کیا ہم انسان بھی ہیں؟
- منگل 28 / اپریل / 2015
- 4304
ہم سب کب انسان تھے اور نجانے کس لمحے فیصلہ ہؤا کہ ہم یہودی ،عیسائی یا مسلمان ہیں ۔ چلیں یہاں تو کہانی کچھ سمجھ آتی ہے۔ مگر ایسا کب ہؤا کہ صرف ہم مسلمان اچھے ہوگئے اور یہودی، عیسائی، ہندو سب برے ہوگئے ۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقہ چک شہراد کی ایک گلی میں کل میرے گھر کے ساتھ والے اوپر والے پورشن میں ایک عیسائی فیملی آئی۔ گیٹ پر پٹھان فیملی نے معلوم کیا کہ وہ کون ہیں ۔ کون کا سوال لازمی تھا کیوں کہ آنے والی خاتون کا سٹائل ذرا ہم سے ذرا مختلف تھا۔ سوالات پر سوالات شروع ہوگئے ۔۔۔ جن میں سب سے پہلا سوال تھا کیا آپ مسلمان ہیں ۔۔۔ جواب تھا کہ نہیں ہم عیسا ئی ہیں۔
بس پھر کیا تھا مسلمان پٹھان خاتون کی ناک سکڑ گئی۔ اور حکم صادر کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا کہ عیسائی فیملی کو اپنے گھرجانے کے لئے گیراج سے گزرنا ہے تو ان کو گلی میں جوتے اتارنے ہونگے، کیوں کہ مسلمان پٹھان کا گھر ناپاک ہو جائے گا ۔ سانولے رنگ والی عیسائی خاتون سخت اذیت اور پریشانی کے باعث عجیب مخمصے کا شکار تھی کہ اب پہلے ہی دن گھر کی صفائی کرنی ہے اور یہ پٹھان گوری مسلمان خاتون اس کو اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہی ۔
کافی بحث کے بعد چار و ناچار اوپر پورشن میں جانے کی اجازت مل گئی۔ مگر اب اگلہ مرحلہ اور زیادہ خطرناک صورتحال اختیار کرگیا۔ جب معلوم ہؤا کہ اوپر کا پورشن دھویا جانا ہے تو گلی کے اندر جیسے طوفان آگیا کہ پلیت عیسائیوں کا پانی ہماری پاکیزگی کا خاتمہ کردے گا ۔
بڑے جھگڑوں کے بعد آخر کار گھر دھل گیا اور وہ عیسائی خاتون چلی گئی مگر پہلی بار میرے اندر یہ احساس جاگا کہ غربت کے ساتھ ساتھ اگر آپ پاکستان میں مسلمان بھی نہیں ہیں تو اپ کی اوقات ایک رینگنے والے کیڑے سے بھی معمولی ہے۔ کیونکہ اگر ہیلری کلنٹن، میڈونا یا اوباما جیسی کوئی ہستی ہماری گلی میں آتی تو اس کا شاندار استقبال کیا جاتا ۔ ہر گھر کی کوشش ہوتی کہ ان کو اپنے گھر بلا کر خاطر تواضع کرے۔ چلیں اگر وہ میڈونا اور اوباما نہ سہی تو ان کو بہرحال انگریزوں والی انگلش اور ٹوٹی پھوٹی اردو بولنے کا طریقہ آنا چاہئیے ورنہ ان کی کیا اوقات کہ وہ ہمارے ساتھ گلیوں میں رہ سکیں ۔
ہمارے معاشرے میں رچ بس جانے والے بے بنیاد عزت کے معیار اور تعصبات معاشرتی زندگی کو کھوکھلا کرتے جارہے ہیں۔ دوسری طرف یہ احساس برتری کی بیماری پیدا ہونے سے ہم خود ہی اسلام کے مساوات کے سبق کی مخالفت کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ اس طرح ہم اسلام کا مذاق بنانے کے علاوہ انسانیت کے پرخچے بھی اڑا تے ہیں۔ لیکن کسی کو نہ تو اس صورت حال پر اعتراض ہوتا ہے اور نہ ہی اس کا احساس۔
سب باتیں اپنی جگہ مگر بحیثیت مسلمان ہم دنیا میں اور آخرت میں اپنے لئے بہترین مقام کا دعوی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تو کیا یہ صرف اس وقت ہو پائے گا جب ہم اپنے عقیدے کی “ محبت “ میں ہر حد پار کرتے ہوئے آگ لگا کر اپنا فرض پورا کر لیں گے ؟ یا پھر معاشرے میں رہنے والے ہر رنگ و نسل اور عقیدے کے لوگ بھی محبت اور احترام کےحقدار ہیں۔ چلیں جناب محبت کو ذرا سائیڈ پر کردیتے ہیں مگر کیا سب کو مساوی عزت دی جاسکتی ہے ؟ ۔
کیا ہم جیسے لولا لنگڑا عقیدہ رکھنے والے مسلمان اللہ کی بارگاہ میں سرخرو ہو پائیں گے؟ اس طرح کے تمام سوالات خود سے کرکے اپنے معیار مقرر کرتے جائیں تاکہ کچھ نہ کچھ بہتری آسکے۔ ورنہ اس حقیقت کو دنیا کے سامنے آشکار کرنا ہمارے لئے بہت مشکل ہوجائے گا کہ اللہ اور رسول کی طے کردہ اسلامی تعلیمات ہماری بنائی گئی معاشرتی قدروں سے قدرےمختلف ہیں۔
ہمارے مذہب میں عربی کو عجمی اور گورے کو کالے پر فوقیت حاصل نہیں۔ سب برابر ہیں اور سب کی عزت اور قدر میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جانی چاہئیے ۔