پاکستانی کرکٹ کا سیاہ دور
- جمعہ 24 / اپریل / 2015
- 4380
آج دنیا بھر میں موجود پاکستان کرکٹ ٹیم کے شائقین خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ پاکستانی قوم نے کرکٹ کی تاریخ میں ایسی ذلت آمیز شکست اور اس قدر بدترین کارکردگی نہیں دیکھی جس کا مظاہرہ ہماری ٹیم نے بنگلہ دیش میں کیا ہے۔ پاکستان کے سابق بہترین کرکٹرز نے بجا طور پر بنگلہ دیش کے ہاتھوں بدترین شکست کو کرکٹ کا سیاہ دور قرار دیا ہے۔
ایک عرصہ سے پاکستان کرکٹ ٹیم میں جاری مفادات کی جنگ نے ٹیم کا شیرازہ بکھیر رکھا ہے۔ مگر گزشتہ دو، تین دہائیوں سے کرکٹ بورڈ کے کرتا دھرتا چند مخصوص لوگ ہی چلے آ رہے ہیں ۔ نہ جانے ان لوگوں کے پاس ایسی کون سی ’’ گیدڑ سنگھی ‘‘ ہے کہ کرکٹ بورڈ کے ہر آنے والے پیٹرن انچیف ( وزیراعظم) کو رام کر کے یہ لوگ عوام کا خون جلانے کے لئے موجود رہتے ہیں۔
بنگلہ دیش میں پاکستان کرکٹ ٹیم بدترین کارکردگی کا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے ون ڈے سیریز کے بعد واحد ٹی ٹوئنٹی میچ میں کل کی بے بی ٹیم بنگلہ دیش کے ہاتھوں بری طرح شکست سے دوچار ہوئی ہے۔ اور بقول سابق کرکٹرز کے وہ دن دور نہیں جب پاکستان زمبابوے اور افغانستان کے ہاتھوں بھی ہزیمت کا شکار ہو گا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم اب رینکنگ میں بھی آٹھویں نمبر پر جا چکی ہے اور اس کی رینکنگ مزید گرتی ہے تو چیمپئنز ٹرافی کھیلنے کے لئے اسے کوالیفائنگ راؤنڈ میں جانا ہو گا، جو ذلت کی انتہا ہے۔ ورلڈ چیمپئن رہنے والی ٹیم کی اتنی بری کارکردگی پر پاکستان کرکٹ بورڈ ، کوچنگ اسٹاف اور کھلاڑیوں کی جانب سے پیش کیا گیا کوئی بھی جواز قابل قبول نہیں ہو گا۔
کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم بنگلہ دیش سے ایک روزہ میچوں کی سیریز ہاری ہے۔ جبکہ بنگلہ دیش کی ٹیم سولہ سال بعد پاکستان کو ایک روزہ میچ ہرانے میں کامیاب ہوئی۔ کرکٹ ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی کارکردگی پر پہلے ہی ماہرین نے بہت سے سوالات اٹھائے تھے۔ ان میں ٹیم کی سلیکشن، ٹیم کی بولنگ کارکردگی، بیٹنگ کے معیار اور فیلڈنگ کی کمزوریاں شامل ہیں۔ نیز کھلاڑیوں کی فٹنس ایک بہت بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔
ورلڈ کپ کے دوران بھی ٹیم کے ڈسپلن کے حوالے سے کئی معاملات سامنے آئے تھے۔ ٹیم کی مینجمنٹ کے طرز عمل پر بھی کئی امور جواب طلب رہے۔ چیف سلیکٹر معین خان کے کیسینو جانے کا معاملہ اور پھر کرکٹ بورڈ کی طرف سے ان کو وطن واپس بلانے کا فیصلہ بھی پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی کا باعث بنا تھا۔ ورلڈ کپ کے دوران کرکٹ ٹیم میں گروپ بندی اور کھلاڑیوں کے طرز عمل کا معاملہ بھی حیران کن تھا۔ بعض کھلاڑیوں کی طرف سے خود کو زخمی قرار دینے کے دعوے بھی میڈیکل چیک اپ میں غلط ثابت ہوئے۔
ورلڈ کپ میں ٹیم کی خراب کارکردگی کے بعد کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کے دورے کے لیے نئی ٹیم کا اعلان کیا۔ اس ٹیم کا کپتان نادرن سوئی گیس کمپنی کے کھلاڑی اظہر علی کو بنایا گیا۔ اظہر علی نے پاکستان کی طرف سے آخری ایک روزہ بین الاقوامی میچ تقریباً اڑھائی سال پہلے کھیلا تھا۔ اپنی پرفارمنس کی وجہ سے وہ ورلڈ کپ کے لیے ٹیم میں منتخب نہ کئے گئے مگر ورلڈ کپ کے بعد ٹیم کے سابقہ کپتان مصباح الحق کی سفارش پر اظہر علی کو ٹیم میں شامل کر کے کپتان بنا دیا گیا۔
