انتہا پسندی کیوں اور کیا (1)
- سوموار 27 / اپریل / 2015
- 6552
یوں تو مواصلت کی ترقی کی وجہ سے دنیا اتنی مختصر ہو گئی ہے کہ اب مسائل کو سمجھنے اور ان کا تعین کرنے کے لئے انہیں کسی ایک خاص ملک ، خطہ ، معاشرہ حتیٰ کہ گروہ یا عقیدے تک محدود کرنا ممکن نہیں ہے۔ اکثر مسلمانوں کو اس بات پر بھی اعتراض رہتا ہے کہ دنیا اس وقت انتہا پسندی ، دہشت گردی اور ہولناکی کی جس صورتحال سے دوچار ہے، اسے آخر ان کے عقیدے سے کیوں جوڑا جاتا ہے۔ اس موقف کے مطابق جب مسلمان یہ کہہ رہے ہیں کہ انتہا پسندی سے ان کے عقیدے کا تعلق نہیں ہے اور یہ کہ اسلام ہر قسم کے ظلم کو مسترد کرتا ہے تو پھر بھی دہشت گردی کی موجودہ لہر کو اسلامی کہنے پر اصرار چہ معنی دارد ۔۔۔۔۔۔
اس حوالے سے سب سے زیادہ ٹھوس دلیل یہ دی جاتی ہے کہ قرآن میں واضح طور سے کہا گیا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اس لئے کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان تو کجا انسان کو بھی نقصان پہنچانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
بس قباحت یہ ہے کہ اس ٹھوس دلیل کی دھجیاں خود مختلف نوعیت کے مسلمان گروہ افغانستان سے لے کر نائیجیریا تک خود اپنے ہاتھوں سے اڑا رہے ہیں۔ اب آپ ہزار قرآن کا حوالہ دیجئے ، رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں بتائیے کہ وہ رحمت اللعالمین تھے اور اس بڑھیا کی عیادت کرنے کے لئے بنفس نفیس پہنچ گئے تھے جو روزانہ ان پر کوڑا پھینک کر اپنا کلیجہ ٹھنڈا کرتی تھی۔
یہ دلیل اب کام نہیں کرتی۔
اس کی سب سے بڑی وجہ خود مسلمان معاشروں ، اس کے رہنماؤں اور باشندوں کا کردار ہے۔ طالبان ، القاعدہ ، بوکو حرام یا داعش جیسے گروہ اس وقت تک قوت نہیں پکڑ سکتے جب تک لوگوں کے دل و دماغ میں ان کے لئے گنجائش ، ہمدردی یا نرمی موجود نہ ہو۔ ان گروہوں کے قائم ہونے سے لے کر قوت پکڑنے تک کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ ان میں عالمی سیاست کا جوڑ توڑ ، قومی علاقائی سیاسی لیڈروں کی ضرورتیں اور مختلف مذہبی فرقوں کے مفادات کو یقیناًعمل دخل حاصل ہے۔ لیکن جب ایک انتہا پسند ملا قتال اور جہاد کی باتیں کرتا ہے اور ہم اس کی دلیل کو مسترد نہیں کرتے اور اسے یہ ’’ غیر اسلامی ‘‘ کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں تو ہمارے ہاتھ خواہ کتنے ہی صاف ہوں ، ہم قرآن کی کتنی ہی شفاف تفسیر پر یقین رکھتے ہوں اور ہمارے تصور میں ہمارا رسول ؐ خواہ کتنا ہی مہربان ہو ۔۔۔۔۔۔ ہمارے گھروں میں اس نعرے کی گونج اور اس سبق کا اثر پہنچنا شروع ہو جاتا ہے جو اقتدار اور دولت کی حرص میں مبتلا ملاؤں اور ان کے پٹھوؤں نے سواد اعظم کو گمراہ کرنے کے لئے عام کرنا شروع کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے جسم پر بم باندھ کر دوسرے انسانوں کو مارنے والے بھی ہمارے بچے ہیں اور سڑکوں گلیوں پر لال مسجد کے ’’ شہیدوں ‘‘ کے خون کا انتقام لینے اور ’’ دختر ملت ‘‘ عافیہ صدیقی کو امریکہ کے عقوبت خانے سے واپس لانے کے لئے سروں پر کفن باندھ کر نعرے لگانے والے بھی ہمارے ہی گھروں کے نوجوان ہیں۔
