علاج درد تیرے درد مند کیا کرتے
- سوموار 27 / اپریل / 2015
- 4500
سب سے پہلے تو آپ کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ فی الوقت پوری دنیا میں لگ بھگ 4 کروڑ افراد ایچ آئی وی وائرس کے ساتھ جیسے تیسے جی رہے ہیں۔
ایک نئی تحقیق کے مطابق تجرباتی ایچ آئی وی ویکسین کی مدد سے پہلی بار انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ یہ ویکسین پہلے سے موجود تجرباتی ویکسین کو ملا کر تیار کی گئی ہے جسے تھائی لینڈ میں 16 ہزار افراد پر آزمایاگیا ہے۔ ویکسین ٹرائل کا یہ اب تک کا سب سے بڑا تجربہ ہے ان 16 ہزار افراد کا رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات ویکسین بنانے والے ماہرین کو پیش کرنا، ایک نہایت ہی قابل تعریف و تحسین اقدام ہے کہ اس ویکسین نے ایڈز جیسی بیماری کو پھیلانے والے ایچ آئی وی وائرس کے انفیکشن کے خطرے کو ایک تہائی تک کم کر دیا ہے۔ اس تحقیق و ریسرچ کو اس سمت میں اب تک کی جانے والی بڑی کامیابی مانا جا رہا ہے۔ اس میں اٹھارہ سے تیس برس کی عمر کے نوجوان لڑکے لڑکیوں نے خود کو تجربہ کیلئے پیش کیا ۔جن میں ایچ آئی وی وائرس موجود نہ تھا۔
ایچ آئی وی ایڈز کا موذی وائرس دریافت ہونے کے بعد سے ایڈز کے مریضوں کی تعداد 4کروڑ کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے۔ اس موذی مرض میں مبتلا ہونے والے افراد کا زیادہ تعلق ایشیا اور مشرقی یورپ سے ہے۔ مندرجہ بالا تازہ ترین خبر کے مطابق بیس برس کی تحقیق کے بعد سائنسدان اور ڈاکٹر حضرات ایڈز کی ویکسین بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
گزشتہ صدی جہاں بہت سی ایجادات اپنے جلو میں لائی وہاں دنیا کو ایسے لاعلاج بھیانک اور خوفناک مرض کے بارے میں بھی آگاہ کیا، جس کو ایڈز کا نام دیا گیا۔ ایڈز مخفف ہے ان چار لفظوں کا Acqyured Immune Deviciency Syndrome ۔ اس خوفناک مرض نے دریافت ہونے سے لے کر اب تک تقریباً 3 کروڑ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ 2001 میں تیس لاکھ افراد کی ایڈز کی وجہ سے موت واقع ہوگئی اورآج 4 کروڑ سے زائد افراد ایڈز اور ایچ آئی وی پوزیٹو کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں سے 25 لاکھ افراد کا تعلق جنوب اور جنوبی مشرقی ایشیا سے ہے۔ ’’امریکن ایسوسی ایشن برائے سائنسی ترقی‘‘ (جس کاسالانہ بجٹ تین بلین ڈالر سے زیادہ ہے) کے صدر بالٹی مور نے کہا ہے کہ سائنس دان خاصے مایوس تھے لیکن مایوسی کا شکار نہیں تھے۔ سائنسدانوں نے ہار نہیں مانی اور نہ ہی اپنی کوششوں کو ترک کیا۔
امریکہ نے گزشتہ برس ایڈز کیلئے مختص رقم یعنی تین ارب ڈالر کے بجٹ کا 22 فیصد حصہ صرف ویکسین کی تیاری پر خرچ کیا۔ جبکہ دس سال قبل امریکہ میں ویکسین کی تیاری پر بجٹ کا صرف آٹھ فیصد حصہ خرچ کیا گیا تھا۔ حال ہی میں ایڈز ویکسین کے انسانوں پر تجربات کیلئے تھائی لینڈ میں ایک کیمپ منعقدکیا گیا۔ بدھ مت کے ایک مندر کے باہر لگائے گئے اس کیمپ کا انعقاد ایک گیم شو کی طرح ہؤا جس میں میزبان وہاں موجود لوگوں کو لاؤڈ اسپیکر پر کیمپ کی طرف آنے اور رضاکارانہ طور پر ایچ آئی وی ویکسین کو ٹیسٹ کرنے کیلئے کیمپ کے سامنے بنے اسٹینڈ پر آنے کی دعوت دیتا۔ وہاں ’’حصہ لیں گے‘‘ حصہ نہیں لیں گے‘‘ اور ’’غیر یقینی‘‘ جیسے نشانات بنے ہوئے تھے۔ ان لوگوں میں سے 16 ہزار افراد کو منتخب کیا گیا۔ گزشتہ چھ برس سے تھائی لینڈ میں اس طرح کے کیمپوں کا انعقاد ہو رہا تھا۔ ’’نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ‘‘ کی جانب سے شروع کردہ اس مہم میں 16 ہزار نوجوان لڑکے لڑکیوں نے ویکسین کا تجربہ کرا کے انسانیت کی بیش بہا خدمت کی ہے۔
