یمن کی بے مقصد جنگ
- اتوار 26 / اپریل / 2015
- 4281
کم و بیش ایک ماہ کی بمباری کے بعد سعودی عرب نے یمن پر حملے یعنی آپریشن Desicive Storm (فیصلہ کن طوفان) کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔عرب بادشاہوں اور شہزادوں یا شیوخ کو سمجھنا میری طرح کے بے وقوفوں کے بس کی بات نہیں۔ ہمارے پاس خوش قسمتی سے ایک شیخ رشید صاحب ہیں جو اکیلے ہی پارلیمنٹ میں پوری حکومت پر حاوی نظر آتے ہیں۔ جب وہ ہماری سمجھ میں نہیں آ سکے تو عرب شیوخ کیوں کر آ سکتے ہیں۔
ایک مہینہ پہلے جب یمن جیسے غریب ملک کی شامت آئی تھی تویہ کہا گیا تھا کہ فیصلہ کن طوفان کا مقصد مقامات مقدسہ کی حفاظت اور سعودی عرب کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے ۔ اب نہ جانے سعودی عرب یا مقامات مقدسہ کو کیا خطرہ تھا جسے ٹالنے کے لئے اربوں ڈالر اور محتاظ اندازہ کے مطابق ایک ہزار کے لگ بھگ غریب یمنیوں کی زنگدیاں لینا ضروری تھا۔ آپریشن شروع کرنے کے پہلے دن ہی یہ واویلا شروع کر دیا گیا کہ یہ جنگ مقامات مقدسہ کی حفاظت کی جنگ ہے جس پر وطن عزیز میں بھی تحفظ حرمین شریفین ریلیاں منعقد ہونا شروع ہو گئیں۔ میری طرح کے بے وقوف لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ریلیاں سعودی وزیر مذہبی امور کے دورہء پاکستان کے بعد سے زیادہ عروج پر پہنچیں۔
کچھ پاگل قسم کے تجزیہ کار یہ کہہ رہے تھے کہ سعودی آپریشن سے حوثیوں کے نقصان سے زیادہ القاعدہ اور دولت اسلامیہ کوفائدہ ہو رہا ہے۔ جواس آپریشن سے مضبوط ہو جائیں گے۔ کہیں یہ فضول سا نقطہ ہی صاحب بہادر نے سعودی عرب کے شاہ کے دل میں تو نہیں ڈال دیا؟ شاید اس نقطے سے یہی سوچ ابھری ہو گی کہ ایک دشمن جو ہمارے لئے خطرہ بھی نہیں اس کے لئے کاروائی کہیں ان کو مضبوط نہ کر دے جو ہمارے لیے خطرہ بھی ہیں۔ اور اس آپریشن کو ختم کرنے کی وجہ بھی شاید یہی بنی ہو گی کہ ایک ہادی کے لئے کہیں ایک ایسی جنگ کا آغاز نہ ہو جائے جو پورے خلیج کو اپنی لپیٹ میں لے جائے۔
سونے پہ سہاگہ یہ کہ حوثیوں کے ترجمان حسین الخیتی نے میڈیا پر آ کر یہ کہہ دیاکہ مقامات مقدسہ کی توہین کرنے کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ کیوں کہ بطور مسلمان ہمارے لئے بھی یہ مقامات اتنے ہی محترم ہیں جتنے کسی بھی اور مسلمان کے لئے ہو سکتے ہیں۔ اس بیان کے بعد سعودی عرب کا مقامات مقدسہ کی حفاظت کی خاطر جنگ کا جواز شاید بے معنی رہ گیا۔ اسی لئے آپریشن روکنے میں ہی عافیت تھی۔ سعودی عرب کے مطابق ایران حوثیوں کی حمایت کر رہا ہے۔ جب کہ ایران( بظاہر) انکار کرتا آیا ہے۔