میں نہیں جانتا کہ کتنے والدین اپنے بچوں سے یہ پوچھنے یا انہیں بتانے کی ہمت اور صلاحیت رکھتے ہیں کہ لال مسجد میں غیر قانونی طور سے ہتھیار جمع کرنے والے ، زلزلہ سے متاثر علاقوں کی یتیم بچیوں کی برین واشنگ کے بعد ان کے ہاتھ میں لٹھ پکڑانے والے اور پھر ان سب کو جمع کر کے ملک کی فوج کے مقابلے پر اترنے والے کیوں کر شہید یا راہ حق کے جاں نثار کہے جا سکتے ہیں۔
میں تو یہ جانتا ہوں کہ نہ تو ہمارے گھروں میں ماں باپ یہ فریضہ سرانجام دیتے ہیں ، نہ استاد یا مسجد کا امام یہ بتانے کی زحمت گوارا کرتا ہے کہ مملکت اور ریاست کے ان باغیوں کے لئے اسلام کے پاس کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اسی طرح کتنے لوگ بتا سکتے ہیں کہ عافیہ صدیقی کون ہے اور اچانک ایک مذہبی گروہ کی قیادت میں پروپیگنڈا کے زور پر اسے کس طرح تھوڑے ہی عرصے میں قوم کی بیٹی ، آبرو اور عزت کا مسئلہ بنا دیا گیا۔ کیوں ہمارے ملک کے تمام اکابرین اور سیاسی لیڈر اس عورت کے سیاہ ماضی اور پست مذہبی سوچ اور سرگرمیوں کو لوگوں کے سامنے لانے کی بجائے ۔۔۔۔۔۔ مسلسل یہ وعدے کرتے ہیں کہ اسے امریکہ سے واپس لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
پاکستان کی جو حکومت اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کی دعویدار ہے ، اسی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں یہ بات شامل ہے کہ امریکہ سے کسی بھی سطح پر بات چیت کرتے ہوئے عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ سرفہرست ہو گا۔ وہی حکومت جو اپنے ملک میں مذہبی انتہا پسندی ختم کرنے کے لئے آئین میں ترمیم کروا رہی ہے اور ایک جمہوری نظام میں فوجی عدالتیں قائم کرنے کی حامی ہے تا کہ دہشت گردوں کو فوری سزائیں دی جا سکیں ۔۔۔۔۔۔ امریکہ میں اسی حکومت کے حکم پر پاکستان کے خزانے سے لاکھوں روپے عافیہ صدیقی جیسی انتہا پسند کا مقدمہ لڑنے کے لئے صرف کئے جاتے ہیں۔ میں ایسے کسی پاکستانی ووٹر کو نہیں جانتا جس نے اپنے سیاسی نمائندوں سے یہ پوچھا ہو کہ ایسی حکومت کیوں کر انتہا پسندی کے خلاف کام کرنے میں حق بجانب ہو سکتی ہے جو انتہا پسندی کی تبلیغ اور پرچار کرنے والوں کی حفاظت اور قانونی دفاع پر غریب عوام کا پیسہ امریکہ کی عدالتوں میں لٹا رہی ہے۔
ان حالات میں کم از کم مجھ جیسا بے عمل تو یہ حوصلہ نہیں کر سکتا کہ یہ سوال اٹھانے کی جرات کرے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں ابھرنے والے دہشت گردوں اور ان کے پیغام کو اسلامی کیوں قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہو گا کہ ہم اپنے روزمرہ کے اطوار ، عمل اور صورتحال کا جائزہ لیں۔ جب انتہا پسندوں کو مسلمان معاشروں اور اجتماعات میں وسیع قبولیت حاصل ہے اور کسی نہ کسی وجہ سے لوگوں کا ایک یا دوسرا گروہ ، کسی ایک یا دوسری قسم کے انتہا پسند کے حق میں زندہ باد کا نعرہ بلند کرے گا تو دنیا اسے مسلمانوں کی آواز ہی سمجھے گی۔ کیونکہ یہ مسلمان معاشروں اور ہجوم میں سے بلند ہو رہی ہے ، جڑ پکڑ رہی ہے اور دنیا کو اپنی گرفت میں لینا چاہتی ہے۔