عالمی یوم ایڈز کے موقع پر UNO کے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صحارا سے ملحقہ افریقی علاقوں میں ایڈز موت کی سب سے بڑی وجہ بن گئی ہے۔ وہاں عالمی سطح پر یہ بیماری دنیا کی چوتھی بڑی بیماری ہے۔ 14 سے 24 برس کی عمر کے ایک تہائی لوگ ایڈز میں مبتلا ہیں۔ لیکن ان میں سے بیشتر کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ اس موذی مرض کی جکڑ میں آ چکے ہیں۔
یاد رہے کہ ایڈز کی علامات (ایچ آئی وی پازیٹو) وائرس داخل ہونے کے کافی عرصہ بعد ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں۔ جو کہ 4 سال سے 7 سال کے عرصہ پر محیط ہو سکتی ہیں۔ حالیہ دریافت ہونے والی ویکسین کے بارے میں سائنسدانوں اور محققوں کا خیال ہے کہ تھائی لینڈ میں ایجاد ہونے والی ویکسین اس بیماری سے بچاؤ کا حقیقی طریقہ نہیں بلکہ بنیادی طور پر ایک ’’چال‘‘ ہے (یہاں یہ بات یاد رہے کہ انسانی جسم کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے) اس طریقہ کے مطابق وائرس یا اس کا ایک حصہ لے کر اسے ناکارہ بنا دیا جائے یا اس کے اسٹرکچر میں اس طر ح کی تبدیلی کی جائے کہ وہ انسانی جسم کو محسوس نہ ہو اور اسے نقصان نہ پہنچا سکے۔ بعد میں اس تبدیل شدہ وائرس کو انسانی جسم میں داخل کر دیا جائے اور انسانی مدافعتی نظام یہ سمجھے کہ کسی بیرونی وائرس نے حملہ کر دیا ہے اور وہ ایک ’’امیون‘‘ خارج کرے گا جو کہ حقیقی طور پر وائرس کے حملہ آور ہونے کی صورت میں جسم کا دفاع کرے گا اور یوں ’’دھوکہ دہی‘‘ سے ہم اپنے جسم کا دفاع کر سکیں گے۔
دنیا میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جنہیں ایڈز کے بارے میں ’’بنیادی معلومات‘‘ بھی نہیں ہیں لاطینی امریکہ میں ایڈز سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 15 لاکھ بتائی جاتی ہے۔ مشرقی یورپ ، وسطی افریقہ، مشرقی ایشیا میں ایسے لوگوں کی گنتی ایک اندازے کے مطابق 13 لاکھ سے زائد ہے۔ شمالی امریکہ میں7لاکھ، مغربی یورپ میں 6 لاکھ، شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں 5 لاکھ اور کیریبین علاقوں میں چھ لاکھ سے زائد افراد اس مہلک بیماری میں مبتلا ہیں۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد سب سے کم ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق یہاں صرف بیس ہزار افراد اس مرض سے متاثر ہیں۔
یہاں میں کسی ’’عالی سازش‘‘ کا ذکر کئے بغیر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سچ یہی ہے کہ تپ دق سے لے کر دمہ تک، ملیریا سے لے کر دماغی بخار تک، برڈ فلو سے لے کر سوائن فلو تک اور ڈینگو بخار سے لے کر ایڈز تک میں مبتلا ہونے والوں کی سب سے بڑی تعداد اسی تھرڈ ورڈ یا تیسری دنیا یا غیر ترقی یافتہ ممالک یا جو بھی آپ کہہ لیں میں پائی جاتی ہے۔ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی وجوہات میں اب صرف ’’ ناجائز جنسی اختلاط ‘‘ ہی نہیں ہیں بلکہ خون کی منتقلی کے دوران خراب خون کے شامل ہو جانے اور انجکشن کے خراب سرنج سے بھی یہ مرض منتقل ہو رہا ہے۔ آخر پر میں پھر امریکی سائنس دان پروفیسر بالٹی مور کا بوسٹن میں دیا ہؤا انٹرویو کا ایک اقتباس پیش کر کے آپ سے اجازت چاہوں گا۔
’’ہمیں ایڈز کو شکست دینے کیلئے کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈنا پڑے گا جسے گزشتہ چار ارب سال کے ارتقاء کے دوران انسانی جسم نے نہ سیکھا ہو، ہم آج کل یہی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔
بس اتنی عمر تھی اس سرزمین دل پہ میری
پھر اس کے بعد اسے وہم و خواب ہونا تھا