ہے۔ وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ” علما کرام “ کو جو مضامین پڑھائے جائیں گے ان میں بیرون ڈی موٹیک کے نظریات اور ابن کثیر کی تفسیر شامل ہو گی۔ ان مضامین کے علاوہ فرانسیسی مفکر ، دانشور اور ماہرین تعلیم ایسے مضامین کا انتخاب کریں گے جس سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی بو نہ آتی ہو۔ علاوہ ازیں توحید ، قانون شرعیہ کے اصول ، فقہ اور مختلف فکر کے علما کی تفاسیر قرآن بھی آئمہ حضرات کو مہیا کی جائیں گی۔ اس کا مقصد آئمہ حضرات اور علما کرام کی ” معلومات “ میں اضافہ کرنا اور ان کے اندر وسعت نظری پیدا کرنا ہے۔ اس دستاویزات کی تیاری میں حکومت فرانس کو عظیم فرانسیسی مفکر اور ریسرچ اسکالر پائر لاوی کا تعاون بھی حاصل ہو گا۔
دستاویز میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مساجد کے امام حضرات فرانسیسی معاشرے کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں اس لئے ان حضرات کو مختلف اسلامی موضوعات کی بنیادی معلومات مہیا کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ تا کہ وہ عہد حاضر کے تقاضے بخوبی پورے کر سکیں۔ اس کے علاوہ انہیں فرانسیسی زبان بھی سکھائی جائے گی تا کہ وہ قرآن و حدیث کی تعلیمات غیر عربی خواتین و حضرات اور فرانسیسی قوم تک بہتر انداز میں پیش کر سکیں۔ اماموں کو ملکی قوانین کے علاوہ فرانسیسی سماج کی روایات بھی سکھائی جائیں گی۔ فرانسیسی حکومت کا پروگرام دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں امام بننے والے حضرات کو دو سالہ کورس کروایا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں چھ ماہ کی خصوصی تربیت دی جائے گی۔
فرانسیسی وزیر داخلہ نے نیوز ایجنسیوں کو بتایا کہ مسلم اماموں کا فرانسیسی تہذیب و تمدن اور زبان پر عبور بے حد اہم مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ ٹریننگ بعض شہروں میں شروع بھی کر دی ہے جن میں پیرس، لیون اور مارسیل شامل ہیں۔ وزیر داخلہ نے اس بات سے اتفاق کیا کہ آسٹریلیا کی طرح فرانس کی یونیورسٹیوں میں بھی امام بننے کے خواہشمند طلبا کو سیکولر مضامین پڑھائے جائیں گے۔ اس طرح انہیں فرانسیسی تہذیب اور ثقافت سمجھنے میں مدد ملے گی اور اسلام میں رواداری کو فروغ ملے گا۔
یہاں میں یہ بات بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اماموں اور خطیبوں کو اس طرح کی تعلیم و تربیت دینے کے پروگرام کئی یورپی ممالک میں بے حد اہمیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ملکوں کے کئی سویلین کرسچین گروپ اماموں کو مغربی معاشرہ کی سیکولر طرز زندگی سکھانے والی تعلیم و تربیت اور ٹریننگ فراہم کرنے کی تجویز پر عمل کے لئے آگے آئے ہیں۔ انہوں نے اپنی خدمات حکومت کو پیش کی ہیں جس پر بعض مسلم گروپوں نے اعتراض بھی کیا ہے۔ ان گروپس کا کہنا ہے کہ مسلم علما اور مفکرین کو جو خاص مذہبی فرائض انجام دینے ہیں، مغربی تہذیب اور سیکولر ازم سکھانے اور انہیں عیسائی مکتبہ فکر کی جانب سے تربیت فراہم کرنے کی بات ناقابل فہم ہے۔
دریں اثنا ڈچ حکومت نے 20 صفحات پر مشتمل اپنی سفارشات جاری کی ہیں جن میں تجویز کیا گیا ہے کہ ہالینڈ میں اماموں اور مذہبی رہنماﺅں کو اپنے فرائض منصبی انجام دینے کے لئے ڈچ زبان اور ڈچ سوسائٹی کے بارے میں مکمل آگاہی ہونی چاہئے۔ ” جید علما “ کو مغربی معاشرے کے بارے میں آگاہی ہونی چاہئے یا نہیں؟ میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئے ، بے شک نہ میں عالم ہوں نہ فاضل ، نہ جید فقیہہ نہ مفتی ، نہ واعظ نہ مولوی ، نہ مفسر نہ شارح ، نہ امام اور نہ سواد اعظم۔