یہ عفریت اس قدر گھناؤنا ہو چکا ہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ کو آئین میں اکیسیویں ترمیم کرتے ہوئے ہمارے اردگرد پھیلی انتہا پسندی کو مذہبی انتہا پسندی قرار دینا پڑا۔ ان حالات میں اس بات پر ناراض ہونے ، اس پر کج بحثی کرنے اور ایسی دلیل لانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے جو ہمارے روزمرہ حالات سے لگا نہیں کھاتی۔ حقیقت یہ ہے کہ انتہا پسندی مسلمان معاشروں اور خاص طور سے پاکستانی سماج کی خاص پہچان بن چکا ہے۔ اب اس کی تردید کرنے یا اسے استعماری رویہ قرار دینے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ نہ ہی معذرت خواہانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے یہ دلیل دینے سے کام چلے گا کہ اسلام تو یہ نہیں سکھاتا۔ کیونکہ اس وقت اسلام کی یعنی ہمارے عقیدے کی صرف وہ شکل دنیا کے سامنے پوری شدت سے پیش کی جا رہی ہے جو انتہا پسند گروہوں نے گھڑی ہے۔ مسلمانان عالم گو کہ خود اس شدت پسندانہ مذہبی توجیہہ کا نشانہ بن رہے ہیں لیکن بد نصیبی کی بات ہے کہ ان کے زعما اس توجیہہ کا متبادل دنیا کے سامنے پیش کرنے میں ناکام ہیں۔ درحقیقت مذہبی رہنما خواہ وہ انتہا پسندی کا پرچار کرتے ہوں یا مخالفت ۔۔۔۔۔۔ اپنے طریقوں اور رویوں سے اسی شکل کو مجسم کرنے کا سبب بن رہے ہیں جو القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروہ بنا رہے ہیں۔ یہ شکل انسانی خون سے لبریز ہے اور اسلام کی مظلومیت کی داستان بھی سناتی ہے۔ جو عقیدہ خود اپنے پیرو کاروں کے ہاتھوں لہولہان اور بدنام ہو رہا ہو ، اس کی مظلومیت پر شبہ نہیں ہونا چاہئے۔
گزشتہ دنوں اتفاق سے میرے ہی شہر ملتان کے ایک گمنام شاعر آنس معین بلے سے تعارف ہوا۔ اس نوجوان شاعر نے 1986 میں دنیا کی یکسانیت سے تنگ آ کر خود کشی کر لی تھی۔ اس کا ایک شعر آج کی صورتحال کی تصویر کشی کرتا ہے:
ممکن ہے صدیوں میں نظر نہ آئے سورج
اس بار اندھیرا میرے اندر سے اٹھا ہے
سچی شاعری کی طرح یہ شعر ایک ایسی حقیقت کو آشکار کر رہا ہے جو اس وقت مسلمانوں کو بطور ملت اور اسلام کو بطور عقیدہ درپیش ہے۔ اس وقت انتہا پسندی اور دہشت گردی کی جو صورت ہم نے دنیا میں پیدا کر دی ہے ، اس کی ذمہ داری سو فیصد ہم پر عائد ہوتی ہے۔ عالمی سامراجی سیاسی ہتھکنڈوں نے اگر اس صورتحال کو پیچیدہ اور خراب کرنے میں کردار ادا کیا ہے تو بھی اس کی اصل ذمہ داری ہم ہی پر عائد ہو گی کیونکہ گزشتہ سو برس سے زائد کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے اس قسم کے ہر کھیل میں مسلمان ہی مہرے بنے، انہوں نے ہی خوں ریزی کا آغاز کیا اور پھر اسے عقیدے کا نام دے کر اپنے ظلم ، ناانصافی ، ہوس اقتدار اور انسان دشمنی کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کی۔