اس بے معنی آپریشن کے بعد ایران اور سعودی عرب کے تعلقات بھی دوراہے پر آ گئے ہیں۔ بظاہر فیصلہ کن طوفان کا مقصد زنگ آلود ہوتے اسلحے کی مشق کے کچھ نظر نہیں آ رہا۔ اب اس بات کی کسے پرواہ ہے کہ اس مشق میں سینکڑوں غریب لقمہء اجل بن گئے جن کے خاندانوں کو نہ تو امداد ملے گی نہ ہی شاید ان کے پیاروں کی قبریں میسر آسکیں گی۔ حیران ہوں کہ وہ کون سے اہداف حاصل کئے گئے ہیں جن کا اعلان اتحادی افواج کے ترجمان نے آپریشن روکنے کے اعلان کرت ہوئے کیا۔
کیا ہدف غریب یمن کو مزید تباہ کرنا ہی تھا؟ کیا ہادی جیسے کمزور صدر کو دوبارہ اقتدار دلوانے کی کوشش ہی مقصد تھا؟ کیا جمع کے گئے اسلحے کو ٹیسٹ کرنا ہی بنیادی مقصد تھا؟ کیا مقصد خطے کے ممالک پر اپنی دھاک بٹھانا تھا؟ یا کیا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کرنا تھا؟
آخری الذکر مقصد حاصل کرنا شاید زیادہ اہم تھا۔ آپریشن کا مقصد شاید یہ باور کروانا تھا کہ ایران سے مذاکرات کے دوران ہمیں نظر انداز نہ کیا جائے۔ اسی لئے اپنی طاقت کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ حوثیوں سے مقامات مقدسہ یا سعودی عرب کی جغرافیائی سرحدوں کو تو شاید کوئی خطرہ نہ تھا، نہ ہو سکتا ہے لیکن اس آپریشن سے یہ تاثر ضرور سامنے آیا ہے کہ حوثی سعودی بادشاہت کے ضرور خلاف ہیں۔ کچھ سمجھ آنا شروع ہو گیا ہے کہ پاکستانی فوج کی شمولیت پر اصرار کیوں تھا۔ کیوں کہ ہماری فوج کا تجربہ ان سے کئی گنا زیادہ ہے ۔
ایک وسیع زمینی جنگ سے اجتناب کرنے کی وجہ یہ بھی ہو کہ پاکستان کی پارلیمنٹ فوجی آپریشن میں حصہ لینے کی راہ میں رکاوٹ بن گئی۔ کیوں کہ سعودی عرب کو شاید پاکستان سے ایسے سیاسی جواب کی توقع نہیں تھی۔ ان کا خیال تھا کہ جیسے حکومتی خاندان ان کااحسان مند ہے فوراً پاکستان مثبت جواب دے گا۔ اب جب پارلیمنٹ نے کہہ دیا کہ سعودی سالمیت یا مقامات مقدسہ کو خطرہ ہؤا تو پاکستان پیچھے نہیں ہٹے گا۔ تو مقامات مقدسہ کی حفاظت کا تو صرف شوشہ تھا۔ اصل مسلہ تو ایک کٹھ پتلی ہادی کا دفاع تھا ۔ جب یہ شوشہ نہ چل سکا تو صرف فضائی آپریشن تک ہی محدود ہونا پڑا۔
آپریشن روکنے کے اعلان پر سب سے زیادہ سکون پاکستان کو ملا کیوں کہ پاکستان کو نہ صرف سعودی عرب کی طرف سے دباؤ کا سامنا تھا بلکہ اندرونی طور پر بھی بعض دھڑوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا تھا ۔ سعودی عرب کو شاید یہ احساس بھی اب ہو جانا چاہیے کہ مقامات مقدسہ ہمارے لئے بھی اتنے ہی مقدس و محترم ہیں جتنے کسی سعودی کے لیے ہیں۔ لیکن ہم صرف کسی مخصوص پراپیگینڈے کی تکمیل کے لیے اپنی افواج کو کسی کی جنگ میں نہیں دھکیل سکتے ۔ مقامات مقدسہ کی حفاظت کا فریضہ ایک الگ معاملہ ہے جب کہ خطے پر بالادستی کے لئے جنگ ایک بالکل الگ معاملہ ہے۔ بے شک خاندانوں کے مراسم شاہی خاندان کے ساتھ ہیں لیکن یہ مراسم بھی پاکستان سے بڑھ کر نہیں ہو سکتے ۔