بنگلہ دیش کے خلاف ایک روزہ میچوں سے پہلے بنگلہ دیش بورڈ الیون سے محدود اووروں کا میچ کھیلا گیا۔ پاکستان کی ٹیم 268رنز بنا سکی اور بنگلہ دیش بورڈ الیون نے وہ میچ بھی ایک وکٹ سے جیت کر خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔ یہ وہ موقع تھا جب پاکستان کرکٹ ٹیم اور اس کے تھنک ٹینک کو ہوش آ جانا چاہئے تھا۔ مگر روائیتی طور پر کسی قسم کی کوئی تیاری اور گیم پلان نہ بنا یا جا سکا اور نہ ہی میچز کے دوران کھلاڑیوں میں جیت کی لگن اور جوش و ولولہ دیکھنے میں آیا۔ لاکھوں روپے ماہانہ وصول کرنے والے کھلاڑی ایک عام کلب لیول کے پلیئر کی سطح کا کھیل بھی پیش نہ کر سکے۔
پاکستان نے تین ون ڈے میچز اور واحد ٹی ٹوئنٹی میچ میں جس پر فارمنس کا مظاہرہ کیا اسے ’’ کم از کم ‘‘ شرمناک ہی کہا جا سکتا ہے۔ اتنی بری شکست کے باوجود ٹیم کے کوچ وقار یونس فرماتے ہیں کہ کھلاڑیوں کی فٹنس کی جانب خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور ہار جیت کھیل کا حصہ۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ کھلاڑی دلبرداشتہ نہ ہوں۔ ( کھلاڑی دلبرداشہ نہ ہوں بھلے پوری قوم آنسو بہائے)۔ کپتان اظہر علی کا ارشاد ہے کہ اس شکست کی وجہ ٹیم میں نئے کھلاڑیوں کی شمولیت ہے۔ ٹیم تعمیر نو کے مرحلے سے گزر رہی ہے اس لئے شکست ہوئی۔ ہم نے اس شکست میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ آئندہ میچوں میں ہماری کارکردگی بہت بہتر ہو جائے گی۔ یہاں یہ کہنا درست ہو گا کہ شکست کی ذمہ داری اظہر علی پر نہیں ڈالی جا سکتی، بلکہ اس ہار کی ذمہ داری پوری ٹیم اور کوچنگ اسٹاف کے ساتھ کرکٹ بورڈ پر عائد ہوتی ہے۔
عوام کو بنگلہ دیش کے ہاتھوں کرکٹ ٹیم کی شکست پر شدید صدمہ پہنچا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کرکٹ بورڈ کے معاملات درست کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کرکٹ کے معاملات روز بروز تنزلی کی طرف جا رہے ہیں۔ ہاکی میں حکومت کی اسی بے اعتنائی اور معاملات سے لاتعلقی نے معاملہ ورلڈ کپ سے پاکستان کے باہر ہونے تک پہنچا۔ اب ہاکی فیڈریشن کو فنڈز کی اس قدر کمی کا سامنا ہے کہ فیڈریشن کے لئے ٹیم کو باہر بھیجنا بھی ممکن نہیں رہا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات بھی اصلاح کے منتظر ہیں۔ وزیراعظم جو کرکٹ بورڈ کے پیٹرن انچیف ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلہ میں فوری اور ہنگامی طور پر اقدامات کریں تاکہ کرکٹ کے معاملات کی اصلاح ہو سکے۔
یہ از حد ضروری ہے کہ ٹیم سے گروپ بندی کا خاتمہ کیا جائے۔ جو کھلاڑی گروپنگ کرتے ہیں کھیل کی بقا کے لئے ان کو مستقل طور پر ٹیم سے باہر کیا جائے۔ ٹیم کی سلیکشن میرٹ پر کی جائے۔ کرکٹ بورڈ کے تمام حالات کا جائزہ لیا جائے اور یہ انکوائری کی جائے کہ لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات لینے والوں کی کارکردگی کیا ہے؟ کرکٹ بورڈ کے عہدے داروں سے پوچھا جائے کہ ا ن کے فرائض کیا ہیں اور انہوں نے اپنی ذمہ داری کس حد تک پوری کی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں کرکٹ کے انفراسٹرکچر کی تباہی کا جائزہ لینا ہو گا کیونکہ کلب کرکٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ تعلیمی اداروں میں کرکٹ ختم ہو چکی ہے ۔ کلب، سکول اور کالج کرکٹ کی نرسری ہوتے ہیں۔ کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ اس نرسری سے کھلاڑی حاصل کرے مگر یہ نرسری ہی ختم کر دی گئی ہے تو اب کھلاڑی کہاں سے آئیں گے۔ اس حوالے سے تمام امور کی تحقیق کے بعد جامع لائحہ عمل اور روڈ میپ بنا کرکرکٹ کے امور کو دیانتدار اور پیشہ ور لوگوں کے حوالے کیا جائے تاکہ کرکٹ کا حشر بھی ہاکی جیسا نہ ہو اور پاکستان اپنا مقام دوبارہ حاصل کر سکے۔ اس حوالے سے ہمیں آسٹریلیا کے کرکٹ اسٹرکچر سے بہت کچھ سیکھنے کو مل سکتا ہے بشرطیکہ کوئی سیکھنا چاہے۔