سبین محمود کے لئے ایک موم بتی

  • ہفتہ 25 / اپریل / 2015
  • 11726

جب سے نائن زیرو کے دفتر پر رینجیر نے چھاپہ مارا ہے چینلوں کے ٹاک شو میں رینجرز کے گلے میں الفاظ کے ہار پہنانے والے سکہ بند صحافی ، دانشور ، تجزیہ نگار اورتنخواہ دار اینکرپرسن یہ جملہ کہتے نہیں تھکتے کہ  “ جب سے نائن زیرو پر چھاپہ پڑا ہے کراچی میں ٹارگٹ کیلنگ ختم ہو گئی ہے۔“

یہ بات شاید کسی حد تک درست بھی ہو۔ کیونکہ خاکی وردی کی بجائے شلوار قمیض پہن کر قتل کرنے والا قاتل ٹارگٹ کلنگ کی فہرست میں نہیں آتا۔ وہ تو ملک سے غیر محب وطن اور غداروں کا صفایا کر رہا ہے ۔بلوچستان اور ملک کے دوسرے حصوں سے غائیب ہو جانے والے افراد کے حق میں بلوچستان سے پیدل کراچی اور پھر کراچی سے اسلام آباد لانگ مارچ کرنے والا ماما قدیر ملک کا سب سے بڑا غدار ہے۔

میڈیا نے اس وقت بھی حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے اس غدار کے لانگ مارچ کو اگنور IGNORE کرتے ہوئے تین ماہ سے زیادہ مدت تک دن رات دو محب وطنوں کے لانگ مارچوں کی کوریج کی۔ جو خاکی وردی کے وعدے پر لاہور سے چلے اور اسلام آباد پہنچ کر لوگوں کو ہراگلے گھنٹہ، ہراگلے دن اور اگلے ہفتحہ خاکی انگلی کے اُٹھنے کی بشارتیں دیتے رہے۔

خاکی وردی والوں نے ماما قدیر کو بہت برداشت کیا۔ مگر یہ غدار اب اپنی غداری کو لے کر یو این او چل پڑا۔ اس کو وہاں جانے سے روکا گیا۔ تعلمی اداروں میں بیٹھے غداروں نے غدار ماما قدیر کو اپنی غداری کا قصہ سنانے کے لیے لمز میں بلایا لیا۔  محب وطن خاکی وردی فوری وہاں پہنچی اور طالب علموں کو اس غداری کے قصہ سُننے سے محفوظ کر لیا۔

مگر
غدار ہیں کہ ختم ہونے کو ہی نہیں آتے۔ ابھی لمز میں طالب علموں کو ان غداری کے قصوں سے محفوظ کیا تھا کہ کراچی میں اس غدار سبین محمود نے اپنی این جی او کے سمینار میں غدار ماما قدیر کو بلا لیا ۔
خاکی وردی اتار کر شلوار قمیض پہن کر غدار ماما قدیر کا صفایا کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے مگر اس کے ذریعے پہلے ملک کے دوسرے غداروں کا تو صفایا ہو جائے۔

حرم کی پاسبانی کے لیے کراچی سے لے کر پشاور تک ریلی نکل سکتی ہے
مگر
سبین محمود کی لاش پر چند این جی او ، سول سوسائیٹی ، ہیومن رائٹس کمیشن ، لبرل اور سیکو لرز کی چند موم بتیاں ہی روشن ہوں گی۔ گوکہ اوریا مقبول جان اور انصار عباسی جیسے لوگ ان موم بتیوں کو بھی اپنے تعصب کی پھونکوں سے بجھاتے رہتے ہیں مگر
نہ ان کی جیت نئی نہ اپنی ہار نئی

میرے یہ الفاظ بھی سبین محمود کی لاش پر جلتی موم بیتوں میں سے ایک موم بتی ہے۔