برصغیر سے لے کر مشرق وسطیٰ تک ، افریقہ سے لے کر افغانستان تک اس وقت جو گھپ اندھیرا ہمیں نظر آ رہا ہے وہ ہمارے لیڈروں کی حرص اور ہمارے لوگوں کی گمراہی کی وجہ سے عام ہوا ہے۔ اس تاریکی میں دیا جلانے اور اس کے خلاف صف آرا ہونے کی بنیادی ذمہ داری بھی ہم پر ہی عائد ہوتی ہے۔
اس کے برعکس ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان حکومتیں اور لیڈر اپنے اقتدار اور اثر و رسوخ کے لئے ایک کے بعد دوسرے ملک میں اندھیرے کو عام اور امید کو تمام کرنے میں مصروف ہیں۔
طالبان اور القاعدہ کا وجود اسی جاہ پسندی اور اقتدار کی بے پناہ خواہش کی کوکھ سے برآمد ہوا تھا۔ پاکستان کے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے اپنی سیاسی گدی کو مضبوط کرنے کے لئے امریکہ اور سعودی عرب کی دولت سے ان مجاہدین کو کھڑا کیا تھا جو اس وقت دنیا بھر میں پھیلی ہوئی دہشت گردی کی بنیاد بنے۔ افغانستان پر تسلط اور بھارت کے دانت کھٹے کرنے کی ناعاقبت اندیشانہ خواہش کے ہاتھوں مجبور ہو کر پاکستان نے طالبان کو جنم دیا اور القاعدہ کو پناہ دی اور پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا۔
لیکن ہمارے حوصلہ کی داد دینی چاہئے کہ جب 9/11 کے بعد القاعدہ کی تلاش شروع ہوئی اور اس کے لئے افغانستان پر حملہ کیا گیا تو ہم خود ہی ان عناصر کے خلاف صف آرا ہو گئے جن کو ہم نے ایک بے مقصد جنگ کے لئے عقیدے کی ایک گمراہ کن تشریح کی بنیاد پر کھڑا کیا تھا۔ لیکن یہ سارا کھیل کھیلتے ہوئے ہم بھول گئے کہ گمراہی اور تباہی کے راستے پر روانہ کی گئی نسل پورے معاشرے کو متاثر کرتی ہے۔ پھر اس سے دلیل اور عقل کی بات نہیں کی جا سکتی۔
اب ہم ضرب عضب کی چھتری تلے ان ٹھکانوں کو تباہ اور ان لوگوں کو ہلاک کر رہے ہیں جو خود ہم نے استوار کئے تھے۔ لیکن یہ زہر اب پہاڑوں میں بنے ٹھکانوں تک محدود نہیں ہے۔ اب یہ ایک قومی رویہ کے طور پر ملک بھر میں آباد ذہنوں میں سرایت کر چکا ہے۔ بدنصیبی سے ہم پر بے بصیرت اور جاہ پسند ٹولے کی حکومت ہے۔ اس لئے نہ اسکولوں کا سلیبس بہتر ہو رہا ہے ، نہ مدرسوں کی نگرانی سخت ہو رہی ہے اور نہ ہی ہمارا میڈیا ان عوارض کے خلاف صف آرا ہونے کے قابل ہے جو انتہا پسندی کو فروغ دینے کا سبب بن رہے ہیں۔ اس کے برعکس یہ تاثر عام کیا گیا ہے کہ فوجی قوت کی بنا پر قوم کی سوچ اور رہنے سہنے کا طریقہ کار بدلا جا سکتا ہے۔ یہ اپروچ اتنی ہی گمراہ کن ہے جتنا ہماری یہ حکمت عملی تھی کہ طالبان کے ذریعے ہم کابل کی حکومت کو زیر کر لیں گے لیکن اسلام آباد کا تخت محفوظ رہے گا۔ (جاری ہے)
(یہ مضمون 25 اپریل کو اوسلو میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے موضوع پر منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں پڑھا گیا تھا۔ اس سیمینار کا انعقاد پاکستانی تارکین وطن کی دو تنظیموں وژن فورم اور پاکستان فیملی نیٹ ورک نے کیا تھا)