آج بھی بھٹو زندہ ہے!!!

  • اتوار 26 / اپریل / 2015
  • 5238

لیاری کے چھوٹے سے ککری گراﺅنڈ میں آدھا حصہ اسٹیج اور سکیورٹی انتظامات کی نذر، باقی بچا آدھا تو وہ گلشن حدید، سہراب گوٹھ، کیماڑی، لانڈھی، ٹھٹھہ، بدین، سجاول، حیدر آباد سے لائے گئے کارکنان سے بھرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے باوجود اکثر کرسیاں حالی ہی نظر آتی رہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری نے خطاب شروع کیا تو اس دوران کئی کارکنان اٹھ کر جلسہ گاہ سے باہر چلے گئے۔ ان سب باتوں کے باوجود، ایک ہی نعرہ

آج بھی بھٹو زندہ ہے!!!

پاکستان پیپلز پارٹی جو کبھی وفاق کی پارٹی ہوا کرتی تھی، ویسے پیپلز پارٹی کا دعویٰ تو آج بھی یہی ہے مگر کوئی اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ پنجاب ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں عام انتخابات ہوں یا کنٹونمنٹ کے بلدیاتی الیکشن، ایم کیو ایم جیسی کراچی اور حیدر آباد سمیت سندھ کے چند ایک شہروں تک محدود جماعت سے کہیں کم نشستیں حاصل کرنے کے بعد کون یہ بات مانے گا کہ پیپلز پارٹی وفاق کی جماعت ہے۔

بات وہیں سے شروع کی جائے کہ پیپلز پارٹی جو کبھی وفاق کی جماعت ہوا کرتی تھی، اس پر اتنا برا وقت کہ ایک چھوٹے سے ککری گراﺅنڈ میں جلسہ اور اس میں لیاری والوں کی عدم دلچسپی کا یہ عالم۔ لگتا ہے لیاری والوں کو سمجھ آ گئی ہے کہ بھٹو تو زندہ ہے مگر اس کی پارٹی کو دفن کر دیا گیا ہے۔ وہ پیپلز پارٹی جو کبھی مزدوروں یا عام شہری کی پارٹی ہوا کرتی تھی، وہ اب صرف کرپشن، نوکریاں بیچنے والی پارٹی بن کر رہ گئی ہے۔ اور کچھ ہو نہ ہو ، پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ایک کام ضرور کیا ہے، اپنے اردگرد لوگوں کو یہ ضرور سمجھا دیا ہے کہ ”ہر چیز قابل فروخت “ ہے۔ اب یہ تمہاری ہمت اور قابلیت ہے کہ تم اسے کیسے بیچتے ہو، پھر چاہے وہ سندھ کی زمین ہو یا پانی، درخت ہوں یا کھیت۔ لگتا ہے سندھ میں وہ وقت بھی آئے گا جب ہوا بھی قابل فروخت ہو گی اور پیپلز پارٹی کی قیادت ”بلیک“ میں اسے بیچا کرے گی۔

ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ لیاری میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سوا کون الیکشن جیت سکتا ہے۔ ذوالفقار بھٹو ہو یا بے نظیر بھٹو، ہر معاملے میں لیاری کے منتخب نمائندوں، پارٹی عہدیداروں کو اہمیت دیا کرتے تھے، ان سے مشورے لیتے تھے، مگر اب پیپلز پارٹی کے اجلاسوں میں شرکت تو درکنار، لیاری کا کوئی باسی بلاول ہاﺅس کی طرف منہ بھی نہیں کرتا ہے۔ چند ایک مفاد پرست عناصر کو چھوڑ کر لیاری میں پیپلز پارٹی کا نعرہ لگانے کیلئے کوئی نہیں بچا ہے۔ یہ وہی لیاری ہے جس میں اب لوگ پیپلز پارٹی کا جھنڈے بھی نہیں لگنے دیتے۔ کئی مقامات پر پیپلز پارٹی کے جھنڈے اتار نے کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی جانب سے لیاری میں پانی کی قلت کو تین ماہ کے اندر اندر ختم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ حالانکہ گزشتہ 7 برس سے بلا شرکت غیرے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور لیاری میں پینے کی پانی کا قلت کا مسئلہ 30 سے 40 برس سے چلا آ رہا ہے۔ لوگ پینے کے لئے پانی دور دراز علاقوں سے لاتے ہیں ، اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی سب کچھ برابری کی بنیاد پر چاہتی ہے، وہ تھر کے باسیوں اور کراچی والوں کے طرز رہائش میں کوئی فرق نہیں رکھنا چاہتی ہے۔اگر تھر کے باسی 4یا 5 کلو میٹر دور سے پانی بھر کر لاتے ہیں تو لیاری والوں کو بھی اسی اذیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔

 وزیراعظم نواز شریف، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، سابقہ ڈی جی رینجرز اور موجودہ آئی ایس آئی چیف جنرل رضوان اختر،کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر و دیگر افسران اور اہلکاروںکی محنت کا نتیجہ ہے کہ آج لیاری میں نو گو ایریاز ختم ہو چکے ہیں، گینگ وار کے کارندوں کی سیاسی چھتری ختم ہو چکی ہے، اکثر مارے جا چکے ہیں یا بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں۔ آج کوئی بھی بلا خوف و خطر لیاری جا سکتا ہے ورنہ آج سے دو برس پہلے تک صورتحال یکسر مختلف تھی۔

حالانکہ سندھ میں بلا شرکت غیرے گزشتہ 7 برس سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور پیپلز پارٹی نے انہی لیاری والوں کو گینگ وار کے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا۔ اپنے مفادات کی خاطر لیاری والوں کو استعمال کیا۔ کبھی ایک گروپ کو سپورٹ فراہم کی تو کبھی دوسرے کو۔ جس نے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی ، اسے نامعلوم افراد یا گینگ وار کے کارندوں نے موت کی نیند سلا دیا۔ اپنے جیالوں کو امن فراہم کرنے میں کبھی پیپلز پارٹی کی قیادت نے ذرا سنجیدگی نہیں دکھائی بلکہ ”لڑاﺅ اور حکومت کرو“ کے مصداق، لیاری میں گزشتہ دور حکومت کے دوران آئے روز مختلف گروہوں میں مسلح تصادم ہی ہوتے رہے جن میں درجنوں افراد نے اپنی جانیں گنوائیں۔ سہولیات کی فراہمی پر بات کی جائے تو پانی کا مسئلہ سر فہرست،بدامنی کے باعث کاروباری مراکز ، فیکٹریاں بند، سرکاری اسکولوں پر گینگ وار کا قبضہ ، حتیٰ کہ لیاری کے واحد بڑے میوہ شاہ قبرستان پر بھی قبضہ ، یعنی زندگی تو زندگی، موت کے بعد تدفین کیلئے مسائل کا سامنا۔

پیپلز پارٹی کو اب اس حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے۔ آصف علی زرداری نے لیاری کے لئے ایک ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا ہے جس میں لیاری کے لئے ہاﺅسنگ اسکیموں، پانی کے منصوبے، کالج وغیرہ شامل ہیںمگر یہ سب کچھ کرنا تو سندھ حکومت نے ہی ہے اور سندھ حکومت جیسے ”کام “ کرتی ہے، یہ تو لکھنے کی ضرورت نہیں۔ سندھ کیا پورے پاکستان بہت اچھی طرح جانتا ہے۔